گجرانوالہ میں یوم پاکستان کی تقریب میں سکول کی دیوار گرنے سے 6 افراد جاں بحق     No IMG     79 واں یوم پاکستان: وفاقی دارالحکومت میں مسلح افواج کی شاندار پریڈ     No IMG     پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG    

افغانستان طالبان سے بات نہ کرنے کی امریکی پالیسی درست نہیں,سابق افغان صدر، حامد کرزئی
تاریخ :   02-02-2018

سابق افغان صدر، حامد کرزئی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے طالبان سے بات چیت نہ کرنے کی پالیسی کے نتیجے میں، بقول اُن کے، ’’افغانستان کی لڑائی طول پکڑے گی‘‘۔

جمعرات کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کی افغان سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’دہشت گردی کی جڑیں افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان میں ہیں‘‘، اور یہ کہ ’’پاکستان کے خلاف اقدام کیا جائے‘‘۔

کرزئی نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف ’’دباؤ ڈالنے کی پالیسی‘‘ کی حمایت کی۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے بیان کی حمایت کرتے ہیں جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستان ’’غلط بیانی اور دھوکہ دہی سے کام لیتا رہا ہے‘‘۔

ٹرمپ کے اس بیان پر کہ افغانستان میں لڑائی جاری رہ سکتی ہے، سابق افغان صدر نے کہا کہ ’’یہ پالیسی سریحاً غلط ہے، جس کی میں سختی سے مخالفت کرتا ہوں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ہمیں افغانستان میں امن کی ضرورت ہے اور ہم مزید جنگ و جدل نہیں چاہتے‘‘۔

رحیم گل ساروان کو دیے گئے انٹرویو میں، حامد کرزئی نے کہا کہ صدر اشرف غنی اور دیگر افغان قیادت کے پاس اختیارات کا فقدان ہے، جبکہ اگر اقتدار طالبان کے پاس ہوتا ’’تو وہ افغان عوام کے ساتھ امن قائم کرنے میں ضرور کامیاب ہوتے‘‘۔

بقول اُن کے، ’’طالبان کی نچلی سطح امن کی حامی ہے، جب کہ اُن کی قیادت اور اس کا اصل کنٹرول بیرون ملک سے ہوتا ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’افغانستان کی موجودہ صورت حال کے ذمہ دار خود ہم بھی ہیں، جب کہ ہمارے برے حالات کے ذمہ دار امریکہ اور پاکستان بھی ہیں‘‘۔ اُنھوں نے تجویز دی کہ ’’ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم امریکہ کے ساتھ ایک جب کہ پاکستان کے ساتھ دوسرا انداز اپنائیں‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email
ایران حجاب کی خلاف ورزی، دو درجن سے زائد ایرانی خواتین گرفتار
الیکشن کمیشن نے چاروں صوبوں کیلئے سینیٹ انتخابات کا شیڈول جاری کردیا،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »