بلاول جیل گئے توتحریک چلاوں گا:شیخ رشید     No IMG     ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں پاکستانیوں اور کشمیریوں کا بھارت کے خلاف مظاہرہ     No IMG     برطانوی پارلیمنٹ کے 45 ارکان نے کشمیر پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط     No IMG     مکہ مکرمہ میں غلاف کعبہ تبدیل کرنے کی روح پرور تقریب     No IMG     افریقی ملک تنزانیہ میں آئل ٹینکر میں دھماکے سے 57 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی     No IMG     بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا جواب دیاجائیگا،میجر جنرل آصف غفور     No IMG     اپوزیشن نے سلیکٹڈ وزیراعظم اور اس کی حکومت کوماننے سے انکار کردیا۔     No IMG     مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کیس میں 21 اگست تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے     No IMG     وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اہم سفارتی مشن پر چین پہنچ گئے     No IMG     نیب قانون کا یہ مطلب نہیں کہ جیسے چاہیں استعمال کریں، چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کهوسہ     No IMG     سابق صدر نے حکومت کی بینڈ بجا دی     No IMG     اسلام آباد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس چیلنج کردی     No IMG     اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار     No IMG     بھارتی لوک سبھا میں مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا بل منظور     No IMG     مقبوضہ کشمیرسے بھارتی قبضہ ختم کرانا سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے، ملیحہ لودھی     No IMG    

اٹلی

  • اٹلی میں کسی بھی مذہب کو گالی دینے پر کم از کم سزا 400 یورو (7/29/2019)

    ساؤنار( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو – 29 جولائی2019ء)شمالی اٹلی کے ایک چھوٹے سے شہر میں مقامی حکومت کی طرف سے منظور کردہ ایک نئے قانون کے مطابق آئندہ کسی بھی مذہب کو گالی دینے والے کسی بھی شہری کو سخت سزا دی جا سکے گی۔ جرمانے کی یہ سزا کم از کم بھی چار سو یورو ہو گی۔
    اطالوی دارالحکومت روم سے ملنے والی نیوز ایجنسی کے این اے کی رپورٹوں کے مطابق شمالی اٹلی کے شہر ساؤنارا (Saonara) کی بلدیاتی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ جو کوئی بھی کسی عوامی جگہ پر یعنی کسی بھی عقیدے کے پیروکاروں کے لیے مقدس شخصیات کو کوئی گالی دیتے ہوئے ان کی اجتماعی یا انفرادی توہین کا مرتکب ہو گا، اسے کم از کم بھی 400 یورو جرمانہ کیا جا سکے گا۔
    اطالوی اخبار ‘کوریئرے دَیل وَینیتو‘ نے آج اپنی جمعہ 26 جولائی کی اشاعت میں لکھا کہ ایسی سزائیں سناتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کوئی مذہبی نوعیت کی گالی کس مذہب کے خدا یا مقدس شخصیت کو دی گئی تھی۔ مزید یہ کہ اگر اس ‘جرم‘ کا ارتکاب کوئی نابالغ فرد کرے گا، تو اسے سنائی جانے والی جرمانے کی سزا کی ادائیگی کے پابند اس کے والدین ہوں گے۔
    اخبار کے مطابق ساؤنارا کے منتظم بلدیاتی ادارے کے ارکان نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ ایک تو انہیں شہر میں مذہبی معاملات کے حوالے سے عمومی اخلاقیات کے گرتے جانے پر تشویش تھی اور دوسرے اس اقدام کا مقصد عام لوگوں کو اس دکھ سے بچانا بھی ہے، جو انہیں کسی بھی مذہب کو دی جانے والی کوئی گالی سن کر محسوس ہوتا ہے۔
    کے این اے نے اس بارے میں شہر کے میئر والٹر اشٹیفان کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے، ”اس نئے بلدیاتی ضابطے کا مقصد ان مسلسل بڑھتی ہوئی عوامی شکایات کا تدارک بھی تھا، جن کے مطابق شہر کے مختلف پارکوں میں شام کے وقت جو نوجوان اکثر جمع ہو جاتے ہیں، ان کی آپس کی گفتگو میں سنائی دینے والی مذہبی نوعیت کی گالیاں شہر کے مجموعی اخلاقی ماحول کو بھی خراب کر رہی ہیں۔‘
    ساؤنارا کے میئر نے کہا، ”کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں تو ایسے بھی ہوتے ہیں، جو ہر دو لفظ بولتے ہوئے درمیان میں کوئی نہ کوئی گالی ضرور دیتے ہیں۔‘‘ میئر والٹر اشٹیفان کے الفاظ میں، ”اس نئے مقامی قانون کا مقصد لوگوں کو اخلاقیات کا کوئی درس یا خطبہ دینا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ عوام کی بنیادی تربیت اور پرورش مناسب ہو، ایک ایسا پہلو جسے عرصہ ہوا نظر انداز کر دیا گیا تھا۔
    میئر اشٹیفان کے الفاظ میں، ”اپنے گھر میں جس کا جو جی چاہے، وہ کر سکتا ہے۔ لیکن عوامی مقامات پر اب ہر کسی کو اس بات کا دھیان رکھنا ہو گا کہ وہ کس بارے میں کیا کہہ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ”بات کسی ایک مذہب کی نہیں بلکہ تہذیب اور ثقافت کی ہے۔ ذکر چاہے اللہ کا ہو، پیغمبر اسلام محمد کا، بدھا کا، یسوع مسیح کا یا کنواری مریم کا، اب پبلک میں کسی بھی عقیدے کو اور کوئی بھی مذہبی گالی نہیں دی جا سکے گی۔‘‘

    ساؤنارا کے شہریوں کو اس نئے قانون سے باخبر کرنے کے لیے بلدیاتی انتظامیہ نے ‌اطالوی اور انگریزی کے علاوہ ان چند دیگر زبانوں میں بھی بہت سے پمفلٹ چھپوا لیے ہیں، جو اس شہر کے رہائشی اپنے اپنے گھروں میں مادری زبانوں کے طور پر بولتے ہیں۔

Translate News »