گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG     قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں گے،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ     No IMG     اپوزیشن ,جماعتوں نے منی بجٹ مسترد کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کو سونے کی کلاشنکوف کا تحفہ مل گیا     No IMG     سعودی لڑکی رھف کا فرار ہونے کے بعد پہلا انٹرویو     No IMG     بنگلہ دیش,گارمنٹس ملازمین کا تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر مظاہرہ     No IMG     بھارتی فوج مغربی سرحد کیساتھ دہشتگردانہ کارروائیوں کیخلاف سخت ایکشن لینے سے نہیں ہچکچائے گی۔     No IMG     حکومت نے ایک ہفتے میں ہم سے 113 ارب روپے قرض لیاہے، پاکستانی اسٹیٹ بینک     No IMG     وزیراعظم کی اپوزیشن پر شدید تنقید     No IMG     چین کی عدالت نے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں کینیڈا کے شہری کی 15 سال قید کی سزا کو پھانسی میں تبدیل کردیا     No IMG    

امریکا پاکستانی فوج، انٹیلیجنس حکام پر پابندیاں لگائے,سابق افغان صدر حامد کرزئی
تاریخ :   08-02-2018

کابل (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) سابق افغان صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں جنگ کے حوالے سے امریکا اور پاکستان پر شدید تنقید کرتے ہوئے واشنگٹن انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس کے اعلیٰ حکام پر پابندیاں عائد کرنا چاہییں
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں حامد کرزئی نے کہا کہ امریکا کی قیادت میں افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف جو عسکری کارروائی کی گئی تھی، اس کے 16 برس بعد ہندوکش کی یہ ریاست آج بھی ’انتہائی بری حالت‘ میں ہے۔

حامد کرزئی کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ کابل میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے کچھ ہی عرصے بعد کرزئی افغان صدر کے عہدے پر فائز ہو گئے تھے اور یہ عہدہ 2014ء تک انہی کے پاس رہا تھا۔
افغان دارالحکومت کابل میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران طالبان عسکریت پسندوں اور داعش سے تعلق رکھنے والی ان کی ایک مقامی حریف تنظیم کی طرف سے کئی ایسے بہت ہلاکت خیز حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں سوا سو سے زائد انسان ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملے ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان میں امریکا کی حمایت یافتہ حکومت کابل تک کو محفوظ بنانے میں بھی ناکام ہو چکی ہے۔

اس پس منظر میں حامد کرزئی نے اپنے انٹرویو میں کہا، ’’امریکا ہمیں یہ نہیں بتا سکتا کہ ’اگر میں یہاں نہ رہوں، تو تمہاری حالت اور بھی خراب ہو گی‘۔ ہم تو اب بھی انتہائی بری حالت میں ہیں۔ ہم اپنے ملک میں صورت حال میں بہتری دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم امن اور سلامتی کے خواہش مند ہیں۔‘‘ساتھ ہی سابق افغان صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکا افغانستان میں اپنے مستقل اڈے قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ خطے میں اپنے لیے طاقت اور اثر و رسوخ کو یقینی بنا سکے جبکہ پاکستان افغانستان کو مبینہ طور پر ایک طفیلی ریاست میں بدل دینا چاہتا ہے۔

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق حامد کرزئی نے اس انٹرویو میں امریکا اور پاکستان پر کئی طرح کے الزامات لگائے۔ انہو‌ں نے کہا کہ امریکی فوجی دستے افغانستان میں ’دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہیں‘ ہیں۔ ’’میری رائے میں تو امریکا ہمیں (افغانوں کو) منقسم اور کمزور رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ خطے میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے عمل پیرا رہے۔‘‘

پاکستان پر ایک بار پھر کابل کی موجودہ حکومت ہی کی طرح طالبان عسکریت پسندوں کی سرپرستی کا الزام لگاتے ہوئے کرزئی نے کہا کہ پاکستان طالبان عسکریت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے، اس لیے ’امریکا کو چاہیے کہ وہ پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس کے اعلیٰ حکام کے خلاف پابندیاں عائد کرے‘۔

 

Print Friendly, PDF & Email
روس نے یورپی یونین کی سرحد کے قریب روسی جوہری میزائلوں کی تنصیب
سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کا 2 فروری کا حکم نامہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »