شمالی کوریا کا ایٹمی طاقت کے مظاہرے کا عزم     No IMG     عراق کے دارالحکومت بغداد میں خودکش حملے کے نتیجے میں 19 افراد جاں بحق     No IMG     جرمنی کے وزير خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک مشترکہ ایٹمی معاہدے کی حمایت پر متحد اور متفق ہیں۔     No IMG     ایران کو شام میں فوجی بیس بنانے کی اجازت نہیں دیں گے,اسرائیل کے وزير اعظم     No IMG     مقبوضہ کشمیر، یاسین ملک کی مسلسل غیر قانونی نظر بندی کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی ریڈ کراس کمیٹی سے اپیل     No IMG     سابق وزیراعظم نواز شریف نے چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو توہین آمیز پریس ریلیز جاری کرنے پر قانونی نوٹس بھجوا دیا۔     No IMG     قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی سےملاقات     No IMG     پی ٹی آئی چئیرمین نے بڑا فیصلہ کر لیا ، اب پی ٹی آئی میں شمولت اختیار کرنا آسان نہ ہو گا     No IMG     پاکستان میں تھری اور فور جی صارفین کی تعداد 5 کروڑ46 لاکھ ہو گئی،     No IMG     سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت میں اپنے نکالنے کی 4 بڑی وجوہات بتادیں     No IMG     حافظ آباد میں کپڑے کی فیکٹری میں آگ لگ گئی     No IMG     پی ٹی آئی کے اعلیٰ عہدے داروں کی پریم کہانی شروع ہو گئی     No IMG     امريکا نے 5 ايرانی اہلکاروں پر پابندی عائد کر دی     No IMG     موجودہ حکومت نے دہشت گردی ، عسکریت پسندی اور توانائی بحران کو حل کیا ، ملکی معیشت کو مستحکم کردیا, لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم     No IMG     پی ٹی آئی گزشتہ 5 سالوں میں خیبرپختونخوا میں ڈلیور کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی، مائزہ حمید     No IMG    

چین

  • چین کے وزیر خارجہ نے شمالی کوریا کے صدر کم جانگ ان کے ساتھ ملاقات اور عالمی امور پر تبادلہ خیال

     چین ( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو ) کے وزیر خارجہ نے  شمالی کوریا کے صدر کم جانگ ان کے ساتھ ملاقات اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    اس ملاقات میں شمالی کوریا کے صدر نے کہا کہ شمالی کوریا کا ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے سلسلے میں مؤقف واضح ہے اور وہ خطے کے مسائل کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنا چاہتا ہے۔اس ملاقات میں چین کے وزير خارجہ نے دو کوریاؤں کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔

  • چین ایک شخص نے اسکول کے بچوں پرچاقو سے حملہ کرکے 7 بچوں کو ہلاک اور 19 کو زخمی کردیا

     شمالی چین (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)میں ایک شخص نے اسکول کے بچوں پرچاقو سے حملہ کرکے 7 بچوں کو ہلاک اور 19 کو زخمی کردیا۔

    اطلاعات کے مطابق  واقعہ چین کے شمالی صوبے شانزی میں  دوپہر کے وقت پیش آیا جہاں چاقو سے مسلح ایک شخص نے اسکول سے گھر جاتے ہوئے بچوں پر حملہ کردیا۔ چاقو بردار شخص نے بچوں پر چاقو کے پے درپے وار کیے جس کے نتیجے میں 7 بچے موقع پر ہی دم توڑ گئے جب کہ 19 زخمی ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے اور جائے وقوع پر امدادی کارروائیاں مکمل کرلی گئی ہیں تاہم حکام نے واقعے کے حوالے مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔

  • بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات آج ہوگی

    بھارتی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ آج جمعے کے روز سے چین کے وسطی شہر وو ہان میں ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ مذاکرات دو روز جاری رہیں گے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ اس بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی باہمی تعاون کی حکمت عملی وضع کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ہمسایہ ممالک چین اور بھارت کے تعلقات عرصے سے تناؤ کا شکار ہیں۔

  • ائیر چائنا کی پرواز میں عملہ کے رکن کویرغمال بنانے کی کوشش

    چین(ورلڈ فاسٹ نیوز فاریو) کی قومی فضائی کمپنی کی ایک پرواز میں مسافر نے فاؤنٹین قلم کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے عملہ کے ایک رکن کو یرغمال بنانے کی کوشش کی ہے جس کے بعد اس پرواز کا رُخ بیجنگ کے بجائے ملک کے وسطی شہر کی جانب پھیر دیا گیا۔

    چین کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ائیر چائنا کی پرواز 1350 کے تمام مسافر اور عملہ کے ارکان ژنگ ژو کے ہوائی اڈے پر اتوار کی صبح دس بجے اتر گئے ہیں ۔یہ پرواز صبح آٹھ بج کر 40 منٹ پر صوبہ ہونان کے شہر چانگ شا سے دارالحکومت بیجنگ کے لیے روانہ ہوئی تھی اور اس نے گیارہ بجے منزل مقصود پر پہنچنا تھا۔

    اتھارٹی نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ طیارے میں سوار ایک مرد مسافر نے ایک فلائٹ اٹنڈنٹ کو یرغمال بنا لیا تھا ۔اس کے بعد پرواز کا رخ موڑ دیا گیا تھا۔اس معاملے کو ایک بج کر 17 منٹ پر سلجھا لیا گیا ہےلیکن اس نے مزید تفصیل نہیں بتائی ہے اور نہ یہ بتایا ہے کہ مشتبہ مسافر کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا ہے۔

    اس پرواز کو ژنگ ژو کے ہوائی اڈے پر ہنگامی طور پر اتارنے کے لیے اقدامات کیے گئے تھے اور پولیس اور امدادی رضاکاروں کو بھی طلب کر لیا گیا تھا۔ بعض مسافروں کے مطابق وہ جب طیارے سے اترے تو باوردی پولیس اہل کاروں نے اس کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔

    تاہم اتھارٹی کے بیان کے مطابق طیارے سے اترنے والے مسافر خوش گوار موڈ میں تھے اور ہوائی اڈے پر معمول کی سرگرمیاں جاری رہی ہیں ۔فضائی کمپنی کا کہنا ہے کہ ان مسافروں کو بیجنگ روانہ کرنے کے لیے ایک اور پرواز کا بندوبست کیا جارہا ہے۔

  • شام پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی,چین

    چین(ورلڈ فاسٹ نیوز فاریو) نے شام پر امریکہ ،فرانس اور برطانیہ کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ  مغربی ممالک سکیورٹی کونسل میں شکست کھانے کے بعد غیر قانونی ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں شام پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چین بین الاقوامی سطح پر طاقت اور قدرت کے استعمال کے خلاف ہے کیونکہ اس طرح کے واقعات سے عالمی امن کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

  • چین میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے کم ازکم 7افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوگئے

     صوبے شانزی (ورلڈ فاسٹ نیوز فاریو) چین میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے  کم ازکم 7افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق واقعہ شمال مغربی صوبے شانزی میں پیش آیا جہاں دھماکہ خیز مواد سے بھرا ٹرک  گودام کی دیوار سے ٹکراگیا۔ ٹرک میں 5.28ٹن دھماکہ خیز مواد موجود تھا جو  گودام میں رکھنے کے لیے لایا گیا تھا  ۔ حکام  کے مطابق  دھماکہ خیز مواد گودام میں اتارنے سے قبل ٹرک دیوار سے ٹکراگیا جس سے بارود زوردار دھماکے سے پھٹ گیا،اس واقعے کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد کے ہلاک اور 13 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے

  • چین اور امریکا کا تجارتی تنازعہ اب کنٹرول سے باہر نکلتا دکھائی دیتا ہے

    جرمن ( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو ) ہول سیل فیڈریشن اور بیرون ملک تجارت کے سربراہ ہولگر بنگ من نے ایک انٹرویو میں ڈی ڈبلیو کو بتایا ہے کہ امریکا اور چین کے مابین تجارتی تنازعات کے سبب جرمنی کو پہلے ہی کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔

