شمالی کوریا کا ایٹمی طاقت کے مظاہرے کا عزم     No IMG     عراق کے دارالحکومت بغداد میں خودکش حملے کے نتیجے میں 19 افراد جاں بحق     No IMG     جرمنی کے وزير خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک مشترکہ ایٹمی معاہدے کی حمایت پر متحد اور متفق ہیں۔     No IMG     ایران کو شام میں فوجی بیس بنانے کی اجازت نہیں دیں گے,اسرائیل کے وزير اعظم     No IMG     مقبوضہ کشمیر، یاسین ملک کی مسلسل غیر قانونی نظر بندی کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی ریڈ کراس کمیٹی سے اپیل     No IMG     سابق وزیراعظم نواز شریف نے چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو توہین آمیز پریس ریلیز جاری کرنے پر قانونی نوٹس بھجوا دیا۔     No IMG     قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی سےملاقات     No IMG     پی ٹی آئی چئیرمین نے بڑا فیصلہ کر لیا ، اب پی ٹی آئی میں شمولت اختیار کرنا آسان نہ ہو گا     No IMG     پاکستان میں تھری اور فور جی صارفین کی تعداد 5 کروڑ46 لاکھ ہو گئی،     No IMG     سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت میں اپنے نکالنے کی 4 بڑی وجوہات بتادیں     No IMG     حافظ آباد میں کپڑے کی فیکٹری میں آگ لگ گئی     No IMG     پی ٹی آئی کے اعلیٰ عہدے داروں کی پریم کہانی شروع ہو گئی     No IMG     امريکا نے 5 ايرانی اہلکاروں پر پابندی عائد کر دی     No IMG     موجودہ حکومت نے دہشت گردی ، عسکریت پسندی اور توانائی بحران کو حل کیا ، ملکی معیشت کو مستحکم کردیا, لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم     No IMG     پی ٹی آئی گزشتہ 5 سالوں میں خیبرپختونخوا میں ڈلیور کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی، مائزہ حمید     No IMG    

افغان جنگ میں امریکی جنگی اخراجات پر پاکستانی ماہرین کی تنقید
تاریخ :   09-02-2018

افغان (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) جنگ میں امریکا ہر سال اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے جس پر پاکستان میں کئی ماہرین تنقید کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ جنگ کے بجائے اگر یہ پیسہ جنگ زدہ ملک کی ترقی کے لیے لگایا جاتا، تو وہاں کب کا امن ہو چکا ہوتا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمزکی ا یک رپورٹ کے مطابق امریکا سالانہ بنیادوں پر 45 ارب ڈالر افغان جنگ پر خرچ کر رہا ہے لیکن مستقبل قریب میں اس جنگ کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ کئی پاکستانی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا جب سے افغانستان میں آیا ہے اس نے اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالرز خرچ کیے ہیں لیکن پھر وہاں امن نہیں ہوسکا کیونکہ افغانستان میں اس پیسے کا ایک بڑا حصہ کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے۔

معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہ،’’مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں کرپشن اپنے عروج پر ہے۔ سابق صدر حامد کرزئی اور ان کے بھائی پر بھی کرپشن کے سنگین الزامات تھے اور موجودہ افغان قیادت میں بھی کئی افراد کو ان الزامات کا سامنا ہے۔ جب آپ پیسہ لوگوں پر نہیں لگاتے، تو ان کا رجحان انتہا پسندی کی طرف بڑھتا ہے اور طالبان کی باتیں ان کے لیے پر کشش بن جاتی ہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’امریکا نے شروع میں گیارہ بارہ بلین ڈالرز افغان فوج کی تربیت پر سالانہ خرچ کیے، اب انہیں تقریباﹰ چھ بلین ڈالرز چاہییں۔ لیکن اتنا پیسہ خرچ کرنے کے بعد ان کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ گھوسٹ ملازمین نہ صرف دوسرے سرکاری اداروں میں ہیں بلکہ فوج میں بھی ایسے ملازمین ہیں۔‘‘

تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں بھی افغانستان میں کرپشن ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ’’ایک امریکی جریدے کی رپورٹ ہے کہ افغانوں نے ایک خطیر رقم سے اسکول تعمیر کیا لیکن کچھ ہی عرصے میں اس کی چھت اور دیواروں نے جواب دے دیا۔ تو کرپشن سمیت کئی اور مسائل بھی افغانستان کی خانہ جنگی کا باعث ہیں۔ اس لیے افغانستان کو یہ معاملات خود حل کرنے چاہیے اور ساری چیزوں کا ملبہ پاکستان پر نہیں ڈالنا چاہیے۔‘‘

تاہم کابل سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار وحید اللہ عزیزی کے خیال میں پاکستان کے خلاف الزامات کی نوعیت مختلف ہے۔ عزیزی کے مطابق، ’’پاکستان کو کرپشن کے حوالے سے کبھی موردِ الزام نہیں ٹھہرایا گیا بلکہ انہیں اس حمایت کے لیے الزام دیا جاتا ہے، جو وہ افغان حکومت کے مطابق دہشت گردوں کو دیتے ہیں۔زیادہ تر جو امداد آئی وہ امریکا کی طرف سے ہونے والے عسکری آپریشنز پر خرچ ہوئی۔ یہ افغانوں کو نہیں دی گئی۔‘‘

انہوں نے اعتراف کیا کہ حالیہ مہینوں میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عزیزی کہتے ہیں، ’’لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ افغان فورسز طالبان کا مقابلہ نہیں کر رہی ہیں۔ میرے خیال میں ان کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے اور طالبان کے خلاف تمام محاذوں پر وہ ہی آگے آگے ہیں۔ اس کے علاوہ فوج میں ہونے والی حالیہ اصلاحات بھی ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*