شمالی کوریا کا ایٹمی طاقت کے مظاہرے کا عزم     No IMG     عراق کے دارالحکومت بغداد میں خودکش حملے کے نتیجے میں 19 افراد جاں بحق     No IMG     جرمنی کے وزير خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک مشترکہ ایٹمی معاہدے کی حمایت پر متحد اور متفق ہیں۔     No IMG     ایران کو شام میں فوجی بیس بنانے کی اجازت نہیں دیں گے,اسرائیل کے وزير اعظم     No IMG     مقبوضہ کشمیر، یاسین ملک کی مسلسل غیر قانونی نظر بندی کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی ریڈ کراس کمیٹی سے اپیل     No IMG     سابق وزیراعظم نواز شریف نے چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو توہین آمیز پریس ریلیز جاری کرنے پر قانونی نوٹس بھجوا دیا۔     No IMG     قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی سےملاقات     No IMG     پی ٹی آئی چئیرمین نے بڑا فیصلہ کر لیا ، اب پی ٹی آئی میں شمولت اختیار کرنا آسان نہ ہو گا     No IMG     پاکستان میں تھری اور فور جی صارفین کی تعداد 5 کروڑ46 لاکھ ہو گئی،     No IMG     سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت میں اپنے نکالنے کی 4 بڑی وجوہات بتادیں     No IMG     حافظ آباد میں کپڑے کی فیکٹری میں آگ لگ گئی     No IMG     پی ٹی آئی کے اعلیٰ عہدے داروں کی پریم کہانی شروع ہو گئی     No IMG     امريکا نے 5 ايرانی اہلکاروں پر پابندی عائد کر دی     No IMG     موجودہ حکومت نے دہشت گردی ، عسکریت پسندی اور توانائی بحران کو حل کیا ، ملکی معیشت کو مستحکم کردیا, لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم     No IMG     پی ٹی آئی گزشتہ 5 سالوں میں خیبرپختونخوا میں ڈلیور کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی، مائزہ حمید     No IMG    

ایران

  • یورپی یونین کی ایران کومشترکہ ایٹمی معاہدےکو جاری رکھنے کے لیے تیار

     یورپی یونین( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) کے ادارہ برائے توانائی اور ماحولیات کے سربراہ نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے باوجود یورپی ممالک اس معاہدے کو جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق یورپین کمشنر برائے توانائی اور ماحولیات میگل اریاس کینیٹ نے تہران کا دورہ کیا اور ایرانی حکام کو اس فیصلے سے آگاہ کیا جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 28 ممالک پر مشتمل یورپی یونین ایرانی تیل کی درآمد کنندہ ہے اور اسے امید ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت میں مزید اضافہ ہوگا۔

    تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میگل اریاس کینیٹ نے کہا کہ انہوں نے  ایرانی حکام کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ اگر وہ اس معاہدے کو پورا کریں گے تو یورپی ممالک بھی اپنے وعدے پورے کریں گے۔ ذرائع کے مطابق یورپی یونین کی یقین دہانی پر بعض ایرانی حکام کو تحفظات ہیں کیونکہ یورپی یونین پر بھی امریکہ کا بڑا اثر ہے جس کی وجہ سے  یورپی یونین بھی امریکی دباؤ میں مشترکہ ایٹمی معاہدے کو کسی وقت ختم کرسکتا ہے۔

  • ایران کے صدر حسن روحانی ترکی میں اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کے لئے ترکی روانہ ہوگئے ہیں۔

     ایران( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو )  کے صدر حسن روحانی ترکی میں اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کے لئے ترکی روانہ ہوگئے ہیں۔

    اسلامی تعاون تنظیم کا ہنگامی سربراہی اجلاس آج ترکی میں منعقد ہوگا جس میں تل ابیت سے امریکہ کے سفارتخانہ کی غیر قانونی طور پر مقبوضہ بیت المقدس منتقلی اور فلسطینیوں پر اسرائیل کے تازہ ترین مظالم کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    صدر حسن روحانی کومہر آباد  ايئر پورٹ پر ڈآکٹر علی اکبر ولایتی ، نائب صدر جہانگیری اور بعض دیگر اعلی حکام نے رخصت کیا۔

  • ایران کے صدر حسن روحانی کے خصوصی نمائندے نے انقرہ میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات

    ایران کے صدر حسن روحانی کے خصوصی نمائندے محمود واعظی نے انقرہ میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات اور گفتگو کی۔ اس ملاقات میں فلسطین کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گيا۔ اس ملاقات میں شام، عراق اور یمن کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • ایران اور غزہ، یورپی یونین مشترکہ موقف کی تلاش

    بلغاریہ  ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) کے دارالحکومت میں یورپی رہنما اکھٹے ہو رہے ہیں۔ اس دوران یورپی رہنماؤں کی کوشش ہو گی کہ وہ ایران کے جوہری معاہدے اور تجارتی معاملات کے حوالے سے مشترکہ موقف پر اتفاق رائے ممکن بنائیں۔

    صوفیہ میں ہونے والے یورپی سربراہی اجلاس میں ایرانی جوہری معاہدے سے امریکا کی دستبرداری کے بعد کی صورتحال کے علاوہ غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں کے موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    غزہ میں امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم  چودہ مئی کو منتقلی پر کیے جانے والے احتجاج میں پچاس سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے تھے۔ متعدد یورپی ممالک نے جوہری معاہدے سے الگ ہونے کے امریکی فیصلے کی طرح سفارت خانے کی منتقلی کے اقدام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

    اصل میں اس اجلاس میں بلقان خطے کے یورپی یونین سے روابط پر گفتگو ہونا تھی تاہم گزشتہ دنوں کے دوران عالمی سطح پر رونما ہونے والے ان اہم واقعات کی وجہ سے اس اجلاس کے ایجنڈے کو تبدیل کرنا پڑ گیا۔ یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا ہے، ’’صوفیہ میں تازہ بین الاقوامی صورتحال پر بات ہو گی، خاص طور پر ٹرمپ کے ایران کے حوالے سے اعلان، تجارت اور غزہ کے ڈرامائی حالات پر‘‘۔

    جوہری معاہدے کے موضوع پر بات چیت کو ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے دورہ برسلز کے بعد ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے۔ ٹسک کے بقول، ’’برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے، جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر امانوئل ماکروں موجودہ صورتحال کے حوالے سے اپنے اپنے اندازے پیش کریں گے۔‘‘

    ایک یورپی اہلکار کے بقول، ’’ ہم نہ تو خوف میں ہیں اور نہ ہی فیصلہ کرنے کے حوالے سے ہمیں کسی دباؤ کا سامنا ہے۔‘‘

  • ایران سے بغیر دستاویزات ٨٣ پاکستانیوں کو گرفتار کرکے تفتان انتظامیہ کے حوالے
    دالبندین( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) ایرانی حکام نے بغیر دستاویزات کی83پاکستانیوں کو گرفتار کرکے تفتان انتظامیہ کے حوالے کردیا۔تفصیلات کے مطابق ایرانی حکام نے بغیر دستاویزات کی83 پاکستانیوں کو گرفتار کرکے تفتان انتظامیہ کے حوالے کردیا ،یہ پاکستانی مند بلو کے راستے لاکھوں روپیہ دے کر مختلف ایجنٹوں کے ذریعے روزگار کی تلاش میں ایران سے یونان کے راستے یورپ جانا چاہتے تھے مگر قسمت نے ساتھ نہیں دیا،تفتان لیویز نے تمام پاکستانیوں کو لیویز تھانہ میں بند کرکے تفتیشی شروع کردی۔

  • ایران اور قطر کی مشترکہ اقتصادی کمیٹی کا دوحہ میں 6 اجلاس

    ایران( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) کے سرکاری اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ستر ماہرین اور کاروبای شخصیات پر مشتمل ایک وفد قطر کے ساتھ مشترکہ اقتصادی کمیٹی کے دو روزہ اجلاس میں شرکت کے لیے دوحہ پہنچا ہے۔ وفد کی قیادت ایران کے نائب وزیر صنعت

