آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف پر فرد جُرم عائد کر دی گئی     No IMG     محکمہ موسمیات کی پیش گوئی 19سے 26فروری تک ملک بھر میں بارشوں کی نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے     No IMG     وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بڑا مطالبہ     No IMG     حکمرانوں کے تمام حلقے کشمیر کے معاملے پر خاموش ہیں, مولانا فضل الرحمان     No IMG     پاکستان, میں 20ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا: سعودی ولی عہد     No IMG     لاہور قلندرز 78 رنز پر ڈھیر     No IMG     ابو ظہبی میں ہتھیاروں کے بین الاقوامی میلے کا آغاز     No IMG     برطانوی ہوائی کمپنی (Flybmi) دیوالیہ، سینکڑوں مسافروں کو پریشانی     No IMG     یورپ میں قانونی طریقے سے داخل ہونے والے افراد کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواستیں دیے جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے     No IMG     ٹرین کے ٹائلٹ میں پستول، سینکڑوں مسافر اتار لیے گئے     No IMG     یورپی یونین ,کے پاسپورٹوں کا کاروبار ’ایک خطرناک پیش رفت     No IMG     بھارت نے کشمیری حریت رہنماؤں کو دی گئی سیکیورٹی اورتمام سرکاری سہولتیں واپس لے لی     No IMG     پی ایس ایل کے چھٹے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 7وکٹوں سے شکست دےدی     No IMG     وزیرخارجہ کا ایرانی ہم منصب کو ٹیلیفون     No IMG     سعودی ولی عہد کا پاکستان میں تاریخی اور پُرتپاک استقبال     No IMG    

اسمبلی کی تقریر کو عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا,سابق وزیر اعظم
تاریخ :   14-11-2018

اسلام آباد( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف نیب کی طرف سے دائر کردہ نیب کے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف نے پوچھے گئے 151 سوالات میں سے 45 کے جوابات دے دیے ہیں اور جمع کروائے گئے جواب میں نواز شریف نے قومی اسمبلی

میں کیے گئے خطاب پر ایک مرتبہ پھر استثنیٰ مانگ لیا ہے۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر کو کسی عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا۔احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی سربراہی میں العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ریفرنس کے دوران نیب کی طرف سے پیش کردہ 151 سوالات میں سے 45 کے جواب جمع کرائے۔سابق وزیر اعظم نے عدالت کو بتایا کہ وہ ہل میٹل اور العزیزیہ کے کبھی مالک نہیں رہے، ’’العزیزیہ اسٹیل مل میرے والد مرحوم نے قائم کی تھی۔ میرا کسی حیثیت میں بھی خاندانی کاروبار سے کوئی تعلق نہیں تھا‘‘۔انہوں نے کہا کہ قوم سے خطاب میں کبھی نہیں کہا کہ العزیزیہ اسٹیل مل کی فروخت سے میرا کبھی کوئی تعلق رہا۔ ’’قومی اسمبلی سے خطاب میں العزیزیہ اسٹیل مل کے قیام سے متعلق میرا بیان ذاتی معلومات پر مشتمل نہیں تھا، میں نے وہ تقریر حسین نواز کی جانب سے حاصل ہونے والی معلومات پر کی‘‘۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 66 کے تحت قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر کو استثنیٰ حاصل ہے جو کسی بھی عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کی جا سکتی‘‘۔رقوم کی منتقلی کے حوالے سے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’’یہ درست ہے کہ حسین نواز کے اکاوٴنٹ سے میرے اکاوٴنٹ میں ڈالرز اور یوروز کی صورت میں رقوم منتقل ہوئیں۔ اس حوالے سے گواہ کی پیش کی گئی دستاویزات اصل کی نقول ہیں۔ العزیزیہ اور ہل میٹل سے میرے اکاوٴنٹ میں آنے والی رقوم ٹیکس ریکارڈ میں ظاہر ہیں‘ه۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ہل میٹل سے 59 ملین کی رقم براہ راست میری بیٹی مریم صفدر کے اکاوٴنٹ میں آنے سے متعلق نہیں جانتا، نیب کے طلبی کے نوٹسز آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر تھے‘‘۔نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ تین بار ملک کے وزیر اعظم رہے۔ پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو مارشل لاء لگایا، مارشل لاء کے دوران کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھتا تھا، 12 اکتوبر 1999 سے مئی 2013 تک کسی عوامی عہدے پر نہیں رہا۔بیان ریکارڈ کرانے کے دوران معاون وکیل نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ’’میاں صاحب نشست پر بیٹھ جائیں‘‘۔ ہم جواب تحریر کرا دیتے ہیں جس پر جج ارشد ملک نے کہا کہ اگر جواب یو ایس بی میں ہے تو جمع کرا دیں، جج ارشد ملک نے نواز شریف سے جوابات کی کاپی لے لی اور کہا کہ کوئی بات سمجھ نہ آئی تو میں پوچھ لوں گا۔نواز شریف کا اپنے جواب میں کہنا تھا کہ ’’یہ تفتیشی کی رائے تھی کہ میں شریف خاندان کا سب سے با اثر شخص تھا، میرے والد میاں شریف آخری سانس تک خاندان کے سب سے با اثر شخص تھے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ریٹرنز، ویلتھ اسٹیمٹمنٹس اور ویلتھ ٹیکس ریٹرن میں نے ہی جمع کروائے تھے، 2001 سے 2008 تک میں جلا وطن تھا جب کہ حسین نواز کے جمع کروائے گئے ٹیکس سے متعلق جواب دینے کا مجاز نہیں۔ تاہم، میں نے اپنے اِنکم ٹیکس ریٹرن میں تمام اثاثے اور ذرائع آمدن ظاہر کیے۔نواز شریف نے 45 سوالات کے جواب ریکارڈ کروائے۔ جج ارشد ملک نے کہا کہ بیان پر نواز شریف کے دستخط لینے ہیں۔ سپریم کورٹ کو بھی بیان بھجوائیں گے کہ یہاں تک بیان ریکارڈ ہو چکا ہے، جو جواب تسلی بخش نہ ہوئے وہ دوبارہ لکھوانے پڑیں گے۔اس موقع پر نواز شریف نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ 5 سوالات کے جوابات خواجہ حارث سے مشاورت کے بعد دوں گا۔ لہٰذا، وقت دیا جائے۔ کچھ سوالات پیچیدہ ہیں۔ ریکارڈ دیکھنا پڑے گا۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر تین ریفرنس دائر کیے گئے تھے، جن میں سے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ آچکا جس کے مطابق نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو قید و جرمانے کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ اس کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے انہیں ضمانت دے رکھی ہے جس کے خلاف نیب کی اپیل سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔نواز شریف کے خلاف ہل میٹل اور گلف سٹیل کے ساتھ العزیزیہ ریفرنس دائر کیا گیا ہے، جس کی سماعت آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے

Print Friendly, PDF & Email
بلوچستان ریلوے کی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات کئے جارہے ہیں, وفاقی وزیر ریلوے
اسرائیلی فوج ’فوری طور پر حملے بند, کرے، ترکی
Translate News »