گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG     قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں گے،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ     No IMG     اپوزیشن ,جماعتوں نے منی بجٹ مسترد کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کو سونے کی کلاشنکوف کا تحفہ مل گیا     No IMG     سعودی لڑکی رھف کا فرار ہونے کے بعد پہلا انٹرویو     No IMG     بنگلہ دیش,گارمنٹس ملازمین کا تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر مظاہرہ     No IMG     بھارتی فوج مغربی سرحد کیساتھ دہشتگردانہ کارروائیوں کیخلاف سخت ایکشن لینے سے نہیں ہچکچائے گی۔     No IMG     حکومت نے ایک ہفتے میں ہم سے 113 ارب روپے قرض لیاہے، پاکستانی اسٹیٹ بینک     No IMG     وزیراعظم کی اپوزیشن پر شدید تنقید     No IMG     چین کی عدالت نے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں کینیڈا کے شہری کی 15 سال قید کی سزا کو پھانسی میں تبدیل کردیا     No IMG    

افغان جنگ میں امریکی جنگی اخراجات پر پاکستانی ماہرین کی تنقید
تاریخ :   09-02-2018

افغان (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) جنگ میں امریکا ہر سال اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے جس پر پاکستان میں کئی ماہرین تنقید کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ جنگ کے بجائے اگر یہ پیسہ جنگ زدہ ملک کی ترقی کے لیے لگایا جاتا، تو وہاں کب کا امن ہو چکا ہوتا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمزکی ا یک رپورٹ کے مطابق امریکا سالانہ بنیادوں پر 45 ارب ڈالر افغان جنگ پر خرچ کر رہا ہے لیکن مستقبل قریب میں اس جنگ کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ کئی پاکستانی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا جب سے افغانستان میں آیا ہے اس نے اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالرز خرچ کیے ہیں لیکن پھر وہاں امن نہیں ہوسکا کیونکہ افغانستان میں اس پیسے کا ایک بڑا حصہ کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے۔

معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہ،’’مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں کرپشن اپنے عروج پر ہے۔ سابق صدر حامد کرزئی اور ان کے بھائی پر بھی کرپشن کے سنگین الزامات تھے اور موجودہ افغان قیادت میں بھی کئی افراد کو ان الزامات کا سامنا ہے۔ جب آپ پیسہ لوگوں پر نہیں لگاتے، تو ان کا رجحان انتہا پسندی کی طرف بڑھتا ہے اور طالبان کی باتیں ان کے لیے پر کشش بن جاتی ہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’امریکا نے شروع میں گیارہ بارہ بلین ڈالرز افغان فوج کی تربیت پر سالانہ خرچ کیے، اب انہیں تقریباﹰ چھ بلین ڈالرز چاہییں۔ لیکن اتنا پیسہ خرچ کرنے کے بعد ان کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ گھوسٹ ملازمین نہ صرف دوسرے سرکاری اداروں میں ہیں بلکہ فوج میں بھی ایسے ملازمین ہیں۔‘‘

تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں بھی افغانستان میں کرپشن ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ’’ایک امریکی جریدے کی رپورٹ ہے کہ افغانوں نے ایک خطیر رقم سے اسکول تعمیر کیا لیکن کچھ ہی عرصے میں اس کی چھت اور دیواروں نے جواب دے دیا۔ تو کرپشن سمیت کئی اور مسائل بھی افغانستان کی خانہ جنگی کا باعث ہیں۔ اس لیے افغانستان کو یہ معاملات خود حل کرنے چاہیے اور ساری چیزوں کا ملبہ پاکستان پر نہیں ڈالنا چاہیے۔‘‘

تاہم کابل سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار وحید اللہ عزیزی کے خیال میں پاکستان کے خلاف الزامات کی نوعیت مختلف ہے۔ عزیزی کے مطابق، ’’پاکستان کو کرپشن کے حوالے سے کبھی موردِ الزام نہیں ٹھہرایا گیا بلکہ انہیں اس حمایت کے لیے الزام دیا جاتا ہے، جو وہ افغان حکومت کے مطابق دہشت گردوں کو دیتے ہیں۔زیادہ تر جو امداد آئی وہ امریکا کی طرف سے ہونے والے عسکری آپریشنز پر خرچ ہوئی۔ یہ افغانوں کو نہیں دی گئی۔‘‘

انہوں نے اعتراف کیا کہ حالیہ مہینوں میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عزیزی کہتے ہیں، ’’لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ افغان فورسز طالبان کا مقابلہ نہیں کر رہی ہیں۔ میرے خیال میں ان کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے اور طالبان کے خلاف تمام محاذوں پر وہ ہی آگے آگے ہیں۔ اس کے علاوہ فوج میں ہونے والی حالیہ اصلاحات بھی ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔‘

Print Friendly, PDF & Email
تحریک انصاف کی منحرف رہنما عائشہ گلالئی نے عمران خان کے مدمقابل آئندہ الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا‘
ہندوستان میں گوگل پر بھاری جرمانہ عائد، سرچ میں جانب داری کا الزام

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »