دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG     جھوٹی گواہی دینے پر کاروائی کی جائے گی،عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں,۔چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG    

اگلے4 برسوں میں دنیا کے درجہ حرارات میں اضافہ ہوگا۔ سمندری شدید گرم ہونے سے ، طوفان اور قدرتی آفات کا خطرہ دنیا بھر میں بڑھے گا, سائنسدانوں
تاریخ :   15-08-2018

پیرس ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) اگلے 4 برسوں تک دنیا بھر میں موسم انتہائی گرم رہے گا۔یہ انتباہ سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق کے بعد جاری کیا ہے۔تحقیق کے مطابق غیر معمولی حد تک گرم موسم 2022 تک دنیا بھر میں عام رہے گا جس کے نتیجے میں جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات، قحط سالی اور انتہائی

 

درجہ حرارت وغیرہ کا سامنا ہوگا۔سائنسدانوں نے پیشگوئی کی ہے کہ سمندری پانی خشکی کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہوگا جس کے باعث سیلاب،، طوفان اور ایسے ہی دیگر واقعات کا خطرہ دنیا بھر میں بڑھے گا۔درحقیقت ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعات دنیا بھر میں عام لوگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔یہ نئی تحقیق حالیہ برسوں میں سامنے آنے والی تحقیقی رپورٹس میں نیا اضافہ ہے جن میں گرین ہاﺅس گیسز اور آلودگی سے درجہ حرارت میں اضافے کے خطرات پر روشنی ڈالی گئی۔

رواں برس دنیا کے مختلف ممالک میں سب سے زیادہ گرم موسم ریکارڈ کیا گیا، جیسے برطانیہ میں دہائیوں بعد درجہ حرارت 35.3 سینٹی گریڈ تک پہنچا جبکہ ہیٹ ویواتنے عرصے تک برقرار رہی کہ وہاں کی حکومت نے قحط سالی کی وزارت قائم کردی۔جاپان میں 57 ہزار سے زائد افراد ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوکر ہسپتال پہنچے جبکہ 90 اموات ہوئیں۔اسی طرح مشرقی کینیڈا میں ہیٹ ویو کے نتیجے میں 70 ہلاکتیں ہوئیں اور امریکا میں بھی 8 کروڑ افراد کو انتہائی

 

سخت درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑا، کراچی میں بھی ہیٹ اسٹروک کے نتیجے میں 65 اموات ہوئیِں۔سائنسی جریدے نیچر کمیونیکشن میں شائع تحقیق میں دنیا بھر میں ہوائی درجہ حرارت میں اضافے کے لیے ایک ماڈل کو استعمال کیا گیا۔۔فرانس کے ادارے سی این آر ایس، برطانیہ کی ساﺅتھ ہیمپٹن یونیورسٹی اور رائل نیدر لینڈز میٹرولوجیکل انسٹیٹوٹ کی مشترکہ تحقیق میں موسمیاتی تبدیلی کے 10 موجودہ ماڈلز کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ آنے والے برسوں میں زمین زیادہ گرم ہونے والی ہے، جس کے نتیجے میں گرین ہاﺅس گیسز اور انسانی ساختہ موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر بڑھ جائے گا۔محققین کا کہنا ہے کہ ہیٹ ویو سے انسانی اموات کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، عالمی درجہ حرارت بڑھا ہے اور ارضیاتی اثرات سامنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تحقیقی رپوٹس سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ درجہ حرارت بڑھنے سے دنیا بھر میں تشدد، جارحیت، جرائم، گھریلو تشدد، فسادات اور خانہ جنگی بھی بڑھی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کے سامنے سب سے بڑااعلان کردیا
ترک صدر اور عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کی ملاقات
Translate News »