    اور معدنیات محمد رضا فیاض کررہے ہیں۔

    ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان بہت سے تصفیہ طلب امور پر غور کیا جائے گا۔محمد رضا فیاض نے ارنا کو بتایا ہے کہ پانچ مشترکہ کمیٹیوں کے خصوصی اجلاس ہوں گے اور ان میں تجارت ، معدنیات ، کسٹمز ، تیل ، پیٹرو کیمیکلز ، برآمدات اور بنک کاری کے شعبوں میں تعاون کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر غور کیا جائے گا‘‘۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’’ ایران اور قطر کے درمیان قریبی تعاون ایک نئی سمت اختیار کررہا ہے اور یہ دونوں ممالک میں تعلقات کی مضبوطی کی جانب آگے بڑھ رہا ہے۔قطر کے ساتھ تجارت کا حجم اگرچہ بہت تھوڑا ہے لیکن مناسب منصوبہ بندی کے بعد دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ حاصل ہوگا‘‘۔

    نائب وزیر کا کہنا تھا کہ ’’ ایر ان اور قطر کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں کوئی سنجیدہ رکاوٹ حائل نہیں ہے اور انھیں توقع ہے کہ منصوبہ بند پروگراموں کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کر لیے جائیں گے‘‘۔

    ارنا کے مطابق ایران اور قطر کے درمیان مشترکہ اقتصادی کمیٹی کا یہ چھٹا اجلاس ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ سال جون میں دہشت گردی مخالف چار ممالک کے بائیکاٹ کے بعد قطر کی ایران سے قُربت میں اضافہ ہوا ہے اور وہ اس کے ساتھ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ کےلیے کوشاں ہے۔

    سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر پر خطے میں دہشت گردی کی سرپرستی اور حمایت کا الزام عاید کیا تھا اور اس سے سفارتی ، سیاسی اور تجارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔ یہ ممالک ایران کو بھی خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا پشتیبان ملک قرار دیتے ہیں اور اس پر عراق ، شام ، یمن اور بحرین سمیت خطے کے ممالک کے داخلی امور میں کھلی مداخلت کے الزامات عاید کرتے چلے آرہے ہیں۔

  • ایران اور اسرائیل کے مابین شام میں جھڑپوں پر عالمی سطح پر تشوش

    ایران اور اسرائیل( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) کے مابین شام میں جھڑپوں پر عالمی سطح پر تشوش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان دونوں ممالک کے مابین باقاعدہ جنگ کے خطرے کے پیش نظر عالمی برادری نے زور دیا ہے کہ تحمل اور صبر کا مظاہرہ کیا جائے۔ روس، فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے اسرائیل میں راکٹ داغے جانے کی مذمت کی ہے جبکہ امریکا نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے اس راکٹ فائر کے جواب میں شام میں ایرانی فوجی اہداف کے خلاف کارروائی کی۔ الزام عائد کیا گیا ہے کہ گولان کے پہاڑی علاقوں میں یہ راکٹ ایران نے فائر کیا تھا۔ ایرانی صدر حسن روحانی اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ٹیلی فون پر گفتگو میں اتفاق کیا ہے کہ خطے میں ایک نئی کشیدگی سے بچنا چاہیے۔

  • امریکہ کی نئی پابندیاں سکیورٹی کونسل کی قرارداد 2231 کے خلاف/ اردوغان: امریکہ کا فیصلہ قبول نہیں کریں گے

    ایران( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) کے صدر حسن روحانی نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی ایران کے خلاف نئی پابندیاں  اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد 2231 کے بالکل خلاف ہیں۔

    صدر حسن روحانی نے اس گفتگو میں کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدہ سات ممالک کے درمیان ہوا ہے جسے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی تائید حاصل ہے لیکن امریکہ اپنی منہ زوری  دکھا کر اس بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس سے الگ ہوگیا ہے ۔ صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ کے غلط فیصلے عالمی برادری کی واضح توہین ہیں  اور ہم عالمی رہنماؤں سےمطالبہ کرتے ہیں کہ وہ امریکہ کے اس اقدام کی بھر پور مذمت کریں۔ صدر روحانی نے کہا کہ ایران قومی مفادات کے تحفظ کے سلسلے میں کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہے۔ ایران کسی کے رعب و دبدبے میں نہیں آئے گا۔

