وزیراعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے واقعے پر رپورٹ طلب کر لی     No IMG     افغانستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا افتتاح کردیا     No IMG     ایران کے وزیر خارجہ کی ترک صدر اردوغان کے ساتھ ملاقات     No IMG     عمان کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں شام کی عرب لیگ میں واپسی پر تاکیدکی     No IMG     سعودی عرب کی ایک کمپنی نے ترکی میں 100 ملین ڈالر کا سرمایہ لگانے کا اعلان     No IMG     روس کی سرحد پربرطانوی فوجی ہیلی کاپٹروں کی تعیناتی پر شدید رد عمل     No IMG     چین ,نے سی پیک پر بھارت کے اعتراضات کو مسترد کردیا     No IMG     چلی میں چھوٹا طیارہ ایک گھر پر گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک     No IMG     فیصل آباد میں جعلی اکاﺅنٹ پکڑے گئے‘بنکوں کا عملہ بھی ملوث نکلا     No IMG     حمزہ شہبازعبوری ضمانت میں توسیع کے لیے ہائی کورٹ پہنچ گئے     No IMG     عوامی مقامات پر غیر مناسب لباس ممنوع، 5 ہزار ریال جرمانہ     No IMG     عالمی بینک نے پاکستان سے جوہری پروگرام، جے ایف 17 تھنڈر، بحری آبدوزوں اور سی پیک قرضوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     امریکی شہری پاکستان کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں, امریکی محکمہ خارجہ     No IMG     ملک بھر میں شدید طوفان آنے کا خدشہ     No IMG    

امریکی دفتر خارجہ کے حکام کی ملکی وزیر ٹلرسن کی خلاف ’بغاوت‘کر دیہے۔
تاریخ :   21-11-2017

امریکی دفتر خارجہ کے قریب ایک درجن حکام نے وزیر خارجہ ٹلرسن پر غیر ملکی فوجوں اور ملیشیا گروپوں کی طرف سے نابالغ فوجیوں کے استعمال سے متعلق ایک امریکی قانون کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف ’بغاوت‘ کر دی ہے۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے منگل اکیس نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی خصوصی رپورٹوں کے مطابق ان قریب ایک درجن امریکی حکومتی اہلکاروں نے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے امریکا ہی کے ایک وفاقی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ قانون اس امر کا احاطہ کرتا ہے کہ بیرونی ممالک میں کسی بھی ریاست کی فوج یا ملیشیا گروپ اپنی صفوں میں نابالغ بچوں کو فوجیوں یا جنگجوؤں کے طور پر بھرتی نہ کریں۔

روئٹرز کے مطابق یہ اقدام، جسے وزیر خارجہ ٹلرسن کے خلاف ’بغاوت‘ کا نام بھی دیا جا سکتا ہے، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ایک ایسے اندرونی لیکن خفیہ دستاویز کی صورت میں سامنے آیا، جس کی ایک کاپی خود روئٹرز کے نامہ نگاروں نے بھی دیکھی۔ یہ میمو 28 جولائی کو لکھا گیا تھا۔

اس ’میمو‘ کے مطابق، جس کی موجودگی کا آج تک کسی کو علم نہیں تھا، امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن اس وقت امریکا ہی کے ایک وفاقی قانون Child Soldiers Prevention Act کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، جب انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ عراق، میانمار اور افغانستان کو ان ممالک کی امریکی فہرست میں شامل نہ کیا جائے، جہاں جنگی مقاصد کے لیے نابالغ بچوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔اس خفیہ میمو کے مطابق ٹلرسن نے یہ فیصلہ اس حقیقت کے باوجود کیا کہ خود انہی کی قیادت میں کام کرنے والا امریکی محکمہ خارجہ ملکی وزیر خارجہ کے اس اقدام سے قبل کھلم کھلا یہ اعتراف کر چکا تھا کہ ان تینوں ممالک میں نابالغ بچے فوجیوں کے طور پر بھرتی کیے جاتے ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ فہرست ہر سال تیار کی جاتی ہے اور اس میں عراق، میانمار اور افغانستان کے نام شامل کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ یوں واشنگٹن حکومت کے لیے ان تینوں ریاستوں کو فوجی مدد فراہم کرنا آسان ہو گیا۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ عراق اور افغانستان تو امریکا کے دو بہت قریبی اتحادی ممالک بھی ہیں، جہاں ملکی حکومتیں عسکریت پسند مسلمانوں کے خلاف طویل عرصے سے جنگی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

اس کے برعکس میانمار ابھی امریکا کا عراق اور افغانستان جیسا اتحادی ملک تو نہیں لیکن وہ واشنگٹن کا مسلسل ابھر کر سامنے آنے والا ایک اہم اتحادی ملک ضرور بنتا جا رہا ہے۔ میانمار کے ساتھ امریکا کی اس قربت کی وجہ واشنگٹن حکومت کی یہ خواہش ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں خطے کی ایک بڑی طاقت چین کے اثر و رسوخ کا توڑ نکالا جائے۔ٹلرسن نے نابالغ فوجیوں کو استعمال کرنے والے ملکوں کی سالانہ امریکی فہرست سے افغانستان اور عراق کے ساتھ ساتھ میانمار کو بھی دانستہ طور پر نکال دیا

اس میمو کی روشنی میں یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ ریکس ٹلرسن نے بطور وزیر خارجہ اس حوالے سے عراق، افغانستان اور میانمار سے متعلق جو ’خلاف قانون‘ استثنائی فیصلہ کیا، وہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اپنے قانونی ماہرین، اسی محکمے کے انسانی حقوق کے دفتر، پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی سفیروں، اور ایشیا کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں امریکی سفارت خانوں کے نگران دفتر خارجہ کے اپنے علاقائی شعبوں کے سربراہان کی متفقہ سفارشات کے بالکل برعکس کیا۔

روئٹرز نے یہ بھی لکھا ہے کہ اتنے زیادہ اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کی ٹلرسن پر اتنی غیر معمولی تنقید یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے پیشہ ور سفارت کاروں اور وزیر خارجہ ٹلرسن کے مابین کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ٹلرسن امریکی ملٹی نیشنل کمپنی ’ایکسون موبیل کارپوریشن‘ کے سابق سربراہ ہیں، جنہیں صدر ٹرمپ نے اپنی ’پہلے امریکا‘ کی پالیسی کے تحت غیر متوقع طور پر وزیر خارجہ بنا دیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
لیبیا میں نوکری کے بہانےلائے گئے افراد کو اسمگلروں کے ہاتھ بیچ دیا جاتا ہے
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ سے چینی نائب وزیر وزیر خارجہ مسٹرکونگ نے ملاقات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »