گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG     قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں گے،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ     No IMG     اپوزیشن ,جماعتوں نے منی بجٹ مسترد کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کو سونے کی کلاشنکوف کا تحفہ مل گیا     No IMG     سعودی لڑکی رھف کا فرار ہونے کے بعد پہلا انٹرویو     No IMG     بنگلہ دیش,گارمنٹس ملازمین کا تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر مظاہرہ     No IMG     بھارتی فوج مغربی سرحد کیساتھ دہشتگردانہ کارروائیوں کیخلاف سخت ایکشن لینے سے نہیں ہچکچائے گی۔     No IMG     حکومت نے ایک ہفتے میں ہم سے 113 ارب روپے قرض لیاہے، پاکستانی اسٹیٹ بینک     No IMG     وزیراعظم کی اپوزیشن پر شدید تنقید     No IMG     چین کی عدالت نے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں کینیڈا کے شہری کی 15 سال قید کی سزا کو پھانسی میں تبدیل کردیا     No IMG    

افغانستان حکومت کو اپنے ملک کے اندر دیکھنے کی ضرورت ہے، مسئلہ وہیں ہے
تاریخ :   17-08-2018

اسلام آباد ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں تشدد کے حالیہ واقعات اور معصوم جانوں کے نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔فوج کے اطلاعات سے متعلق ادارے آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل باجوہ

نے پاکستان کے اس موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ افغانستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کو پاکستان کی جانب سے کسی قسم کی حمایت نہیں مل رہی۔وہ افغان صدر اشرف غنی کےاس مبینہ الزام کا جواب دے رہے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ غزنی پر حالیہ دہشت گرد حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے کئی طالبان واپس پاکستان گئے ہیں۔تاہم افغانستان میں بہت سے پاکستانی مختلف کاروبار اور محنت مزوری کرتے ہیں، جو وقتاً فوقتاً فغان سرحد کے اندر دہشت گردی کا ہدف بن جاتے ہیں اور علاج معالجے کے لیے اپنے وطن واپس آتے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے افراد کو دہشت گرد قرار دینا افسوس ناک ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے کئی دھڑوں نے افغان شناخت اختیار کر کے افغانستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ جب ان میں سے کوئی بیمار یا ہلاک ہو جاتا ہے تو اسے پاکستان پہنچا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح افغان پناہ گزین اور ان کے رشتے دار بھی بیماری وغیرہ کی صورت حال میں پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج کے سربراہ افغان صدر کے ساتھ اپنے اس عہد پر قائم ہیں کہ وہ افغانستان میں امن لانے کے لیے تمام اقدامات کریں گے۔انہوں نے اس بات پر پھر زور دیا کہ افغانستان کو اپنے ملک کے اندر دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ مسئلہ افغانستان کے اندر موجود ہے۔اس مسئلے کا حل افغان مفاہمتی کوششوں کی جانب عملی پیش رفت اور امن کے لیے افغانستان پاکستان ایکشن پلان پر فوری عمل درآمد میں پنہاں ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن لانے کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے کیونکہ خطے اور پاکستان کا امن و استحکام افغانستان میں امن کے ساتھ جڑا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ اداکردی گئیں
اسلام آباد پولیس نے پا نچ منشیا ت فروشوں سمیت 08 ملزمان کو گرفتار کر کے اسلحہ و منشیات بر آمد کر لیں
Translate News »