سعودی عرب نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق امریکی سینیٹ کی قرارداد کو مسترد کردیا     No IMG     سابق سینیٹر اور پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل رضا عابدی پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فردجرم عائد کر دی     No IMG     مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کی شہادت پراحتجاجی مارچ     No IMG     چیف جسٹس آف پاکستان کا دورہ تُرکی ,تُرک کمپنی نے ڈیمز فنڈ میں عطیہ دے دیا     No IMG     وینزویلا سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ نوجوان لڑکی نے ملکہ حسن کا ٹائٹل جیت لیا     No IMG     حزب اللہ کی ايک اور سرنگ دريافت ,اسرائیلی فوج کا دعوی     No IMG     عوام اپنے مسائل کے حل کیلیے وزیر اعظم کمپلینٹ پورٹل کا استعمال کریں،وزیراعظم     No IMG     سابق صدر آصف زرداری نے پنجاب کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دے دی     No IMG     رشوت کا سب سے بڑا ناسور پٹواری ہیں, چیف جسٹس     No IMG     فرانسیسی پولیس نے پیلے رنگ جیکٹس والے مظاہرین پر شدید تشدد     No IMG     اسلام آباد تھانہ سہالہ میں شدید فائرنگ, بدنام زمانہ شیرپنجاب جاں بحق     No IMG     اگر گرفتار ہوا تو کیا ہوگا کیونکہ جیل تو میرا دوسرا گھر ہے, آصف علی زرداری     No IMG     امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا نیا وزیر داخلہ مقرر کرنے کا اعلان     No IMG     اٹلی میں ہزاروں مظاہرین نے مہاجر مخالف قوانین کے خلاف مظاہرہ     No IMG     پاکستانیوں کے دل پر آرمی پبلک سکول (اے پی ایس ) پشاور میں لگنے والے زخم کو چار سال مکمل ہوگئے     No IMG    

امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ کا سرکاری امداد لینے والے تارکینِ وطن کے گرین کارڈز بندکرنے پر غور
تاریخ :   24-09-2018

واشنگٹن ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے خوراک ، طبی علاج و معالجے اور مکانوں کی سہولت کی شکل میں سرکاری امداد حاصل کرنے والے تارکین ِ وطن کو گرین کارڈز کا اجراء بند کرنے پر غور شروع کردیا ہے اورا س مقصد کے لیے نئے قواعد وضوابط تجویز کردیے ہیں۔

امریکا کے وفاقی قانون کے تحت گرین کارڈ کے حصول کے خواہاں افراد کو پہلے ہی یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ قومی خزانے پرکوئی بوجھ ثابت نہیں ہوں گے۔نئے قواعد کے تحت کسی بھی شکل میں سرکاری امداد حاصل کرنے والے گرین کارڈ کے نااہل قرار پائیں گے۔

امریکا کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق ’’مجوزہ قواعد وضوابط کے تحت پہلے سے موجود قانون میں بالکل صراحت کردی جائے گی کہ جو لوگ بھی امریکا میں آنے اور یہاں عارضی یا مستقل طور پر رہنے کے خواہاں ہیں ، انھیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ مالی طور پر خود اپنی امداد کرسکتے ہیں، اپنے اخراجات برداشت کرسکتے اور ان کا سرکاری فوائد پر انحصار نہیں ہوگا‘‘۔

447 صفحات کو محیط ان مجوزہ قواعد وضوابط کو محکمے کی ویب سائٹ پر شائع کردیا گیا ہے اور آیندہ ہفتوں میں یہ وفاقی رجسٹر پر بھی نمودار ہوجائیں گے۔اس کے بعد 60 دن تک لوگ ان پر اپنی رائے کا اظہار کرسکیں گے۔پھر یہ نافذ العمل ہوجائیں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے یہ تجویز ملک میں وسطی مدت کے انتخابات سے صرف سات ہفتے قبل پیش کی ہے ۔اس سے ری پبلکن پارٹی کو صدر ٹرمپ کے قانونی یا غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کے حامی ووٹروں کی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب تارکینِ وطن کے حامی ایڈووکیسی گروپوں کا کہنا ہے کہ لوگ مکانوں سے بے دخلی اور خرابیِ صحت کے مسائل سے دوچار ہونے کے خطرے کے باوجود سرکاری امدادی پروگراموں سے دستبردار ہوجائیں گے کیونکہ اگر وہ ان امدادی پروگراموں سے استفادے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں تو انھیں امریکی ویزا جاری کرنے سے انکار کیا جاسکتا ہے۔

تارکین وطن جن امدادی پروگراموں سے استفادے کی بنا پر ویزے کے نااہل ہوسکتے ہیں ،ان میں طبی نگہداشت کے پارٹ ڈی میں بیان کردہ ادویہ ، بعض ہنگامی سروسز کے لیے خدمات، تعلیم ، فوڈ اسٹیمپ اور سیکشن 8 کے تحت ہاؤسنگ واؤچرز شامل ہیں۔

امریکا میں مقیم تارکین ِوطن کے حامی گروپوں نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے تحت امریکا میں اب صرف امیر لوگ ہی رہ سکتے ہیں یا یہاں آ سکتے ہیں اور غریب ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن پر اس ملک کے دروازے بند کیے جارہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
چین کے مالیاتی حکام نے فضائی آلودگی کی وجہ سے 158 کمپنیوں کے خلاف کارروائی
اسرائیل,کا فلسطینی گاؤں کے انہدام کا فیصلہ
Translate News »