    اس گفتگو میں ترکی کے صدر نے امریکی صدر کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم بین الاقوامی معاہدوں کے خلاف امریکہ کے کسی  فیصلے کو قبول نہیں کریں گے۔اردوغان نے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوکر امریکہ نے اپنی تاریخی شکست کو رقم کیا ہے اور امریکہ کو اپنی اس تاریخی غلطی پر پشیمان ہونا پڑےگا۔ ترک صدر نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں ایران کے مؤقف کو قابل تعریف ، قابل قدر اور مدبرانہ قراردیا۔ ترک صدر نے کہا کہ ترکی ایران کی ہر قسم کی مدد کرنے کے لئے تیار ہے۔

  • ایران کے باقی رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ امریکی صدر کے فیصلے پر منحصر ہے, ایرانی وزير خارجہ

     ایران (ورلڈ فاسٹ نیوز فاریو):کے وزير خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں ایران نے اپنے تمام وعدوں پر عمل کیا ہے اور بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی نے اس کی اپنی  11 رپورٹوں میں تائید کی ہے لیکن مشترکہ ایٹمی معاہدے پر ایران کے باقی رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ  امریکی صدر کے فیصلے پر منحصر ہے۔

    ایرانی وزير خارجہ نے سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ اپنی ملاقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے نیویارک کے دورے کے دوران امریکہ کی مختلف غیر حکومتی شخصیات سے بات چيت اور گفتگو کی ، انھیں مشترکہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں حقائق سے آگاہ کیا جبکہ مشترکہ

    ایٹمی معاہدے کے دوران بھی ان شخصیات سے گفتگوکا سلسلہ جاری رہا۔

    ظریف نے کہا کہ امریکہ میں سیاسی فیصلوں پر سیاسی شخصیات کے اثرانداز ہونے میں کوئي شک نہیں کیونکہ امریکی حکومت صرف وائٹ ہاؤس تک محدود نہیں بلکہ امریکہ کے سیاسی افکار اور مختلف لابیوں پر مشتمل ہے جو سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ سے خود امریکی بھی پریشان اور نالاں ہیں اور اگر اس نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں کوئی غلط فیصلہ کیا تو اس کے سنگین نتائج کی ذمہ داری بھی امریکہ پر عائد ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ایران امریکہ کے مشترکہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں ہر فیصلے کا مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ ہے اور ایران گذشتہ 40 برسوں سے امریکہ کی جارحانہ اور ظالمانہ پالیسیوں کا مقابلہ کررہا ہے۔

  • ایران کا ٹرمپ کے ہر فیصلے کا مقابلہ کرنے کا اعلان

     ایران (ورلڈ فاسٹ نیوز فاریو)کے صدر حسن روحانی نے سبزوار میں ایک عظیم عوامی اجتماع  سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہر فیصلے کا مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ ہفتہ ایران میں کوئی تبدیلی رونما ہونے والی نہیں ہے۔ صدر حسن روحانی نے کہا کہ ہم نے عالمی برادری سے جو وعدے کئے تھے وہ پورے کردیئے ہیں ۔ اگر کسی نے ایرانی قوم کے ساتھ مکر و فریب کرنے کی تلاش و کوشش کی تو اسے مناسب جواب دیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایٹمی معاہدے کو امریکی تاریخ کا بد ترین معاہدہ قراردیکر امریکہ کے سابق حکمرانوں کی توہین کی ہے ایران نے کسی کو دھوکہ نہیں دیا امریکہ کے موجودہ صدر دنیا کو فریب دینے کی کوشش کررہے ہیں اور ایک عالمی معاہدے کو توڑنے کی بات کررہے ہیں جبکہ اس معاہدے کو سکیورٹی کونسل کی تائيد  بھی حاصل ہے۔

    صدر حسن روحانی نے ملکی امور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں بے روزگاری کی شرح کم ہوگئی ہے اور ہم روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی مسلسل کوشش کررہے ہیں۔  صدر روحانی نے صوبہ خراسان رضوی کو سیاحت کا قطب قراریدتے ہوئے کہا کہ ہمارے مولا حضرت امام علی بن موسی الرضا کی زیارت کے لئے سالانہ 30 ملین زائر اس شہر کا سفر کرتے ہیں اور ہمارے پورے ملک میں تمام فیوض و برکات حضرت امام رضا علیہ السلام کی بدولت ہیں۔