وزیراعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے واقعے پر رپورٹ طلب کر لی     No IMG     افغانستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا افتتاح کردیا     No IMG     ایران کے وزیر خارجہ کی ترک صدر اردوغان کے ساتھ ملاقات     No IMG     عمان کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں شام کی عرب لیگ میں واپسی پر تاکیدکی     No IMG     سعودی عرب کی ایک کمپنی نے ترکی میں 100 ملین ڈالر کا سرمایہ لگانے کا اعلان     No IMG     روس کی سرحد پربرطانوی فوجی ہیلی کاپٹروں کی تعیناتی پر شدید رد عمل     No IMG     چین ,نے سی پیک پر بھارت کے اعتراضات کو مسترد کردیا     No IMG     چلی میں چھوٹا طیارہ ایک گھر پر گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک     No IMG     فیصل آباد میں جعلی اکاﺅنٹ پکڑے گئے‘بنکوں کا عملہ بھی ملوث نکلا     No IMG     حمزہ شہبازعبوری ضمانت میں توسیع کے لیے ہائی کورٹ پہنچ گئے     No IMG     عوامی مقامات پر غیر مناسب لباس ممنوع، 5 ہزار ریال جرمانہ     No IMG     عالمی بینک نے پاکستان سے جوہری پروگرام، جے ایف 17 تھنڈر، بحری آبدوزوں اور سی پیک قرضوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     امریکی شہری پاکستان کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں, امریکی محکمہ خارجہ     No IMG     ملک بھر میں شدید طوفان آنے کا خدشہ     No IMG    

اس لباس میں کون ان سے شادی کرے گا؟,بھارتی وزیر
تاریخ :   13-12-2017

بھارت  (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)میں ایک مرکزی وزیر نے لڑکیوں کے جینز پہننے پر یہ کہتے ہوئے ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے کہ اس لباس میں کون ان سے شادی کرے گا؟

بھارت کے انسانی وسائل کے فروغ کے نائب مرکزی وزیر ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ نے طلبہ کے ایک پروگرام میں اخلاقیات کے حوالے سے اپنی تقریر میں کہا کہ لباس اور اخلاقی قدروں میں قریبی تعلق ہے اور پوشاک کے انتخاب میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ انہوں نے طلبہ سے سوالیہ انداز میں پوچھا، ’’اگر جینز پہننے والا کوئی شخص کسی مندر کا پجاری بن جائے تو کیا لوگ اسے پسند کریں گے۔ اور اگر کوئی دلہن جینز  پہن کر شادی کے منڈپ میں آئے تو کیا کوئی دولہا اس سے شادی کرنا پسند کرے گا؟ کتنے لڑکے جینس پہننے والی دلہن سے شادی کرنا چاہیں گے؟‘‘ ڈاکٹر سنگھ ماضی میں ممبئی پولیس کے کمشنر رہ چکے ہیں اور سیاست میں آنے کے لیے انہوں نے اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا تھا۔

یہ پروگرام صوبہ اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی ادیتیہ ناتھ کی نگرانی میں چلنے والے ایک تعلیمی ادارے میں منعقد کیا گیا تھا جس میں وہ خود بھی موجود تھے۔ یوگی ادیتیہ ناتھ اپنے شدت پسندانہ خیالات کے لیے مشہور ہیں اور صوبہ کی حکمرانی سنبھالنے کے بعد سے اترپردیش میں ہندو دھرم کے فروغ کے لیے ان کے کئی اقدامات تنازعات کا شکار ہوچکے ہیں۔
خواتین کے لباس پہننے پر اعلٰی عہدہ پر فائز کسی رہنما کی طرف سے سوال اٹھانے کا یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے۔ بھارتی سیاست دان خواتین کے لباس کے سلسلے میں اکثر متناز ع بیانات دیتے رہتے ہیں۔ حتی کہ وہ خواتین کے لباس کو بھارت میں عصمت دری کے بڑھتے واقعات سے بھی جوڑتے ہیں۔ مرکزی وزیر سیاحت و ثقافت ڈاکٹر مہیش شرما نے حال ہی میں بھارت آنے والی غیر ملکی خواتین کو اسکرٹ نہ پہننے کا مشورہ دے کر تنازعہ پیدا کردیا تھا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والے صوبہ ہریانہ کے وزیر اعلٰی منوہر لال کھٹر نے بھی لڑکیوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھاکہ اگر لڑکیاں شائستہ لباس پہنیں تو کوئی لڑکا ان کی طرف غلط نظروں سے نہیں دیکھے گا۔ مدھیا پردیش میں بی جے پی کے ہی وزیر بابو لال گوڑ کا کہنا تھا، ’’مغربی ملکوں میں خواتین جینز اور ٹی شرٹ پہنتی ہیں، مردوں کے ساتھ رقص کرتی ہیں اور شراب بھی پیتی ہیں، یہ ان کا کلچر ہے، یہ ان کے لیے اچھا ہوسکتا ہے لیکن بھارت کے لیے نہیں۔ یہاں ہماری تہذیب و ثقافت ہی ہمارے لیے بہتر ہے۔‘‘

سماج وادی پارٹی کے رہنما ابوعاصم اعظمی کے اس متنازعہ بیان پر بھی کافی ہنگامہ ہوا تھا کہ ’’بھڑکیلے لباس پہننے والی خواتین مردوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہیں اور عصمت دری کے واقعات میں اضافہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے‘‘۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف لوگوں نے مہم چھیڑ دی ہے۔ پرشانت جین نامی ایک شخص نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’ ان 545 منتخب افراد کے بارے میں وزیر موصوف کا کیا کہنا ہے جو کرتا پاجامہ، دھوتی کرتا، شیروانی میں پارلیمنٹ جاتے ہیں اور کوئی کام نہیں کرتے۔‘‘

فرقان خان نے لکھا ہے’’ایسے افراد ذہنی طور پر صحت مند نہیں ہیں، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کیسے بات کی جاتی ہے۔‘‘

آر ڈی لوہار نے ٹوئٹ کیا، ’’بی جے پی لوگوں کے کھانے، پینے اور پہننے پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔‘

رجت شرما نے لکھا، ’’ تعلیم یافتہ افراد بھی بی جے پی میں جاکر بے کار ہوجاتے ہیں۔‘‘
اس تنازعے کے حوالے سے صحافی کوشکی کشیپ کا کہنا ہے، ’’ایسے بیانات پر اب کوئی حیرت نہیں ہوتی، لیڈروں کی عادت ہی ایسی بن گئی ہے، ہمیشہ لڑکیوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ دراصل یہ ہماری سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم مردوں کے غلبے والے سماج کی گرفت سے اب تک باہر نہیں نکل سکے ہیں اور جب آئینی عہدہ پر فائز ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ جیسا کوئی شخص اس طرح کا بیان دیتا ہے تو لڑکیوں کے لباس کے حوالے سے ان کے کردار پر سوال اٹھانے والوں کو ایک اور موقع مل جاتا ہے۔‘‘
دریں اثنا صوبہ بہار میں مگدھ مہیلاکالج (ویمنز کالج) کی انتظامیہ نے جنوری 2018سے طالبات کے لیے ڈریس کوڈ جاری کرتے ہوئے کالج کیمپس میں جینز پہننے پر پابندی عائد کردی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
برطانیہ معاہدوں سے دستبرداری سے خبردار رہے
ترکی,دنیا مشرقی یروشلم کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »