وزیراعظم نے آئی جی پنجاب کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار     No IMG     وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سانحہ ساہیوال پر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی کو مزید وقت دینے سے انکار کر دیا ہ     No IMG     ای سی جی رپورٹ میں نواز شریف کے دل کا سائز بڑھا ہوا نظر آیا۔ طبی معائنے کے بعد اسپتال داخل کرنے کا فیصلہ     No IMG     انڈونیشیا میں ایک بار پھر 6.6 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا     No IMG     حب کے قریب بیلہ کراس پر مسافر کوچ اور ٹرک کے درمیان تصادم کے بعد آگ لگنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہوگئی     No IMG     پنجاب اور سندھ کے متعدد شہروں میں دھند کا راج برقرار     No IMG     سانحہ ساہیوال کی فائل دبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ، حادثے کی جگہ کے تمام شواہد ضائع کر دیئے     No IMG     مسلم لیگ ق نے کا تحریک انصاف کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو تحفظات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ     No IMG     تحریک انصاف نے سابق صدرآصف علی زرداری کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال پر بغیر تحقیقات کے بیانات دینے پر وزرا اور پنجاب پولیس پر سخت اظہار برہمی     No IMG     وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی جسٹس ثاقب نثارپرتنقید، موجود چیف جسٹس کی تعریف     No IMG     برطانیہ میں بھی برف باری سے شدید سردی     No IMG     برطانیہ کے سابق وزیراعظم کے جان میجر نے موجودہ وزیرِاعظم تھریسا مے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورپ سے علیحدگی (بریگزٹ) پر ریڈ لائن سے پیچھے ہٹ جائیں     No IMG     میکسیکو میں پیٹرول کی پائپ لائن میں دھماکے اور آگ لگنے کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 73 ہوگئی     No IMG     امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات     No IMG    

امریکی پابندیوں سےیورپی کمپنیوں کو کیسے بچایا جائے؟
تاریخ :   18-05-2018

یورپی یونین ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو )امریکا کی ایران کے ساتھ عالمی جوہری ڈیل سے دستبرداری کے بعد جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے رہنماؤں نے عہد کیا ہے کہ وہ اس تاریخی ڈیل پر کاربند رہیں گے۔ اس تناظر میں یورپی یونین نے ایک لائحہ عمل تیار کر لیا ہے۔
یورپی رہنماؤں کے مطابق امریکی کی دستبرداری کے باوجود ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین سن دو ہزار پندرہ میں طے پائی جانے والی جوہری ڈیل پر عمل درآمد جاری رہے گا۔ ایران میں کام کرنے والی یورپی کمپنیوں پر ممکنہ امریکی پابندیوں کے تناظر میں یورپی یونین کی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ امریکا کے ہوتے ہوئے بھلا کسی دشمن کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔ اس تمام بحث سے جڑے تین سوال اور ان کے جوابات۔
سوال: یورپی رہنماؤں نے ایران کے ساتھ عالمی ڈیل پر کاربند رہنے کا عزم تو ظاہر کیا ہے، کیا یہ ممکن بھی ہو سکے گا؟

جواب: یورپی رہنماؤں کے لیے یہ ایک مشکل وقت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین طے پانے والی اس ڈیل سے امریکا کی دستبرداری کے بعد یونین نے ایران کو بھی راضی رکھنا ہے اور دوسری طرف واشنگٹن حکومت کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ سے بھی بچنا ہے۔

اس کی ایک مثال جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا وہ اعتراف بھی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ سن دو ہزار پندرہ میں طے پانے والی یہ عالمی ڈیل اگرچہ پرفیکٹ نہیں ہے لیکن یورپی یونین اس پر عمل پیرا رہے گی۔ البتہ میرکل نے کہا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

دوسری طرف فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے ذرا سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جو فیصلے چاہے کرے، لیکن یورپ اس ڈیل کو زندہ رکھنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔

اسی طرح برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے بھی کہا ہے کہ لندن حکومت اس ڈیل کو بچانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔ تو فی الحال یہ کہا جا سکتا ہے کہ یورپ اپنے عزم پر برقرار ہے اور وہ ایرانی جوہری ڈیل پر کاربند رہے گا۔
سوال: یورپی یونین کی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کیوں کہا کہ امریکا ’قابل اعتماد ساتھی‘ نہیں ہے؟

جواب: امریکا نے اس ڈیل سے دستبردار ہوتے ہی ایران پر پابندیاں بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یوں یورپی کمپنیوں کے ایران میں کام کرنے کی وجہ سے واشنگٹن انہیں بھی پابندیوں کی زد میں لا سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹسک کا یہ بیان اسی تناظر میں ہے کیونکہ عالمی جوہری ڈیل پر کاربند رہتے ہوئے یورپی کمپنیاں تو ایران میں کام کریں گی اور اگر امریکا ان پر پابندیاں لگاتا ہے تو یہ واقعی قابل اعتماد پارٹنر نہ ہونے کے مترادف ہی ہو گا۔

دوسری صورت میں اگر یہ یورپی کمپنیاں ایران میں اپنی سرگرمیاں ختم کرتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یورپ امریکا کے دباؤ میں آ گیا ہے اور یوں یہ ڈیل خطرے میں پڑ جائے گی۔

ٹسک نے اس تناظر میں یہ بھی کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری ڈیل سے نکلنے اور امریکا میں یورپی برمدات پر مزید محصولات نافذ کرنے کی پالیسی کے خلاف ایک مشترکہ یورپی فرنٹ بنایا جانا چاہیے۔ ایک بات تو واضح ہے کہ اس تمام صورتحال میں امریکا اور یورپ کے مابین تناؤ کی کیفیت تو پیدا ہو چکی ہے۔

سوال: ان پابندیوں سے بچنے کے لیے یورپی یونین نے کیا حکمت عملی اپنائی ہے؟

جواب: یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود ینکر نے کہا ہے کہ انیس سو چھیانوے میں بنائے گئے اُس قانون کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے، جس کی بدولت ایران میں کام کرنے والی یورپی کمپنیاں امریکی پابندیوں پر عمل درآمد کی پابند نہیں رہیں گی۔

ینکر نے واضح کیا کہ یورپی کمیشن کا فرض بنتا ہے کہ وہ یورپی کمپنیوں کا تحفظ یقینی بنائے، اسی لیے اس قانون کو ری ایکٹیویٹ کیا جا رہا ہے۔ جمعے کے دن سے اس قانون پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔

ادھر یورپی انوسٹمنٹ بینک کو اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ ایران میں فعال یورپی کمپنیوں کو سرمایہ کاری میں مدد بھی فراہم کرے۔ ینکر کے بقول یورپی کمیشن مستقبل میں بھی ایران کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یورپی رہنما اس دوران ایران کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے اس کے میزائل پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے خدشات کو ختم کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
پاکستان تحریک انصاف نے ماہرین کی مدد سے اپنی ممکنہ حکومت کے پہلے 100 دن کا پلان تیارکرلیا
مصری صدر کے حکم پر غزہ کی مصر کے ساتھ جڑی سرحدی گزرگاہ رفح کو کھول دیا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »