گورنر پنجاب اپنے عہدے سے مستعفی     No IMG     دھاندلی کے خلاف ہرفورم پر آواز اٹھائیں گے,مسلم لیگ (ن) حمزہ شہباز شریف     No IMG     افغانستنا میں طالبان کی جانب سے چیک پوسٹ اور ایئربیس پر2 حملوں میں 56 اہلکار ہلاک     No IMG     ترکی کی طرف سے امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا آغاز ہوگیا ہے صدر اردوغان کے بہت سے حامیوں نے امریکی موبائل آئی فون کو توڑدیا     No IMG     ہرسال 15اگست کا دن کشمیری عوام کیلئے مصیبت اور مشکلات کا باعث بنتا ہے, تحریک حریت کے ترجمان     No IMG     سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں پاکستانی ایمبیسی میں جشن آزادی روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا ۔     No IMG     منی لانڈرنگ کیس میں سپریم کورٹ نے اومنی گروپ کی مالک انور مجید کو بیٹوں سمیت کمرہ عدالت سے گرفتار     No IMG     بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کے سامنے سب سے بڑااعلان کردیا     No IMG     تحریک انصاف کی بڑی اتحادی جماعت نے عمران خان کیخلاف بغاوت کردی     No IMG     لاہور: پنجاب اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا     No IMG     پاکستان تحریک انصاف سے اقتدار چھن جانے کا خدشہ, تحریک انصاف میں کھلبلی     No IMG     تحریک انصاف کے ایک اور رکن صوبائی اسمبلی ملک غلام عباس کھاکھی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے     No IMG     اگلے4 برسوں میں دنیا کے درجہ حرارات میں اضافہ ہوگا۔ سمندری شدید گرم ہونے سے ، طوفان اور قدرتی آفات کا خطرہ دنیا بھر میں بڑھے گا, سائنسدانوں     No IMG     قومی اسمبلی کے اسپیکراورڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے آج سخت مقابلہ متوقع ہے     No IMG     احتساب عدالت کے باہر حالات کشیدہ ہو گئے,پولیس اہلکاروں اور ن لیگی کارکنوں میں جھڑپیں     No IMG    

افغان جنگ میں امریکی جنگی اخراجات پر پاکستانی ماہرین کی تنقید
تاریخ :   09-02-2018

افغان (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) جنگ میں امریکا ہر سال اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے جس پر پاکستان میں کئی ماہرین تنقید کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ جنگ کے بجائے اگر یہ پیسہ جنگ زدہ ملک کی ترقی کے لیے لگایا جاتا، تو وہاں کب کا امن ہو چکا ہوتا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمزکی ا یک رپورٹ کے مطابق امریکا سالانہ بنیادوں پر 45 ارب ڈالر افغان جنگ پر خرچ کر رہا ہے لیکن مستقبل قریب میں اس جنگ کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ کئی پاکستانی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا جب سے افغانستان میں آیا ہے اس نے اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالرز خرچ کیے ہیں لیکن پھر وہاں امن نہیں ہوسکا کیونکہ افغانستان میں اس پیسے کا ایک بڑا حصہ کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے۔

معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہ،’’مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں کرپشن اپنے عروج پر ہے۔ سابق صدر حامد کرزئی اور ان کے بھائی پر بھی کرپشن کے سنگین الزامات تھے اور موجودہ افغان قیادت میں بھی کئی افراد کو ان الزامات کا سامنا ہے۔ جب آپ پیسہ لوگوں پر نہیں لگاتے، تو ان کا رجحان انتہا پسندی کی طرف بڑھتا ہے اور طالبان کی باتیں ان کے لیے پر کشش بن جاتی ہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’امریکا نے شروع میں گیارہ بارہ بلین ڈالرز افغان فوج کی تربیت پر سالانہ خرچ کیے، اب انہیں تقریباﹰ چھ بلین ڈالرز چاہییں۔ لیکن اتنا پیسہ خرچ کرنے کے بعد ان کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ گھوسٹ ملازمین نہ صرف دوسرے سرکاری اداروں میں ہیں بلکہ فوج میں بھی ایسے ملازمین ہیں۔‘‘

تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں بھی افغانستان میں کرپشن ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ’’ایک امریکی جریدے کی رپورٹ ہے کہ افغانوں نے ایک خطیر رقم سے اسکول تعمیر کیا لیکن کچھ ہی عرصے میں اس کی چھت اور دیواروں نے جواب دے دیا۔ تو کرپشن سمیت کئی اور مسائل بھی افغانستان کی خانہ جنگی کا باعث ہیں۔ اس لیے افغانستان کو یہ معاملات خود حل کرنے چاہیے اور ساری چیزوں کا ملبہ پاکستان پر نہیں ڈالنا چاہیے۔‘‘

تاہم کابل سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار وحید اللہ عزیزی کے خیال میں پاکستان کے خلاف الزامات کی نوعیت مختلف ہے۔ عزیزی کے مطابق، ’’پاکستان کو کرپشن کے حوالے سے کبھی موردِ الزام نہیں ٹھہرایا گیا بلکہ انہیں اس حمایت کے لیے الزام دیا جاتا ہے، جو وہ افغان حکومت کے مطابق دہشت گردوں کو دیتے ہیں۔زیادہ تر جو امداد آئی وہ امریکا کی طرف سے ہونے والے عسکری آپریشنز پر خرچ ہوئی۔ یہ افغانوں کو نہیں دی گئی۔‘‘

انہوں نے اعتراف کیا کہ حالیہ مہینوں میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عزیزی کہتے ہیں، ’’لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ افغان فورسز طالبان کا مقابلہ نہیں کر رہی ہیں۔ میرے خیال میں ان کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے اور طالبان کے خلاف تمام محاذوں پر وہ ہی آگے آگے ہیں۔ اس کے علاوہ فوج میں ہونے والی حالیہ اصلاحات بھی ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »