الیکشن2018میں پاک فوج کواہم ذمہ داری سونپ دی گئی     No IMG     ڈپٹی کمشنر گلگت سمیع اللہ فاروق نے کہا کہ گلگت شہر میں گوشت کی قلت دور کرنے کیلئے پہلی گوشت سپلائی کرنے والی کمپنی میٹ مارٹ کا افتتاح     No IMG     افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیم طالبان نے رمضان المبارک میں جنگ بندی کی اپیل مسترد     No IMG     بھارتی وزیر اعظم نے کشمیر میں کشن گنگا ڈیم کا افتتاح کردیا     No IMG     یورپی یونین کی ایران کومشترکہ ایٹمی معاہدےکو جاری رکھنے کے لیے تیار     No IMG     بھارتی وزیر اعظم کا دورہ کشمیر مظالم پر پردہ ڈالنے اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے، یاسین ملک     No IMG     نریندر مودی کا مقبوضہ کشمیر کا دورہ ایک فوجی آپریشن سے زیادہ کچھ نہیں تھا، کل جماعتی حریت کانفرنس ، سید علی گیلانی     No IMG     مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے طیش میں آکر ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کو جوتا دکھا دیا     No IMG     لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز کے بیٹے نے والد کی موت کی خبروں کی تردید کر دی     No IMG     بھارت نے پاکستان میں تعینات رہنے والی اپنی ہی سفارت کار کو ’جاسوس‘ قرار دے دیا     No IMG     جڑانوالہ تحصیل چیرمین پرائس و کوالٹی کنٹرولر این اے 102 نے بھرپور الیکشن کمپین مھم جاری     No IMG     جڑانوالہ کا قدیمی ریلوے اسٹیشن انتظامیہ کی عدم توجہی کی بهینت چڑه گیا     No IMG     نوشہرہ ورکاں ملک محمد اکبر ولد محمد رمضان نے پیسوں کے  لین دین کے تنازعہ سے تنگ آکر زہریلی گولیاں کھا کر خود کشی کر لی     No IMG     شہبازشریف سرجیکل ٹاوربند رکھنےپرعوام سےمعافی مانگیں,چودھری پرویزالٰہی     No IMG     ترکی کے شہر استنبول میں اسلامی سربراہی کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ بیت المقدس کی تاریخی اورقانونی حیثیت کےتحفظ کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔     No IMG    

اسلام آباد ,دھرنے کے بارے میں پانچ اہم باتیں
تاریخ :   26-11-2017

اسلام آباد  (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران جاری بظاہر ایک عام سا احتجاجی مظاہرہ اب ملک گیر بحران کا سبب بن چکا ہے۔

ان مظاہرین کے بارے میں چند اہم باتیں درج ذیل ہیں۔چھ نومبر کے روز تحریک لبیک یا رسول اللہ کے قریب دو ہزار کارکنوں نے اسلام آباد میں دھرنے کا آغاز کیا۔ اس تنظیم کے سربراہ خادم حسین رضوی ہیں جنہیں تقریروں کے دوران نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے باعث تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔تحریک لبیک یا رسول اللہ کے کارکن بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ عام طور پر صوفی سلسلوں کے پیروکاروں کو معتدل تصور کیا جاتا ہے لیکن سن 2016 میں ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے کے بعد اس بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والی اس تنظیم کے نظریات میں شدت دیکھی گئی تھی۔

تحریک لبیک یا رسول اللہ نے اس دھرنے کا آغاز حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی کے ارکان کے حلف میں کی گئی ایک تبدیلی کے خلاف شروع کیا تھا۔ اس حلف کی تحریر میں کی گئی اس تحریف کو حکومت نے فوری طور پر ایک غلطی قرار دے کر حلف کو واپس اپنی گزشتہ حالت میں بحال بھی کر دیا تھا۔

تاہم مظاہرین اس تبدیلی کو توہین مذہب قرار دے رہے ہیں جو کہ پاکستان جیسے قدامت پسند اسلامی معاشرے میں ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ مظاہرین وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ہفتے کے روز پولیس کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کے لیے کیا جانے والا آپریشن پرتشدد صورت حال اختیار کر گیا جس کے بعد ملک بھر میں اس آپریشن کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ نے ’پیغمبر اسلام کی حرمت‘ کے لیے سڑکوں پر نکلنے کا مطالبہ کیا۔ اس تنظیم کے فیس بُک پیج کے مطابق وہ ’ملک میں شریعت نافذ‘ کرنا چاہتے ہیں اور آئندہ انتخابات میں بھی یہ تنظیم اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ستمبر میں لاہور میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں اس تنظیم نے بھی اپنا امیدوار کھڑا کیا تھا۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر جاری اس دھرنے کے باعث عام شہریوں کو سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ عدالت نے بھی حکومت کو دھرنا ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا۔

ہفتے کے روز ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں نے بلآخر مظاہرین کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ آپریشن کے فوراﹰ بعد کراچی اور لاہور جیسے دوسرے بڑے شہروں میں بھی مظاہرے شروع ہو گئے اور آخر کار آپریشن روکنے کا فیصلہ کیا گیا اور حکومت نے فوج سے مدد طلب کر لی۔

قبل ازیں حکومت کئی دنوں تک مذاکرات کے ذریعے اس دھرنے کو ختم کرنے کی کوشش کرتی رہی تھی۔ اگلے برس کے عام انتخابات کے تناظر میں حکمران جماعت سخت فیصلے کرنے سے گریز کر رہی تھی۔

ملکی فوج نے تاہم ابھی تک حکومت کی درخواست پر اپنا کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا اور نہ ہی ابھی تک سڑکوں پر کہیں فوجی دستے دکھائی دے رہے ہیں جس کے بعد دھرنا ختم کرنے میں ’فوج کے تذبذب‘ کے بارے میں بھی کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

لاہور،ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو کے گروپ ایڈیٹر سید محمد رضا جعفری کا کہنا ہے کہ ’فوج کے جنرل شاید اس امید میں ہیں کہ دھرنے کے شرکا ملک کی طاقتور فوج کا سامنا کرنے سے پہلے ہی منتشر ہو جائیں گے‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*