چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

اگلے4 برسوں میں دنیا کے درجہ حرارات میں اضافہ ہوگا۔ سمندری شدید گرم ہونے سے ، طوفان اور قدرتی آفات کا خطرہ دنیا بھر میں بڑھے گا, سائنسدانوں
تاریخ :   15-08-2018

پیرس ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) اگلے 4 برسوں تک دنیا بھر میں موسم انتہائی گرم رہے گا۔یہ انتباہ سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق کے بعد جاری کیا ہے۔تحقیق کے مطابق غیر معمولی حد تک گرم موسم 2022 تک دنیا بھر میں عام رہے گا جس کے نتیجے میں جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات، قحط سالی اور انتہائی

 

درجہ حرارت وغیرہ کا سامنا ہوگا۔سائنسدانوں نے پیشگوئی کی ہے کہ سمندری پانی خشکی کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہوگا جس کے باعث سیلاب،، طوفان اور ایسے ہی دیگر واقعات کا خطرہ دنیا بھر میں بڑھے گا۔درحقیقت ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعات دنیا بھر میں عام لوگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔یہ نئی تحقیق حالیہ برسوں میں سامنے آنے والی تحقیقی رپورٹس میں نیا اضافہ ہے جن میں گرین ہاﺅس گیسز اور آلودگی سے درجہ حرارت میں اضافے کے خطرات پر روشنی ڈالی گئی۔

رواں برس دنیا کے مختلف ممالک میں سب سے زیادہ گرم موسم ریکارڈ کیا گیا، جیسے برطانیہ میں دہائیوں بعد درجہ حرارت 35.3 سینٹی گریڈ تک پہنچا جبکہ ہیٹ ویواتنے عرصے تک برقرار رہی کہ وہاں کی حکومت نے قحط سالی کی وزارت قائم کردی۔جاپان میں 57 ہزار سے زائد افراد ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوکر ہسپتال پہنچے جبکہ 90 اموات ہوئیں۔اسی طرح مشرقی کینیڈا میں ہیٹ ویو کے نتیجے میں 70 ہلاکتیں ہوئیں اور امریکا میں بھی 8 کروڑ افراد کو انتہائی

 

سخت درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑا، کراچی میں بھی ہیٹ اسٹروک کے نتیجے میں 65 اموات ہوئیِں۔سائنسی جریدے نیچر کمیونیکشن میں شائع تحقیق میں دنیا بھر میں ہوائی درجہ حرارت میں اضافے کے لیے ایک ماڈل کو استعمال کیا گیا۔۔فرانس کے ادارے سی این آر ایس، برطانیہ کی ساﺅتھ ہیمپٹن یونیورسٹی اور رائل نیدر لینڈز میٹرولوجیکل انسٹیٹوٹ کی مشترکہ تحقیق میں موسمیاتی تبدیلی کے 10 موجودہ ماڈلز کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ آنے والے برسوں میں زمین زیادہ گرم ہونے والی ہے، جس کے نتیجے میں گرین ہاﺅس گیسز اور انسانی ساختہ موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر بڑھ جائے گا۔محققین کا کہنا ہے کہ ہیٹ ویو سے انسانی اموات کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، عالمی درجہ حرارت بڑھا ہے اور ارضیاتی اثرات سامنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تحقیقی رپوٹس سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ درجہ حرارت بڑھنے سے دنیا بھر میں تشدد، جارحیت، جرائم، گھریلو تشدد، فسادات اور خانہ جنگی بھی بڑھی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کے سامنے سب سے بڑااعلان کردیا
ترک صدر اور عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کی ملاقات
Translate News »