پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

افغانستان حکومت کو اپنے ملک کے اندر دیکھنے کی ضرورت ہے، مسئلہ وہیں ہے
تاریخ :   17-08-2018

اسلام آباد ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں تشدد کے حالیہ واقعات اور معصوم جانوں کے نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔فوج کے اطلاعات سے متعلق ادارے آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل باجوہ

نے پاکستان کے اس موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ افغانستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کو پاکستان کی جانب سے کسی قسم کی حمایت نہیں مل رہی۔وہ افغان صدر اشرف غنی کےاس مبینہ الزام کا جواب دے رہے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ غزنی پر حالیہ دہشت گرد حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے کئی طالبان واپس پاکستان گئے ہیں۔تاہم افغانستان میں بہت سے پاکستانی مختلف کاروبار اور محنت مزوری کرتے ہیں، جو وقتاً فوقتاً فغان سرحد کے اندر دہشت گردی کا ہدف بن جاتے ہیں اور علاج معالجے کے لیے اپنے وطن واپس آتے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے افراد کو دہشت گرد قرار دینا افسوس ناک ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے کئی دھڑوں نے افغان شناخت اختیار کر کے افغانستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ جب ان میں سے کوئی بیمار یا ہلاک ہو جاتا ہے تو اسے پاکستان پہنچا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح افغان پناہ گزین اور ان کے رشتے دار بھی بیماری وغیرہ کی صورت حال میں پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج کے سربراہ افغان صدر کے ساتھ اپنے اس عہد پر قائم ہیں کہ وہ افغانستان میں امن لانے کے لیے تمام اقدامات کریں گے۔انہوں نے اس بات پر پھر زور دیا کہ افغانستان کو اپنے ملک کے اندر دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ مسئلہ افغانستان کے اندر موجود ہے۔اس مسئلے کا حل افغان مفاہمتی کوششوں کی جانب عملی پیش رفت اور امن کے لیے افغانستان پاکستان ایکشن پلان پر فوری عمل درآمد میں پنہاں ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن لانے کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے کیونکہ خطے اور پاکستان کا امن و استحکام افغانستان میں امن کے ساتھ جڑا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ اداکردی گئیں
اسلام آباد پولیس نے پا نچ منشیا ت فروشوں سمیت 08 ملزمان کو گرفتار کر کے اسلحہ و منشیات بر آمد کر لیں
Translate News »