گجرانوالہ میں یوم پاکستان کی تقریب میں سکول کی دیوار گرنے سے 6 افراد جاں بحق     No IMG     79 واں یوم پاکستان: وفاقی دارالحکومت میں مسلح افواج کی شاندار پریڈ     No IMG     پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG    

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے آسیہ بی بی کی سزائے موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم ک
تاریخ :   01-11-2018

واشنگٹن( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے آسیہ بی بی کی سزائے موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ایک رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ 2010میں پانچ بچوں کی ماں اور عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والی خاتون

آسیہ بی بی کی سزائے موت کا حکم جاری ہوا تھا۔آسیہ بی بی کیس میں یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے سنایا گیا۔
آسیہ بی بی نے اپنی سزا کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔پاکستان کے دو حکمران اہلکار جن میں کابینہ کے ایک رکن شہباز بھٹی اور ر پنجاب کے گورنر گورنر سلمان تاثیر 2011 میں قتل ہوئے تھے.یو ایس سی آئی آر ایف کے چیئرمین ٹینزن ڈورجی نے کہا ہے کہ آسیہ بی بی کا کیس ظاہر کرتا ہے کہ توہین رسالت کے قوانین کو اقلیتی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کے تحت اس طرح کے قوانین ہر مذہب کے تحفظ کے لیے ہوتے ہیں نہ کہ انفرادی طور پر۔آسیہ بی بی کا کیس اس سطح پر پہنچ گیا تھا کہ وہ پاکستان میں توہین رسالت کے الزم میں سزا پانے والی پاکستان کی تاریخ کی پہلی انسان بن گئی۔امریکہ کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کمیشن نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ہے کہ آسیہ بی بی کی رہائی پر اس کی حفاظت یقینی بنائیں۔
یو ایس سی آر ایف نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ توہین رسالت کے الزام میں قید 40 افراد کو رہا کریں اور توہین مذہب کے قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔خیال رہے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی آزادی مذہب نے اس سے قبل بھی پاکستان میں آزادی مذہب کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا تھا جب کہ مئی کے مہینے میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی ( یو ایس سی آئی آر ایف ) نے دوبارہ اس بات کی تجویز دی ہے کہ پاکستان کو خاص تشویش والا ملک قرار دیا جائے ۔
خیال رہے کہ 22 دسمبر 2017 کو امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ کی جانب سے پاکستان کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں شامل ہونے یا برداشت کرنے سے متعلق خصوصی واچ لسٹ میں شامل کیا تھا۔ اس کے علاوہ اس اقدام کے حوالے سے میڈیا میں بیانات گردش کررہی تھیں کہ رواں سال انتظامیہ پاکستان کو خاص تشویش ناک ملک قرار دے سکتی ہے اور اس پر نئی پابندیوں کا اطلاق ہوسکتا ہے لیکن پاکستان رواں سال بھی اس میں شامل ہونے سے محفوظ رہا۔
اس حوالے سے امریکی کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس پاکستان میں 50 افراد کو توہین مذہب کے الزام میں قید کیا گیا، جس میں 17 کو سزائے موت دی گئی۔امریکی کمیشن کی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ پاکستان میں انتظامیہ نے توہین مذہب کے قانون جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کے تحت ہونے والی سزاؤں میں عمر قید سے لے کر سزائے موت شامل ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ مذہب کو جواز بنا کر اشتعال انگیزی کرنا ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس سے پاکستان، افغانستان، بھارت، ایران اور روس میں اقلیتیں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا بڑے پیمانے پر سامنے کر رہی ہیں۔امریکی ادارے کی رپورٹ میں مشال خان قتل کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس میں بتایا کہ اپریل 2017 میں مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کا الزام لگا کر ایک طالب علم کو تشدد کے بعد ہلاک کردیا گیا جبکہ تفتیش میں یہ الزام جھوٹا ثابت ہوا۔
اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا کہ سال 2017 میں نامعلوم حملہ آوروں نے پاکستان میں شیعہ، ہزارہ اور احمدیوں کو نشانہ بنایا جبکہ ہزاہ برادری پر حملوں کے واقعات میں مزید اضافہ ہوا اور 5 مختلف واقعات میں 15 افراد کو قتل کردیا گیا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان میں اردو زبان کا ذرائع ابلاغ اقلیتی گروہوں سے متعلق رپورٹ میں جانبدار رہا اور مختلف مواقع پر میڈیا نے نامناسب زبان کا استعمال کی۔

Print Friendly, PDF & Email
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ابوظہبی ٹیسٹ کا پہلا دن باؤلرز کے نام
اربوں روپے کی زمین پر قبضوں میں ملوث منشا بم کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا
Translate News »