پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

امریکی سفیر کی جرمنی سے ملک بدری کے مطالبات شدید تر
تاریخ :   05-06-2018

جرمنی ۔( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو )میں کئی اہم رہنماؤں کے یہ مطالبات شدید تر ہو گئے ہیں کہ چانسلر میرکل کی حکومت کو برلن متعینہ متنازعہ امریکی سفیر رچرڈ گرینل کو ملک بدر کر دینا چاہیے۔ گرینل پر جرمنی اور یورپ کی داخلی سیاست میں مداخلت کا الزام ہے۔

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے منگل پانچ جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق جرمنی میں تعینات امریکی سفیر رچرڈ گرینل سیاسی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور معتمد ہیں۔ لیکن ان پر الزام ہے کہ وہ سیاسی اور سفارتی حوالے سے اپنے عہدے کی غیر جانبدارانہ نوعیت کے تقاضوں کے برعکس کئی بار جرمنی اور یورپ کی داخلی سیاست میں مداخلت کے مرتکب ہوئے ہیں۔

امریکی سفیر گرینل کی جرمن اور بالواسطہ طور پر یورپی داخلی سیاست میں مبینہ مداخلت جرمن اور یورپی سیاستدانوں کو اس لیے بھی ناگوار گزری ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری ڈیل اور پھر امریکا اور یورپی یونین کے مابین تجارتی محصولات کے تنازعے سمیت کئی شعبوں میں پائے جانے والے اختلافات کے باعث یورپی امریکی تعلقات پہلے ہی سے کھچاؤ کا شکار ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اب جرمنی میں خاص کر یہ مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں کہ برلن حکومت کو رچرڈ گرینل کو ملک بدر کر دینا چاہیے۔ گرینل نے برلن میں امریکی سفیر کے طور پر اپنےفرائض ابھی آٹھ مئی کو سنبھالے تھے۔ پھر اسی روز انہوں نے یہ غیر متوقع کام بھی کر دیا کہ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ جرمن کمپنیوں کو ایران کے ساتھ اپنا ہر قسم کا کاروبار اس لیے بند کر دینا چاہیے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے امریکا کے اخراج کا اعلان کر چکے ہیں۔

گزشتہ ویک اینڈ پر رچرڈ گرینل اس وقت بھی یورپی رہنماؤں کو خفا کرنے کا باعث بنے جب دائیں بازو کی سوچ کا پرچار کرنے والی ایک ویب سائٹ ’برائٹ بارٹ‘ پر ان کا یہ بیان شائع ہوا کہ وہ ’یورپ بھر میں دیگر قدامت پسند رہنماؤں کو بھی زیادہ بااختیار بنانے‘ کا ارادہ رکھتے ہیں۔

رچرڈ گرینل کے ان ارادوں کی وجہ سے بھی یورپ میں کئی رہنماؤں کو اس وقت شدید حیرانی ہوئی تھی جب انہوں نے کہا تھا کہ وہ 13 جون کو آسٹریا کے انتہائی قدامت پسند چانسلر سباستیان کُرس کے اعزاز میں ایک ظہرانے کی میزبانی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جرمنی میں امریکی سفیر نے سباستیان کُرس کو ایک ’’روک سٹار‘‘ بھی قرار دیا تھا۔

جرمنی میں سرکردہ سیاسی حلقے رچرڈ گرینل کے اس طرز سفارت کاری کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، اس کا اظہار جرمنی کے ایک یورپی سطح کے اعلیٰ سیاستدان مارٹن شُلس کے ردعمل سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ شُلس جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق سربراہ اور چانسلر میرکل کے چانسلرشپ کے لیے حریف امیدوار رہنے کے علاوہ یورپی پارلیمان کے اسپیکر بھی رہ چکے ہیں۔

مارٹن شُلس کے مطابق، ’’یہ شخص (رچرڈ گرینل) جو کچھ بھی کر رہا ہے، وہ تو بین الاقوامی سفارت کاری میں کبھی کسی نے دیکھا نہ سنا۔‘‘ شُلس کے الفاظ میں، ’’اگر واشنگٹن میں کوئی جرمن سفیر کبھی یہ کہتا کہ وہ امریکا میں ڈیموکریٹس (ٹرمپ کی مخالف سیاسی جماعت

کے سیاستدانوں) کو زیادہ طاقت ور بنانے کے لیے واشنگٹن آیا ہے، تو اسے فوری طور پر امریکا سے نکال دیا جاتا۔‘‘

مارٹن شُلس نے اس سے قبل ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں یہ بھی کہا تھا، ’’امریکی سفیر کا رویہ کسی سفارت کار کی طرح کا نہیں بلکہ انتہائی دائیں باز وکے کسی نوآبادیاتی اہلکار کے رویے کی طرح کا ہے۔‘‘

دریں اثناء وفاقی جرمن وزارت خارجہ رچرڈ گرینل سے ان کے کئی حالیہ لیکن متنازعہ بیانات کی وضاحت بھی چاہتی ہے۔ اس کے لیے برلن کی وزارت خارجہ میں ریاستی امور کے اسٹیٹ سیکرٹری میشائیلیز کے ساتھ گرینل کی ایک ملاقات کل بدھ چھ جون کے لیے طے ہو چکی ہے۔

اسی طرح جرمنی کی بائیں بازو کی سیاسی جماعت دی لِنکے کی خاتون سربراہ سارا واگن کنَیشت نے بھی کہا ہے کہ جرمنی میں امریکی سفیر کے طور پر رچرڈ گرینل ثابت کر چکے ہیں کہ وہ اپنے موجودہ عہدے کے اہل نہیں ہیں۔

چانسلر میرکل کے مرکز سے دائیں باز وکی طرف جھکاؤ رکھنے والے حکومتی بلاک کے پارلیمانی دھڑے کے خارجہ سیاسی امور کے ترجمان ژُرگن ہارٹ کے مطابق، ’’رچرڈ گرینل واضح طور پر یورپی یونین کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

اگر جرمنی سے موجودہ امریکی سفیر کو ممکنہ طور پر ملک بدر کیا گیا، تو یہ جرمن امریکی تعلقات کو گزشتہ کئی عشروں کے دوران لگنے والا سب سے بڑا اور تکلیف دہ سیاسی دھچکا ہو گا۔

Print Friendly, PDF & Email
ایران یورینیم اور میزائلوں کے ذریعے جنگ کی راہ ہموار کر رہے ہیں
سعودی خواتین کو پہلا ڈرائیونگ لائسنس بھی جاری کر دیا گئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »