گجرانوالہ میں یوم پاکستان کی تقریب میں سکول کی دیوار گرنے سے 6 افراد جاں بحق     No IMG     79 واں یوم پاکستان: وفاقی دارالحکومت میں مسلح افواج کی شاندار پریڈ     No IMG     پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG    

افغانستان پر ’غیر ملکی فوجی قبضہ‘ جاری رہے گا، تب تک جنگ بھی جاری رہے گی۔
تاریخ :   18-08-2018

افغانستان ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) افغان طالبان کی قیادت نے کہا ہے کہ جب تک افغانستان پر ’غیر ملکی فوجی قبضہ‘ جاری رہے گا، تب تک جنگ بھی جاری رہے گی۔ یہ بات افغان طالبان کے رہنما مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ نے عیدالاضحیٰ سے قبل اپنے ایک بیان میں کہی ہے۔

افغان دارالحکومت کابل سے ہفتہ اٹھارہ اگست کو موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق طالبان کے رہنما ہیبت اللہ اخونزادہ نے اگلے ہفتے منائے جانے والے مسلمانوں کے مذہبی تہوار عیدالاضحیٰ کی مناسبت سے اس تہوار سے قبل جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہندوکش کی اس ریاست میں تب تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک وہاں غیر ملکی فوجی دستے موجود رہیں گے۔
اخونزادہ نے اپنے بیان میں افغانستان پر ’غیر ملکی فوجی قبضے‘ کی اصطلاح استعمال کی۔ افغانستان میں غیر ملکی فوجی دستے، جن میں اکثریت امریکی فوجیوں کی ہے، کابل حکومت کی رضامندی سے ہی اس ملک میں تعینات ہیں۔ لیکن طالبان عسکریت پسند، جن کا مطالبہ ہے کہ تمام غیر افغان فوجی اس ملک سے نکل جائیں، ان دستوں کی وہاں موجودگی کو ’غیر ملکی فوجی قبضے‘ کا نام دیتے ہیں۔

افغان طالبان ماضی میں بھی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن امریکا کی طرف سے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کیا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں طالبان کے سربراہ مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ نے اپنے بیان میں کہا، ’’جب تک غیر ملکی فوجی قبضہ جاری رہے گا، افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔‘‘

نیوز ایجنسی اے پی نے لکھا ہے کہ اپنے اسی بیان میں اخونزادہ نے مزید کہا کہ ہندوکش کی اس ریاست میں جنگ صرف اسی صورت میں ختم ہو سکتی ہے، جب طالبان اور امریکا کے مابین براہ راست بات چیت ہو گی۔ ساتھ ہی طالبان کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ طالبان ابھی تک اپنے نام نہاد ’اسلامی مقاصد‘ کے حصول کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔
ان ’اسلامی مقاصد‘ سے مراد طالبان عسکریت پسندوں کے رہنماؤں کا وہی مطالبہ ہے، جو وہ گزشتہ قریب 17 برسوں سے دوہراتے چلے آ رہے ہیں، یعنی ’جنگ کا خاتمہ اور افغانستان کی ریاستی خود مختاری کی بحالی‘۔

کابل حکومت اور غیر ملکی فوجی دستوں کی مخالفت اور ان کے اہم اہداف پر بار بار حملے کرنے والے طالبان عسکریت پسندوں نے گزشتہ چند ہفتوں میں اپنے حملے کافی تیز اور زیادہ ہلاکت خیز کر دیے ہیں۔ اسی مہینے کے اوائل میں افغان صوبے غزنی پر سینکڑوں طالبان کے ایک بڑے حملے میں، جو کئی دنوں تک جاری رہا تھا، کئی سو افراد مارے گئے تھے۔ ان ہلاک شدگان میں درجنوں عام شہریوں کے علاوہ قریب 200 طالبان حملہ آور اور 100 کے قریب افغان سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔

غزنی پر حملے کے علاوہ طالبان نے گزشتہ دنوں میں صوبے فریاب میں بھی ایک بڑا ہلاکت خیز حملہ کیا تھا اور اس کے علاوہ ملکی دارالحکومت کابل میں بھی بڑے حملے کیے گئے تھے، جن میں درجنوں افراد مارے گئے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
امریکی حکومت نے شام کے لیے230 ملین ڈالر کی ترقیاتی امداد منسوخ کر دی
پاکستان کے پہلے یہودی شہر یفیشل بینخلد کو گرین پاسپورٹ مل گیا
Translate News »