وینزویلا سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ نوجوان لڑکی نے ملکہ حسن کا ٹائٹل جیت لیا     No IMG     حزب اللہ کی ايک اور سرنگ دريافت ,اسرائیلی فوج کا دعوی     No IMG     عوام اپنے مسائل کے حل کیلیے وزیر اعظم کمپلینٹ پورٹل کا استعمال کریں،وزیراعظم     No IMG     سابق صدر آصف زرداری نے پنجاب کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دے دی     No IMG     رشوت کا سب سے بڑا ناسور پٹواری ہیں, چیف جسٹس     No IMG     فرانسیسی پولیس نے پیلے رنگ جیکٹس والے مظاہرین پر شدید تشدد     No IMG     اسلام آباد تھانہ سہالہ میں شدید فائرنگ, بدنام زمانہ شیرپنجاب جاں بحق     No IMG     اگر گرفتار ہوا تو کیا ہوگا کیونکہ جیل تو میرا دوسرا گھر ہے, آصف علی زرداری     No IMG     امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا نیا وزیر داخلہ مقرر کرنے کا اعلان     No IMG     اٹلی میں ہزاروں مظاہرین نے مہاجر مخالف قوانین کے خلاف مظاہرہ     No IMG     پاکستانیوں کے دل پر آرمی پبلک سکول (اے پی ایس ) پشاور میں لگنے والے زخم کو چار سال مکمل ہوگئے     No IMG     رائے ونڈ, چینی انجنئیر، جیا جینیفر پر دل ہار بیٹھا     No IMG     سپین میں یہ بیٹا ایک سال تک ماں کی لاش کے ساتھ کیوں رہا ؟     No IMG     سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے صحافی جمال خاشقجی کے قاتل سعود القحطانی کو معاف کردیا     No IMG     سری لنکن صدر نے برطرف وزیر اعظم کو دوبارہ وزیر اعظم منتخب کرلیا     No IMG    

افغانستان کے شمالی صوبے قندوز میں مدرسے پر فضائی حملہ، درجنوں ہلاکتیں
تاریخ :   02-04-2018

افغانستان (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)  کے شمالی صوبے قندوز میں ایک مدرسے پر ملکی فورسز کے ایک مبینہ فضائی حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ طالبان کے مطابق اس حملے میں 150 سے زائد مذہبی اسکالر اور عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

قندوز کی صوبائی کونسل کے ایک رکن مولوی عبداللہ نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ ’مولوی گجر‘ نامی مدرسے پر اس حملے کے نتیجے میں 50 سے 60 تک طالبان عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ عبداللہ کے مطابق جس وقت یہ فضائی حملہ کیا گیا، اس وقت طالبان کے کئی ارکان اور عام شہری وہاں قرآن خوانی میں مصروف تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں سویلین ہلاکتوں کی تاحال کوئی اطلاع نہیں ہے۔

طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس حملے میں 150 کے قریب مذہبی اسکالر اور عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ طالبان کی طرف سے اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ حملے کے وقت ان کے کوئی جنجگو وہاں موجود تھے۔ مقامی باشندوں کے مطابق اس فضائی حملے کا نشانہ ایک مسجد بنی اور یہ کہ اس کے نتیجے میں متعدد عام شہری بھی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

افغانستان میں امریکی فورسز کی طرف سے تاہم کہا گیا ہے کہ امریکی فورسز نے اس علاقے میں کوئی حملہ نہیں کیا۔ روئٹرز نے امریکی فوج کی کرنل لیزا گارشیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فورسز نے آج پیر دو اپریل کو قندوز میں کوئی حملہ نہیں کیا اور اگر کسی کی طرف سے ایسا کوئی دعویٰ کیا بھی جا رہا ہے تو وہ غلط ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے افغان سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ صوبے قندوز کے ضلع دشتِ ارچی میں واقع اس مدرسے پر جب یہ حملہ کیا گیا، اُس وقت وہاں طالبان کے اعلیٰ کمانڈرز موجود تھے اور وہ موسم بہار کے تازہ حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے جمع ہوئے تھے۔

طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس حملے میں 150 کے قریب مذہبی اسکالر اور عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان نے بھی اس حملے کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ طالبان کے ایک تربیتی مرکز پر کیا گیا۔ محمد رادمنش کے مطابق اس حملے میں 20 طالبان ہلاک ہوئے، جن میں اس ضلع کے لیے طالبان کے ریڈ یونٹ کے کمانڈر اور کوئٹہ شوریٰ کا ایک اہم رکن بھی شامل ہیں۔ ترجمان نے کسی سویلین ہلاکت کی تردید کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس حملے میں اتنی ہی تعداد میں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
 پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین میچوں پر مشتمل ٹی 20سیریز کا دوسرا میچ بھی پاکستان نے 82 رنز سےجیت لی
جرمنی میں ملک بدری کے ليے شناختی دستاويز پيش نہ کرنے پر سزا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »