امریکی صدر شیر کی دم کے ساتھ کھیلنا ترک کردے ۔ مزاحمت یا تسلیم کے علاوہ کوئي اور راستہ نہیں۔     No IMG     افریقی ملک مراکش کی عدالت نے ایک بچی کی اجتماعی عصمت ریزی کے گھناؤنے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع     No IMG     دوست کو چاقو کے وارسے قتل کرنے والی حسینا کو سزائے موت     No IMG     بہاولپور جلسے میں کم تعداد پر عمران خان برہم لیکن پارٹی عہدیداران نے ایسی بات بتادی کہ کپتان کیساتھ جہانگیر ترین بھی حیران پریشان     No IMG     اکرام گنڈا پور کے قافلے پر خود کش حملہ، ڈرائیور شہید، تحریک انصاف کے امیدوار اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد زخمی     No IMG     پاکستان اچھا کھیلاہم بہت براکھیلے،زمبابوین کھلاڑی کا اعتراف     No IMG     پاکستان سمیت دنیا بھر میں28 جولائی کو مکمل چاند گرہن ہوگا     No IMG     حنیف عباسی کا فیصلہ انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں , شہباز شریف     No IMG     سعودی عرب غیر ملکی ٹرک ڈرائیوروں پر پابندی سے ماہانہ 200ملین ریال کا نقصان ہوگا     No IMG     امریکہ میں کال سینٹر اسکینڈل میں ملوث 21 بھارتی شہریوں کو20 سال تک کی سزا     No IMG     اسرائیی حکومت نے القدس میں سرنگ کی مزید کھدائی کی منظوری دے دی     No IMG     ویتنام کے شمالی علاقوں میں سمندری طوفان سے 20 افراد ہلاک اور14 زخمی ہوگئے     No IMG     شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا ملنے سے اب این اے 60 راولپنڈی کا الیکشن یکطرفہ ہو جائے گا     No IMG     حنیف عباسی نے انسداد منشیات عدالت کی جانب سے دی گئی عمرقید کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان     No IMG     اسرائیل کے مجرمانہ حملوں میں 4 فلسطینی شہری شہید     No IMG    

اسلام آباد ,دھرنے کے بارے میں پانچ اہم باتیں
تاریخ :   26-11-2017

اسلام آباد  (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران جاری بظاہر ایک عام سا احتجاجی مظاہرہ اب ملک گیر بحران کا سبب بن چکا ہے۔

ان مظاہرین کے بارے میں چند اہم باتیں درج ذیل ہیں۔چھ نومبر کے روز تحریک لبیک یا رسول اللہ کے قریب دو ہزار کارکنوں نے اسلام آباد میں دھرنے کا آغاز کیا۔ اس تنظیم کے سربراہ خادم حسین رضوی ہیں جنہیں تقریروں کے دوران نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے باعث تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔تحریک لبیک یا رسول اللہ کے کارکن بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ عام طور پر صوفی سلسلوں کے پیروکاروں کو معتدل تصور کیا جاتا ہے لیکن سن 2016 میں ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے کے بعد اس بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والی اس تنظیم کے نظریات میں شدت دیکھی گئی تھی۔

تحریک لبیک یا رسول اللہ نے اس دھرنے کا آغاز حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی کے ارکان کے حلف میں کی گئی ایک تبدیلی کے خلاف شروع کیا تھا۔ اس حلف کی تحریر میں کی گئی اس تحریف کو حکومت نے فوری طور پر ایک غلطی قرار دے کر حلف کو واپس اپنی گزشتہ حالت میں بحال بھی کر دیا تھا۔

تاہم مظاہرین اس تبدیلی کو توہین مذہب قرار دے رہے ہیں جو کہ پاکستان جیسے قدامت پسند اسلامی معاشرے میں ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ مظاہرین وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ہفتے کے روز پولیس کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کے لیے کیا جانے والا آپریشن پرتشدد صورت حال اختیار کر گیا جس کے بعد ملک بھر میں اس آپریشن کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ نے ’پیغمبر اسلام کی حرمت‘ کے لیے سڑکوں پر نکلنے کا مطالبہ کیا۔ اس تنظیم کے فیس بُک پیج کے مطابق وہ ’ملک میں شریعت نافذ‘ کرنا چاہتے ہیں اور آئندہ انتخابات میں بھی یہ تنظیم اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ستمبر میں لاہور میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں اس تنظیم نے بھی اپنا امیدوار کھڑا کیا تھا۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر جاری اس دھرنے کے باعث عام شہریوں کو سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ عدالت نے بھی حکومت کو دھرنا ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا۔

ہفتے کے روز ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں نے بلآخر مظاہرین کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ آپریشن کے فوراﹰ بعد کراچی اور لاہور جیسے دوسرے بڑے شہروں میں بھی مظاہرے شروع ہو گئے اور آخر کار آپریشن روکنے کا فیصلہ کیا گیا اور حکومت نے فوج سے مدد طلب کر لی۔

قبل ازیں حکومت کئی دنوں تک مذاکرات کے ذریعے اس دھرنے کو ختم کرنے کی کوشش کرتی رہی تھی۔ اگلے برس کے عام انتخابات کے تناظر میں حکمران جماعت سخت فیصلے کرنے سے گریز کر رہی تھی۔

ملکی فوج نے تاہم ابھی تک حکومت کی درخواست پر اپنا کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا اور نہ ہی ابھی تک سڑکوں پر کہیں فوجی دستے دکھائی دے رہے ہیں جس کے بعد دھرنا ختم کرنے میں ’فوج کے تذبذب‘ کے بارے میں بھی کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

لاہور،ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو کے گروپ ایڈیٹر سید محمد رضا جعفری کا کہنا ہے کہ ’فوج کے جنرل شاید اس امید میں ہیں کہ دھرنے کے شرکا ملک کی طاقتور فوج کا سامنا کرنے سے پہلے ہی منتشر ہو جائیں گے‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*