آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ کی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سےملاقات     No IMG     تحریک انصاف ملک کو حقیقی حقیقی فلاحی ریاست اور نچلے طبقے کو اوپر لائیں گے:وزیر اعظم عمران خان     No IMG     صرافہ مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 1450 روپے کا اضافہ     No IMG     برٹش ائیر ویز جون 2019ءمیں پاکستان سے دوبارہ پروازیں شروع کرنے کا اعلان     No IMG     ریاست کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ کیا جائے گا,وزیر خارجہ     No IMG     چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور ترک صدر کے مابین ملاقات     No IMG     سعودی عرب نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق امریکی سینیٹ کی قرارداد کو مسترد کردیا     No IMG     سابق سینیٹر اور پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل رضا عابدی پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فردجرم عائد کر دی     No IMG     مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کی شہادت پراحتجاجی مارچ     No IMG     چیف جسٹس آف پاکستان کا دورہ تُرکی ,تُرک کمپنی نے ڈیمز فنڈ میں عطیہ دے دیا     No IMG     وینزویلا سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ نوجوان لڑکی نے ملکہ حسن کا ٹائٹل جیت لیا     No IMG     حزب اللہ کی ايک اور سرنگ دريافت ,اسرائیلی فوج کا دعوی     No IMG     عوام اپنے مسائل کے حل کیلیے وزیر اعظم کمپلینٹ پورٹل کا استعمال کریں،وزیراعظم     No IMG     سابق صدر آصف زرداری نے پنجاب کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دے دی     No IMG     رشوت کا سب سے بڑا ناسور پٹواری ہیں, چیف جسٹس     No IMG    

اسلام آباد ,دھرنے کے بارے میں پانچ اہم باتیں
تاریخ :   26-11-2017

اسلام آباد  (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران جاری بظاہر ایک عام سا احتجاجی مظاہرہ اب ملک گیر بحران کا سبب بن چکا ہے۔

ان مظاہرین کے بارے میں چند اہم باتیں درج ذیل ہیں۔چھ نومبر کے روز تحریک لبیک یا رسول اللہ کے قریب دو ہزار کارکنوں نے اسلام آباد میں دھرنے کا آغاز کیا۔ اس تنظیم کے سربراہ خادم حسین رضوی ہیں جنہیں تقریروں کے دوران نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے باعث تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔تحریک لبیک یا رسول اللہ کے کارکن بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ عام طور پر صوفی سلسلوں کے پیروکاروں کو معتدل تصور کیا جاتا ہے لیکن سن 2016 میں ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے کے بعد اس بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والی اس تنظیم کے نظریات میں شدت دیکھی گئی تھی۔

تحریک لبیک یا رسول اللہ نے اس دھرنے کا آغاز حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی کے ارکان کے حلف میں کی گئی ایک تبدیلی کے خلاف شروع کیا تھا۔ اس حلف کی تحریر میں کی گئی اس تحریف کو حکومت نے فوری طور پر ایک غلطی قرار دے کر حلف کو واپس اپنی گزشتہ حالت میں بحال بھی کر دیا تھا۔

تاہم مظاہرین اس تبدیلی کو توہین مذہب قرار دے رہے ہیں جو کہ پاکستان جیسے قدامت پسند اسلامی معاشرے میں ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ مظاہرین وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ہفتے کے روز پولیس کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کے لیے کیا جانے والا آپریشن پرتشدد صورت حال اختیار کر گیا جس کے بعد ملک بھر میں اس آپریشن کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ نے ’پیغمبر اسلام کی حرمت‘ کے لیے سڑکوں پر نکلنے کا مطالبہ کیا۔ اس تنظیم کے فیس بُک پیج کے مطابق وہ ’ملک میں شریعت نافذ‘ کرنا چاہتے ہیں اور آئندہ انتخابات میں بھی یہ تنظیم اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ستمبر میں لاہور میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں اس تنظیم نے بھی اپنا امیدوار کھڑا کیا تھا۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر جاری اس دھرنے کے باعث عام شہریوں کو سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ عدالت نے بھی حکومت کو دھرنا ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا۔

ہفتے کے روز ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں نے بلآخر مظاہرین کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ آپریشن کے فوراﹰ بعد کراچی اور لاہور جیسے دوسرے بڑے شہروں میں بھی مظاہرے شروع ہو گئے اور آخر کار آپریشن روکنے کا فیصلہ کیا گیا اور حکومت نے فوج سے مدد طلب کر لی۔

قبل ازیں حکومت کئی دنوں تک مذاکرات کے ذریعے اس دھرنے کو ختم کرنے کی کوشش کرتی رہی تھی۔ اگلے برس کے عام انتخابات کے تناظر میں حکمران جماعت سخت فیصلے کرنے سے گریز کر رہی تھی۔

ملکی فوج نے تاہم ابھی تک حکومت کی درخواست پر اپنا کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا اور نہ ہی ابھی تک سڑکوں پر کہیں فوجی دستے دکھائی دے رہے ہیں جس کے بعد دھرنا ختم کرنے میں ’فوج کے تذبذب‘ کے بارے میں بھی کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

لاہور،ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو کے گروپ ایڈیٹر سید محمد رضا جعفری کا کہنا ہے کہ ’فوج کے جنرل شاید اس امید میں ہیں کہ دھرنے کے شرکا ملک کی طاقتور فوج کا سامنا کرنے سے پہلے ہی منتشر ہو جائیں گے‘۔

Print Friendly, PDF & Email
آزاد کشمیر، راولاکوٹ‘پیپلزپارٹی اور جے کے پی پی کے درجنوں کارکن مسلم لیگ (ن) میں شامل
سیمی خان جو بہت جلد پاکستان کے صف اول کے اداکاروں میں شامل ہونے کو تیار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »