وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ایک روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے     No IMG     مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت نے آصف زرداری کو تمام قانونی سہولتیں دینے کا مطالبہ کردیا     No IMG     امریکہ نے 18 سالہ افغان جنگ میں حقائق کو عوام سے ہمیشہ چھپایا۔     No IMG     امریکی کمیشن کی بھارتی قیادت پر پابندیاں عائد     No IMG     مسلم لیگ نون نے چیف الیکشن کمشنر سمیت دیگر اہم معاملات پرقانون سازی کا حصہ نہ بننے کا اعلان     No IMG     وفاقی کابینہ اجلاس میں مریم نواز کو بیرون ملک بھیجنے کی مخالفت     No IMG     منی لانڈرنگ کیس: احتساب عدالت نے نیب کو حمزہ شہباز سے متعلق بڑا حکم جاری کر دیا     No IMG     پاکستان کی پہلی الیکٹرک ٹرانسپورٹ اورنج لائن میٹروٹرین نے اپنے پورے روٹ پر آزمائشی سفر کا آغاز کردیا     No IMG     آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس     No IMG     مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 116واں روز, وادی میں دفعہ 144کے تحت پابندیاں برقرار     No IMG     برطانوی وزیرِاعظم بورس جانسن نے مسلمان خواتین سے متعلق غیر اخلاقی بیان پر معافی مانگ لی     No IMG     جعلی پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کر سکتی, مولانا فضل الرحمان     No IMG     اسرائیل نے القدس میں سب سے بڑی کالونی کے قیام پر کام شروع کردیا     No IMG     عراق میں مظاہرین نے ایرانی سفارتخانےکو آگ لگا دی     No IMG     ثابت ہوگیا کہ عمران خان نالائق تھے، نالائق ہیں اور نالائق ہی رہیں گے,مریم اورنگزیب     No IMG    

اٹلی

  • اٹلی میں کسی بھی مذہب کو گالی دینے پر کم از کم سزا 400 یورو (7/29/2019)

    ساؤنار( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو – 29 جولائی2019ء)شمالی اٹلی کے ایک چھوٹے سے شہر میں مقامی حکومت کی طرف سے منظور کردہ ایک نئے قانون کے مطابق آئندہ کسی بھی مذہب کو گالی دینے والے کسی بھی شہری کو سخت سزا دی جا سکے گی۔ جرمانے کی یہ سزا کم از کم بھی چار سو یورو ہو گی۔
    اطالوی دارالحکومت روم سے ملنے والی نیوز ایجنسی کے این اے کی رپورٹوں کے مطابق شمالی اٹلی کے شہر ساؤنارا (Saonara) کی بلدیاتی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ جو کوئی بھی کسی عوامی جگہ پر یعنی کسی بھی عقیدے کے پیروکاروں کے لیے مقدس شخصیات کو کوئی گالی دیتے ہوئے ان کی اجتماعی یا انفرادی توہین کا مرتکب ہو گا، اسے کم از کم بھی 400 یورو جرمانہ کیا جا سکے گا۔
    اطالوی اخبار ‘کوریئرے دَیل وَینیتو‘ نے آج اپنی جمعہ 26 جولائی کی اشاعت میں لکھا کہ ایسی سزائیں سناتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کوئی مذہبی نوعیت کی گالی کس مذہب کے خدا یا مقدس شخصیت کو دی گئی تھی۔ مزید یہ کہ اگر اس ‘جرم‘ کا ارتکاب کوئی نابالغ فرد کرے گا، تو اسے سنائی جانے والی جرمانے کی سزا کی ادائیگی کے پابند اس کے والدین ہوں گے۔
    اخبار کے مطابق ساؤنارا کے منتظم بلدیاتی ادارے کے ارکان نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ ایک تو انہیں شہر میں مذہبی معاملات کے حوالے سے عمومی اخلاقیات کے گرتے جانے پر تشویش تھی اور دوسرے اس اقدام کا مقصد عام لوگوں کو اس دکھ سے بچانا بھی ہے، جو انہیں کسی بھی مذہب کو دی جانے والی کوئی گالی سن کر محسوس ہوتا ہے۔
    کے این اے نے اس بارے میں شہر کے میئر والٹر اشٹیفان کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے، ”اس نئے بلدیاتی ضابطے کا مقصد ان مسلسل بڑھتی ہوئی عوامی شکایات کا تدارک بھی تھا، جن کے مطابق شہر کے مختلف پارکوں میں شام کے وقت جو نوجوان اکثر جمع ہو جاتے ہیں، ان کی آپس کی گفتگو میں سنائی دینے والی مذہبی نوعیت کی گالیاں شہر کے مجموعی اخلاقی ماحول کو بھی خراب کر رہی ہیں۔‘
    ساؤنارا کے میئر نے کہا، ”کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں تو ایسے بھی ہوتے ہیں، جو ہر دو لفظ بولتے ہوئے درمیان میں کوئی نہ کوئی گالی ضرور دیتے ہیں۔‘‘ میئر والٹر اشٹیفان کے الفاظ میں، ”اس نئے مقامی قانون کا مقصد لوگوں کو اخلاقیات کا کوئی درس یا خطبہ دینا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ عوام کی بنیادی تربیت اور پرورش مناسب ہو، ایک ایسا پہلو جسے عرصہ ہوا نظر انداز کر دیا گیا تھا۔
    میئر اشٹیفان کے الفاظ میں، ”اپنے گھر میں جس کا جو جی چاہے، وہ کر سکتا ہے۔ لیکن عوامی مقامات پر اب ہر کسی کو اس بات کا دھیان رکھنا ہو گا کہ وہ کس بارے میں کیا کہہ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ”بات کسی ایک مذہب کی نہیں بلکہ تہذیب اور ثقافت کی ہے۔ ذکر چاہے اللہ کا ہو، پیغمبر اسلام محمد کا، بدھا کا، یسوع مسیح کا یا کنواری مریم کا، اب پبلک میں کسی بھی عقیدے کو اور کوئی بھی مذہبی گالی نہیں دی جا سکے گی۔‘‘

    ساؤنارا کے شہریوں کو اس نئے قانون سے باخبر کرنے کے لیے بلدیاتی انتظامیہ نے ‌اطالوی اور انگریزی کے علاوہ ان چند دیگر زبانوں میں بھی بہت سے پمفلٹ چھپوا لیے ہیں، جو اس شہر کے رہائشی اپنے اپنے گھروں میں مادری زبانوں کے طور پر بولتے ہیں۔

Translate News »