    چین اور امریکا کا تجارتی تنازعہ اب کنٹرول سے باہر نکلتا دکھائی دیتا ہے۔ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان یہ تجارتی تناؤ جرمنی کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے؟

     ہولگر بنگ من: سب سے پہلے میں یہ کہوں کا کہ یہ تجارتی تنازعہ ہے تجارتی جنگ نہیں ہے۔ تجارت ہمیشہ فریقین کو قریب لاتی ہے انہیں الگ نہیں کرتی۔ جرمنی کے برآمد کنندگان کے لیے اس تنازعے کے براہ راست اثرات کم ہیں لیکن وہ جرمن کمپنیاں جو امریکا میں رہتے ہوئے چینی مارکیٹ کے لیے مصنوعات بناتی ہیں، مثلاﹰ کاریں بنانے والی کمپنیاں، اُن پر اس تنازعے کے یقیناﹰ منفی اثرات پڑیں گے۔

     چین اور امریکا کے اس تجارتی تنازعے میں کیا جرمنی کو نقصان اٹھانا پڑے گا؟

    ہولگر بنگ من: میں سمجھتا ہوں کہ جرمنی کو دیگر یورپی اداروں کے ساتھ مل کر دونوں فریقین کے درمیان اس تجارتی تنازعے کو حل کرنے کے لیے کوششیں کرنی چاہییں۔ اس مسئلے کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے اصول و ضوابط کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر صدر ٹرمپ محصولات میں اضافے کی اپنی حکمت عملی میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس کا اثر جرمنی اور یورپی یونین پر بھی پڑے گا جو امریکا کے ساتھ بڑے پیمانے پر تجارت کرتے ہیں۔

    ڈی ڈبلیو: کیا آپ یہ امید رکھتے ہیں کہ یہ تجارتی تنازعہ اب بھی حل ہو سکتا ہے؟

    ہولگر بنگ من: مجھے صدر ٹرمپ کی جذباتیت پر افسوس ہے۔ یہ سمجھنا میرے لیے ذرا مشکل ہے۔ میرے مشورہ  ہے کہ وہ اپنے نقطہ نظر اور فیصلہ سازی میں درست ڈگر کا انتخاب کریں گے۔ پھر بھی میں کہوں گا کہ ابھی ایسا نقصان نہیں ہوا جسے پورا نہ کیا جا سکے۔ اگر چین اور امریکا لڑنے کے بجائے بات چیت سے مسئلے کو حل کریں تو یہ تنازعہ ختم ہو سکتا ہے۔

  • امریکا نے چین کے ان جوابی اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا

    امریکا نے چین کے ان جوابی اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جن کے تحت امریکی مصنوعات پر اضافی درآمدی محصولات عائد کر دیے گئے ہیں۔ کیا امریکا اور چین کے مابین تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے؟

    اب امریکا کی طرف سے چینی جوابی اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان لنڈسے والٹرز کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’امریکا کی منصفانہ برآمدی مصنوعات کو نشانہ بنانے کی بجائے چین کو اپنی غیر منصفانہ تجارتی سرگرمیاں بند کرنا چاہییں، جن سے امریکی سلامتی اور عالمی منڈیوں کو نقصان پہنچ  رہا ہے۔‘‘امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے لگائے گئے متنازعہ درآمدی ٹیکسوں کے جواب میں چین نے بھی 128 امریکی مصنوعات کی درآمد پر اضافی ٹیکس عائد کر دیے ہیں اور ان کا نفاذ پیر دو اپریل سے ہو چکا ہے۔ چین کی طرف سے لگائے گئے ان ٹیکسوں کی مالیت تین بلین امریکی ڈالر بنتی ہے۔

    قبل ازیں امریکا نے چینی اسٹیل اور المونیم پر اضافی محصولات عائد کیے تھے اور ان کی مالیت تقریباﹰ پچاس بلین ڈالر بنتی ہے۔ اس کے جواب میں چین کا کہنا تھا، ’’امریکا نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے اصولوں کی واضح خلاف ورزی کی ہے اور اس طرح چینی مفادات کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔‘‘

    دوسری جانب امریکی کسانوں نے بھی واشنگٹن حکومت کے فیصلوں پر تنقید کی ہے۔ فری ٹریڈ گروپ نامی ایک تنظیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے، ’’یہ امریکی کسانوں پر لگایا جانے والا ٹیکس ہے، جو تحفظ تجارت کی پالیسیوں کے نام پر نافذ کیا جا رہا ہے۔‘‘

    چین اور امریکا کے مابین اس تجارتی جنگ کے آغاز  نے سرمایہ کاروں کو بھی خوفزدہ کر دیا ہے۔ انہیں خوف ہے کہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں اور دو بڑی طاقتوں کے مابین یہ تجارتی لڑائی تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ امریکی اور چینی اقدامات کے بعد بین الاقوامی اقتصادی منڈیوں میں خسارے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔

     

  • شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے چینی صدر صدر شی جن پنگ کے ساتھ کامیاب مذاکرات

    بیجنگ۔( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو ) شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے دورہ چین اور اعلی حکام سے ملاقاتوں کی تصدیق ہوگئی ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سفارتی ٹرین پر ہائی پروفائل شخصیت بیجنگ پہنچی ہے جبکہ جاپانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ وہ شخصیت شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان ہیں‘کم جونگ کے اس دورے کی تصدیق چین اور شمالی کوریا دونوں نے کر دی ہے۔چینی نشریاتی ادارے نے بتایا ہے کہ کم جونگ ان کے چینی صدر صدر شی جن پنگ کے ساتھ کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں۔غیر سرکاری دورے کے دوران کم جونگ ان نے اپنے چینی ہم منصب کو جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے عزم پر قائم رہنے کی یقین دہانی کرائی۔کم جونگ ان نے کہا کہ جزیرہ نما کوریا میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے اگر جنوبی کوریا اور امریکہ ہماری کوشش کا خیر سگالی کے ساتھ جواب دے ہوئے امن اور استحکام کا ماحول تیار کریں جس میں امن کی تکمیل کے لیے ترقی پسند اور ہم عہد اقدامات اٹھائے جائیں۔شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان کا 2011 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔اس دورے کو امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ شمالی کوریا کی جانب سے مذاکرات پر رضامندی دیے جانے کے تناظر میں بہت اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے-گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ کی جانب سے ملنے والی دعوت کو قبول کیا ہے۔

  • یوم پاکستان کے موقع پرچین کاپاکستان کو بہت بڑا تحفہ

    چین ( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو ) کی طرف سے پاکستان کو میزائل ٹریکنگ سسٹم کی فراہمی کو پاکستان میں کئی ماہرین نے پاکستانی دفاع کے لئے مثبت قرار دیا ہے اور ان کے خیال میں یہ چینی اقدام خطے میں استحکام پیدا کرے گا۔
    دفاعی تجزیہ نگار کرنل ریٹارئرڈ انعام الرحیم کے خیال میں اس ٹیکنالوجی کی بدولت پاکستان بھارت کا مقابلہ کر سکتا ہے، ’’آج کے دور میں بیلنس آف پاورکو نظر انداز کرنا تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بھارت روایتی طور پر مضبوط ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہمیں فوری طور پر بھارت کے عزائم کا پتہ چل سکتا ہے اور ہم بھر پور جواب کی تیاری کر سکتے ہیں۔ ہم نے اس ٹیکنالوجی کی آج نمائش بھی کی ہے، جس سے بھارت کو ایک بھر پور پیغام جائے گا کہ وہ خطے میں کوئی بھی ایڈوینچر کرنے کی کوشش نہ کرے۔ بھارت نے پہلے ہی ایل او سی کو گرم کیا ہوا ہے اور وہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ہمارے سفارتکاروں کو بھی تنگ کر رہا۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کے عزائم ٹھیک نہیں ہیں۔ ایسے موقع پر اس ٹیکنالوجی کا پاکستان کو ملنا بہت اچھا ہے۔‘‘
    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’بین الاقوامی طور پر اب روس نے ایسے میزائل تیار کر لئے ہیں، جن کو ٹریس بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن ہمارا مقابلہ بھارت کے ساتھ ہے۔ ابھی یہ ٹیکنالوجی یا امریکی اسٹیلتھ طیارے بھارت کے پاس نہیں آئے ہیں۔ جب یہ ٹیکنالوجی بھارت کے پاس آئے گی تو پھر ہمارے لئے مشکلات ہوں گی۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ دفاعی شعبے میں بھر پور کفالت کی طرف جائے۔ میزائل ٹریکنگ ٹیکنالوجی کے علاوہ ہمارے پاس بہترین ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار بھی ہیں، جن سے ہماری دفاعی پوزیشن بہتر ہوگی۔‘‘
    ان کا کہنا تھا کہ چین نے پاکستان کو یہ ٹیکنالوجی اس لئے دی ہے کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنا نہیں چاہتا، ’’چین معاشی طور پر تیز رفتار انداز میں ترقی کرنا چاہتا ہے۔ اس تیز رفتار ترقی کے لئے سی پیک ایک اہم عنصر ہے اور سی پیک اسی وقت کامیاب ہوگا جب پاکستان مستحکم اور مضبوط ہوگا۔ تو چین کا اس حوالے سے پاکستان کی مدد کرنا قدرتی عمل ہے کیونکہ امریکا خطے میں بھارت کو مضبوط کر کے چین کی اس ترقی کو روکنا چاہتا ہے۔ واشنگٹن نے ابھی دو بلین ڈالرز کی ڈرون ٹیکنالوجی بھارت کو دی ہے۔ اوباما نے یہ ٹیکنالوجی دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن ٹرمپ نے چین کے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے۔ اس لئے اس نے یہ ٹیکنالوجی بھارت کو دے دی ہے کیونکہ وہ چین اور پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔‘
    اسلام آباد کی قائدِ اعظم یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع نہیں ہوگی،’’یہ دوڑ تو پہلے ہی سے شروع ہے۔ بھارت کے پاس پہلے ہی برہمو سمیت کئی جدید میزائل ہیں۔ اس کے پاس میزائل ٹریکنگ ٹیکنالوجی بھی ہے۔ وہ پہلے ہی اسرائیل اور امریکا کی مدد سے جدید سے جدید ترین ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ پاکستان نے صرف ایک بیلنسنگ ایکٹ کیا ہے، جو ہمارے دفاع کے لئے بہت ضروری ہے۔‘‘
    اسلام آباد کی پریسٹن یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ پروفیسر امان میمن کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی غیر دانشمندانہ پالیسیاں جنوبی ایشیا کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں،’’امریکا چین کا راستہ روکنے کے لئے اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لئے بھارت کو بے تحاشا ہتھیار دے رہا ہے اور اس کو عسکری لحاظ سے بہت مضبوط کر رہا ہے۔ یہ سمجھے بغیر کہ بھارت میں ایک قوم پرست تنظیم بر سرِ اقتدار ہے، جو خطے میں کسی بھی وقت جنگ کے شعلے بھڑکا سکتی ہے۔ پاکستان کا اس صورتِ حال سے پریشان ہونا فطری عمل ہے۔ لیکن یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ دونوں ممالک اپنے وسائل ان ہتھیاروں پر لگا رہے ہیں اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ دونوں ممالک میں غربت بڑھ رہی ہے اور انسانی ترقی کے انڈیکس میں دونوں ممالک پیچھے ہیں۔ میرے خیال میں پاکستان اور بھارت کو دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر ہتھیاروں کی اس لعنت کو ختم کرنے کی بات کرنی چاہیے۔ یہ بات خیالی لگتی ہے لیکن خطے کو تباہی سے بچانے کے لئے یہ کرنا پڑے گا۔‘‘