جرمنی کے شہر فرینک فرٹ میں کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کا بھارت مخالف مظاہرہ     No IMG     سری نگر کشمیریوں کی شہید مزاحمتی لیڈرکے جنازے میں شرکت، کرفیو توڑ دیا     No IMG     بریگزٹ معاہدے پر رائے شماری کے لیے خصوصی اجلاس جاری     No IMG     بارسلونا میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان پر تشدد جھڑپ     No IMG     حکومت کا انصار الاسلام کو کالعدم قراردینے کا فیصلہ     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی تشکیل     No IMG     برطانوی شاہی جوڑا پاکستان کا 5 روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہوگیا     No IMG     امریکہ نے یورپی یونین کی دھمکیوں کے باوجود ایئربس سمیت دیگر مصنوعات پر 7 ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کا ریکارڈ ٹیرف نافذ کر دیا۔     No IMG     وزیر اعظم کی علماء سے تعاون کی اپیل     No IMG     برطانوی ولی عہد شہزادہ ولیم اپنی اہلیہ کیٹ مڈلٹن کے ساتھ آج پاکستان کا دورہ کریں گے     No IMG     ہالینڈ اور جرمنی سمیت فرانس نے بھی ترکی کو اسلحہ کی فروخت کو معطل کر دی     No IMG     اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں 5.8 کی شدت کا زلزلہ     No IMG     وزیر خارجہ کی قطری وزیر خارجہ سے ملاقات     No IMG     اسلام آباد برطانوی خاتون سے مبینہ زیادتی کے الزام میں پولیس اہلکار کو گرفتار کرلیا گیا۔     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جو بن سکا کروں گا     No IMG    

اٹلی

  • اٹلی میں کسی بھی مذہب کو گالی دینے پر کم از کم سزا 400 یورو (7/29/2019)

    ساؤنار( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو – 29 جولائی2019ء)شمالی اٹلی کے ایک چھوٹے سے شہر میں مقامی حکومت کی طرف سے منظور کردہ ایک نئے قانون کے مطابق آئندہ کسی بھی مذہب کو گالی دینے والے کسی بھی شہری کو سخت سزا دی جا سکے گی۔ جرمانے کی یہ سزا کم از کم بھی چار سو یورو ہو گی۔
    اطالوی دارالحکومت روم سے ملنے والی نیوز ایجنسی کے این اے کی رپورٹوں کے مطابق شمالی اٹلی کے شہر ساؤنارا (Saonara) کی بلدیاتی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ جو کوئی بھی کسی عوامی جگہ پر یعنی کسی بھی عقیدے کے پیروکاروں کے لیے مقدس شخصیات کو کوئی گالی دیتے ہوئے ان کی اجتماعی یا انفرادی توہین کا مرتکب ہو گا، اسے کم از کم بھی 400 یورو جرمانہ کیا جا سکے گا۔
    اطالوی اخبار ‘کوریئرے دَیل وَینیتو‘ نے آج اپنی جمعہ 26 جولائی کی اشاعت میں لکھا کہ ایسی سزائیں سناتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کوئی مذہبی نوعیت کی گالی کس مذہب کے خدا یا مقدس شخصیت کو دی گئی تھی۔ مزید یہ کہ اگر اس ‘جرم‘ کا ارتکاب کوئی نابالغ فرد کرے گا، تو اسے سنائی جانے والی جرمانے کی سزا کی ادائیگی کے پابند اس کے والدین ہوں گے۔
    اخبار کے مطابق ساؤنارا کے منتظم بلدیاتی ادارے کے ارکان نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ ایک تو انہیں شہر میں مذہبی معاملات کے حوالے سے عمومی اخلاقیات کے گرتے جانے پر تشویش تھی اور دوسرے اس اقدام کا مقصد عام لوگوں کو اس دکھ سے بچانا بھی ہے، جو انہیں کسی بھی مذہب کو دی جانے والی کوئی گالی سن کر محسوس ہوتا ہے۔
    کے این اے نے اس بارے میں شہر کے میئر والٹر اشٹیفان کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے، ”اس نئے بلدیاتی ضابطے کا مقصد ان مسلسل بڑھتی ہوئی عوامی شکایات کا تدارک بھی تھا، جن کے مطابق شہر کے مختلف پارکوں میں شام کے وقت جو نوجوان اکثر جمع ہو جاتے ہیں، ان کی آپس کی گفتگو میں سنائی دینے والی مذہبی نوعیت کی گالیاں شہر کے مجموعی اخلاقی ماحول کو بھی خراب کر رہی ہیں۔‘
    ساؤنارا کے میئر نے کہا، ”کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں تو ایسے بھی ہوتے ہیں، جو ہر دو لفظ بولتے ہوئے درمیان میں کوئی نہ کوئی گالی ضرور دیتے ہیں۔‘‘ میئر والٹر اشٹیفان کے الفاظ میں، ”اس نئے مقامی قانون کا مقصد لوگوں کو اخلاقیات کا کوئی درس یا خطبہ دینا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ عوام کی بنیادی تربیت اور پرورش مناسب ہو، ایک ایسا پہلو جسے عرصہ ہوا نظر انداز کر دیا گیا تھا۔
    میئر اشٹیفان کے الفاظ میں، ”اپنے گھر میں جس کا جو جی چاہے، وہ کر سکتا ہے۔ لیکن عوامی مقامات پر اب ہر کسی کو اس بات کا دھیان رکھنا ہو گا کہ وہ کس بارے میں کیا کہہ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ”بات کسی ایک مذہب کی نہیں بلکہ تہذیب اور ثقافت کی ہے۔ ذکر چاہے اللہ کا ہو، پیغمبر اسلام محمد کا، بدھا کا، یسوع مسیح کا یا کنواری مریم کا، اب پبلک میں کسی بھی عقیدے کو اور کوئی بھی مذہبی گالی نہیں دی جا سکے گی۔‘‘

    ساؤنارا کے شہریوں کو اس نئے قانون سے باخبر کرنے کے لیے بلدیاتی انتظامیہ نے ‌اطالوی اور انگریزی کے علاوہ ان چند دیگر زبانوں میں بھی بہت سے پمفلٹ چھپوا لیے ہیں، جو اس شہر کے رہائشی اپنے اپنے گھروں میں مادری زبانوں کے طور پر بولتے ہیں۔

Translate News »