پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

امریکی پابندیوں سےیورپی کمپنیوں کو کیسے بچایا جائے؟
تاریخ :   18-05-2018

یورپی یونین ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو )امریکا کی ایران کے ساتھ عالمی جوہری ڈیل سے دستبرداری کے بعد جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے رہنماؤں نے عہد کیا ہے کہ وہ اس تاریخی ڈیل پر کاربند رہیں گے۔ اس تناظر میں یورپی یونین نے ایک لائحہ عمل تیار کر لیا ہے۔
یورپی رہنماؤں کے مطابق امریکی کی دستبرداری کے باوجود ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین سن دو ہزار پندرہ میں طے پائی جانے والی جوہری ڈیل پر عمل درآمد جاری رہے گا۔ ایران میں کام کرنے والی یورپی کمپنیوں پر ممکنہ امریکی پابندیوں کے تناظر میں یورپی یونین کی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ امریکا کے ہوتے ہوئے بھلا کسی دشمن کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔ اس تمام بحث سے جڑے تین سوال اور ان کے جوابات۔
سوال: یورپی رہنماؤں نے ایران کے ساتھ عالمی ڈیل پر کاربند رہنے کا عزم تو ظاہر کیا ہے، کیا یہ ممکن بھی ہو سکے گا؟

جواب: یورپی رہنماؤں کے لیے یہ ایک مشکل وقت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین طے پانے والی اس ڈیل سے امریکا کی دستبرداری کے بعد یونین نے ایران کو بھی راضی رکھنا ہے اور دوسری طرف واشنگٹن حکومت کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ سے بھی بچنا ہے۔

اس کی ایک مثال جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا وہ اعتراف بھی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ سن دو ہزار پندرہ میں طے پانے والی یہ عالمی ڈیل اگرچہ پرفیکٹ نہیں ہے لیکن یورپی یونین اس پر عمل پیرا رہے گی۔ البتہ میرکل نے کہا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

دوسری طرف فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے ذرا سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جو فیصلے چاہے کرے، لیکن یورپ اس ڈیل کو زندہ رکھنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔

اسی طرح برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے بھی کہا ہے کہ لندن حکومت اس ڈیل کو بچانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔ تو فی الحال یہ کہا جا سکتا ہے کہ یورپ اپنے عزم پر برقرار ہے اور وہ ایرانی جوہری ڈیل پر کاربند رہے گا۔
سوال: یورپی یونین کی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کیوں کہا کہ امریکا ’قابل اعتماد ساتھی‘ نہیں ہے؟

جواب: امریکا نے اس ڈیل سے دستبردار ہوتے ہی ایران پر پابندیاں بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یوں یورپی کمپنیوں کے ایران میں کام کرنے کی وجہ سے واشنگٹن انہیں بھی پابندیوں کی زد میں لا سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹسک کا یہ بیان اسی تناظر میں ہے کیونکہ عالمی جوہری ڈیل پر کاربند رہتے ہوئے یورپی کمپنیاں تو ایران میں کام کریں گی اور اگر امریکا ان پر پابندیاں لگاتا ہے تو یہ واقعی قابل اعتماد پارٹنر نہ ہونے کے مترادف ہی ہو گا۔

دوسری صورت میں اگر یہ یورپی کمپنیاں ایران میں اپنی سرگرمیاں ختم کرتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یورپ امریکا کے دباؤ میں آ گیا ہے اور یوں یہ ڈیل خطرے میں پڑ جائے گی۔

ٹسک نے اس تناظر میں یہ بھی کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری ڈیل سے نکلنے اور امریکا میں یورپی برمدات پر مزید محصولات نافذ کرنے کی پالیسی کے خلاف ایک مشترکہ یورپی فرنٹ بنایا جانا چاہیے۔ ایک بات تو واضح ہے کہ اس تمام صورتحال میں امریکا اور یورپ کے مابین تناؤ کی کیفیت تو پیدا ہو چکی ہے۔

سوال: ان پابندیوں سے بچنے کے لیے یورپی یونین نے کیا حکمت عملی اپنائی ہے؟

جواب: یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود ینکر نے کہا ہے کہ انیس سو چھیانوے میں بنائے گئے اُس قانون کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے، جس کی بدولت ایران میں کام کرنے والی یورپی کمپنیاں امریکی پابندیوں پر عمل درآمد کی پابند نہیں رہیں گی۔

ینکر نے واضح کیا کہ یورپی کمیشن کا فرض بنتا ہے کہ وہ یورپی کمپنیوں کا تحفظ یقینی بنائے، اسی لیے اس قانون کو ری ایکٹیویٹ کیا جا رہا ہے۔ جمعے کے دن سے اس قانون پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔

ادھر یورپی انوسٹمنٹ بینک کو اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ ایران میں فعال یورپی کمپنیوں کو سرمایہ کاری میں مدد بھی فراہم کرے۔ ینکر کے بقول یورپی کمیشن مستقبل میں بھی ایران کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یورپی رہنما اس دوران ایران کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے اس کے میزائل پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے خدشات کو ختم کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
پاکستان تحریک انصاف نے ماہرین کی مدد سے اپنی ممکنہ حکومت کے پہلے 100 دن کا پلان تیارکرلیا
مصری صدر کے حکم پر غزہ کی مصر کے ساتھ جڑی سرحدی گزرگاہ رفح کو کھول دیا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »