آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف پر فرد جُرم عائد کر دی گئی     No IMG     محکمہ موسمیات کی پیش گوئی 19سے 26فروری تک ملک بھر میں بارشوں کی نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے     No IMG     وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بڑا مطالبہ     No IMG     حکمرانوں کے تمام حلقے کشمیر کے معاملے پر خاموش ہیں, مولانا فضل الرحمان     No IMG     پاکستان, میں 20ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا: سعودی ولی عہد     No IMG     لاہور قلندرز 78 رنز پر ڈھیر     No IMG     ابو ظہبی میں ہتھیاروں کے بین الاقوامی میلے کا آغاز     No IMG     برطانوی ہوائی کمپنی (Flybmi) دیوالیہ، سینکڑوں مسافروں کو پریشانی     No IMG     یورپ میں قانونی طریقے سے داخل ہونے والے افراد کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواستیں دیے جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے     No IMG     ٹرین کے ٹائلٹ میں پستول، سینکڑوں مسافر اتار لیے گئے     No IMG     یورپی یونین ,کے پاسپورٹوں کا کاروبار ’ایک خطرناک پیش رفت     No IMG     بھارت نے کشمیری حریت رہنماؤں کو دی گئی سیکیورٹی اورتمام سرکاری سہولتیں واپس لے لی     No IMG     پی ایس ایل کے چھٹے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 7وکٹوں سے شکست دےدی     No IMG     وزیرخارجہ کا ایرانی ہم منصب کو ٹیلیفون     No IMG     سعودی ولی عہد کا پاکستان میں تاریخی اور پُرتپاک استقبال     No IMG    

افغان حکام کا ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی پاکستان کو دینے سے انکار
تاریخ :   15-11-2018

ضلع خیر ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) افغان حکام نے ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی پاکستان کو دینے سے انکار کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور شوکت یوسف زئی ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی لینے کے لیے طور خم گیٹ

پر موجود ہیں تاہم افغان حکام نے ایس پی طاہر کا جسد خاکی پاکستان حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
حکومتی اقدمات کے برعکس ایم این اے محسن داوڑ کی افغان حکام سے بات چیت جاری ہے۔محسن داوڑ کا تعلق پیشتون تحفظ مومنٹ سے ہے۔میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ افغان حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایس پی طاہر خان داوڑ کی لاش صرف اور صرف محسن داوڑ کے حوالے کریں گے۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس تمام صورتحال میں پی ٹی ایم اور افغان حکومت کا گٹھ جوڑ بھی سامنے آ گیا ہے ۔
خیال رہے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے آج کہا تھا کہ خیبرپختونخوا کے ایس پی طاہر خان داوڑ شہید کو 26 اکتوبر کو اسلام آباد سے اغواء سے کیا گیا، انہیں پہلے بھی دھمکیاں مل رہی تھیں، ان کے اہل خانہ ملنے والی دھمکیوں کے باعث اسلام آباد منتقل ہو چکے تھے، وزیراعظم نے انہیں شہید کرنے کے واقعہ کی انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے، اس واقعہ کے مجرم افغانستان میں ہوں یا پاکستانمیں انہیں نشان عبرت بنایا جائے گا، اسلام آباد میں سیف سٹی منصوبے کے 600 سے زائد کیمرے کام ہی نہیں کر رہے، اس منصوبے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں گی۔
جمعرات کو ایوان بالا میں پالیسی بیان دیتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ طاہر داوڑ کی شہادت کا واقعہ انتہائی دل سوز اور تکلیف دہ ہے اور اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے اور خاص طور پر پولیس کے حوالے سے سوالیہ نشان ابھر کر سامنے آتا ہے، طاہر خان داوڑ شہید پاکستان کے غیرت مند بیٹے ہیں، ان پر پہلے بھی دو مرتبہ خودکش حملے ہوئے، ان کی جان کو اتنا خطرہ تھا کہ وہ سات سال خیبرپختونخوا سے باہر رہے اور2017ء میں ان کا خاندان منتقل ہو کر بہارہ کہو آ گیا، ان کے ایک بھائی اور بھابی کو بھی شہید کر دیا گیا، 26 اکتوبر کو سوا چھ بجے وہ جی ٹین میں ایک شادی کی تقریب میں پہنچے تھے، 7 بج کر 45 منٹ پر ان کے بھائی فرحان احمد الدین داوڑ نے تھانہ رمنا اسلام آباد میں رپورٹ درج کرائی، 28 اکتوبر کو ایف آئی آر درج کی گئی، یہ ایک حساس معاملہ تھا ان کا اپنے اہل خانہ کو جو آخری پیغام ملا اس میں انہوں نے کہا کہ ’’میں محفوظ ہوں اور آپ پریشان نہ ہوں‘‘، 13 نومبر تک انٹیلی جنس ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کرتے رہے، 13 نومبر کو پہلی مرتبہ میت کی تصویر سامنے آئی، اس وقت تک کوئی مصدقہ خبر یا اطلاع نہیں تھی اس لئے کسی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے تھے، 14 نومبر کو افغان حکومت نے طاہر داوڑ شہید کی خبر کی تصدیق کی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ، آئی جی خیبرپختونخوا اور آئی جی اسلام آباد سے فوری طور پر انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک دشوار گزار سرحد ہے اور افغانستان کی طرف کوئی پیٹرولنگ کا طریقہ کار بھی نہیں ہے، اس پر ہم نے کئی بار بات بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں سیف سٹی منصوبے کے تحت 1800 کیمرے لگائے گئے ہیں لیکن ایک کیمرے میں بھی اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ نمبر پلیٹ یا گاڑیوں میں سوار افراد کے بارے میں کوئی معلومات دے سکے حالانکہ 95 فیصد رقم تو ایم او یوز دستخط کرتے ہی جاری کر دی گئی تھی، اس وقت بھی 600 سے زائد کیمرے کام ہی نہیں کر رہے۔

Print Friendly, PDF & Email
اسلام آباد کے بابوؤں پرعوام کو اعتبار نہیں سابق صدر
پاکستان کو کشمیر نہیں چاہیے ہمارے سیاستدان تو اپنے 4 صوبے نہیں سنبھال سکتے۔شاہد خان آفریدی
Translate News »