چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

امریکا چاہتا ہے ہم بھارت کی چوہدراہٹ قبول کرلیں,مریکا میں پاکستانی سفیر اعزازاحمد چوہدری
تاریخ :   06-01-2018

واشنگٹن (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)امریکا میں پاکستانی سفیر اعزاز چودھری نے کہا ہے کہ ڈیڈ لائن اور ریڈ لائنز مشترکہ خطرے سے نمٹنے کے راستے کی رکاﺅٹ ہیں جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے سلامتی کی صورتحال بہتر ہوئی۔ایک اعلامیہ میں اعزاز چودھری نے کہا کہ افغانستان میں بھی دہشت گردوں کے خلاف اس طرح کی کارروائی کی ضرورت ہے تاہم افغانستان میں داعش جیسے گروپوں کے خلاف عالمی تعاون ناگزیر ہے۔اعزاز چودھری نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے وسائل سے لڑی،پاکستان نے 15 سال میں دہشت گردی کیخلاف 120 ارب ڈالرخرچ کیے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان امریکا تعاون امریکا کے مفاد میں ہے، پاکستان نے القاعدہ کے خلاف جنگ میں مدد دی جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے سلامتی کی صورتحال بہتر ہوئی اور دیرپا امن کے لیے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔اعزاز چوہدری نے کہا کہ صرف حقانی نیٹ ورک امریکا کا مسئلہ نہیں،پاکستان نے باور کرایا ہے کہ پاکستان کو خطے میں بھارت کی چوہدراہٹ قبول نہیں۔ امریکا نے کوئی تحریری مطالبات نہیں دیئے تاہم پاکستان نے اپنے مطالبات امریکا سامنے رکھ دیے ہیں۔اعزازچوہدری نے مزید کہا کہ افغانستان میں بھارت کے کردار پر سوال اٹھایا ہے اور افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کی نشاندہی کی،لہذا افغان مہاجرین کو دہشت گردی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔دریں اثناءایک انٹریو میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے کہا کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کی امداد روکنے کے منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان فاصلے بڑھیں گے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے جو قربانیاں دیں اور جو کامیابیاں حاصل کیں ان کی اگر قیمت لگانا شروع کردیا جائے تو یہ اچھی بات نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا کے حالیہ بیانات اور اقدامات پر ہمیں حیرت اس لیے ہوئی کہ حال میں امریکی سیکرٹری خارجہ ریکس ٹلرسن اور وزیر دفاع جیمز میٹس نے پاکستان کے دورے کیے جن میں مشترکہ گراﺅنڈ ڈھونڈنے کی بات ہوئی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے نہ کہ منفی بیانات دے کر باہمی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جائے۔انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے تسلسل کے ساتھ پاکستان کے خلاف منفی بیانات آرہے تھے، لیکن ساتھ ہی سرکاری سطح پر ہماری ان سے بات چیت بھی چل رہی ہے تاہم یہ امریکا کے فیصلے ہیں، پاکستان اور امریکا نے 70 سالوں میں کئی بار ایک ساتھ کام کیا ہے اس لیے اس کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ اب ہم اکٹھے کام نہ کریں۔ اعزاز چوہدری نے کہا کہ ہر ملک کی طرح پاکستان کو بھی اپنا مفاد عزیز ہے لیکن اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ ہمیشہ تصادم کی صوتحال ہی پیدا ہو۔بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑا کردار حاصل کرنے کے لیے بھارت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اس کا حقدار ہے، ہمیں افغانستان میں بھارت کے تعمیری کردار پر کوئی اعتراض نہیں لیکن وہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکا کی ناکامیوں کا پاکستان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا، افغانستان کی موجودہ صورتحال کے لیے پاکستان کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جاسکتا، امریکا کو 680 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود وہاں کامیابی نہیں ملی کیونکہ افغانستان کا حل عسکری نہیں سیاسی ہوسکتا ہے جس کے لیے پاکستان مدد کرنے کو تیار ہے۔امریکی امداد سے متعلق پاکستانی سفیر نے کہا کہ امریکا کے 33 ارب ڈالر میں سے آدھی سے زائد رقم وہ تھی جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم پہلے ہی خرچ کرچکے تھے، اس میں وہ رقم شامل نہیں ہے جو پاکستان نے امریکا کو زمینی اور فضائی راستہ دینے کے لیے خرچ کی جبکہ امداد روکنے سے دونوں ممالک ایک دوسرے سے دور ہوں گے۔پاکستان کے مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امریکا کے ساتھ معاملے پر اپنے اصولی موقف پر قائم رہنا چاہیے، ہمارا موقف ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہمارا مشترکہ مقصد ہے جس کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا اور پاکستان کے ساتھ باقی ممالک کو بھی اس کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔دوسری جانب ایک سینئر امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا پاکستان کی لگ بھگ 2 ارب ڈالر کی امداد روک سکتا ہے۔ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ فوجی ساز و سامان اور کولیشن سپورٹ فنڈ کی امداد روکی جا سکتی ہے۔امریکی عہدیدار کے مطابق ان2 ارب ڈالر میں سے ایک ارب ڈالر مالیت کا جدید فوجی ساز و سامان شامل ہے، جو پاکستان کو ملنا ہے اور اس میں وہ رقم بھی شامل ہے جو امریکی اور نیٹو کی فوجی رسد کو افغانستان تک پہنچانے کے لیے پاکستان کو ادا کی جاتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے مکمل طور پر امداد روکنے کا امکان نہیں ہے اور پیسے ایک ارب 90 کروڑ ڈالر بنتے ہیں تاہم یہ ابتدا ءمیں بتائی جانے والی رقم سے خا صی زیادہ ہے۔عہدیدار نے مزید بتایا کہ امریکی انتظامیہ کی پابندیوں کے باوجود پاکستان کے کچھ پروگرامز کو استثنا حاصل ہوگا، جن کا تعلق خود امریکا کی اپنی قومی سلامتی سے ہے جبکہ اس میں پاکستان کو دی جانے والی نقد امداد بھی شامل ہے جو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو محفوظ رکھنے کے لیے دی جاتی ہے۔سینئر عہدیدار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے پاس تمام تجاویز زیر غور ہیں اور اگر اسے مزید اقدامات اٹھانا پڑیں، تو اس صورت میں پاکستان کی غیر نیٹو اتحادی کی حیثیت ختم کی جا سکتی ہے یا آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول کو روکا جا سکتا ہے

Print Friendly, PDF & Email
بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے پاکستان میں کام کرنے کی خبر دینے والا بھارتی صحافی لا پتہ ہوگیا
ترکی کا یورپی یونین میں شامل ہونے کا کوئی چانس نہیں,فرانس کے صدر میکروں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »