دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG     جھوٹی گواہی دینے پر کاروائی کی جائے گی،عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں,۔چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG    

اسلام آباد دھرنا کیس: اٹارنی جنرل کو توہین عدالت نوٹس جاری
تاریخ :   22-11-2018

اسلام آباد( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی عدم پیشی پر انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کی ،

جہاں اٹارنی جنرل ایک مرتبہ پھر پیش نہیں ہوئے۔یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیےاٹارنی جنرل کی عدم حاضری پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ گذشتہ سماعت پر بھی اٹارنی جنرل سپریم کورٹ کے طلب کرنے پر پیش نہیں ہوئے تھے اگر حکومت اس کیس کو نہیں چلانا چاہتی تو عدالت کو بتا دے۔جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ اٹارنی جنرل اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہیں،جس پر جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ کیا اٹارنی جنرل ماہر معاشیات ہیں؟ ای سی سی کے اجلاس میں ان کا کیا کام؟ اٹارنی جنرل ریاست کا سب سے بڑا لاءافسرہے یا وزیراعظم کا ذاتی ملازم؟ ہم توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہیں۔اس سے قبل سولہ نومبر کو بھی فیض آباد دھرنے کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کی غیرموجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ اگر حکومت اس کیس کو نہیں چلانا چاہتی تو عدالت کو بتا دے۔اس سے قبل دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا کہ اٹارنی جنرل لاہور میں ہیں، انہیں چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہدایت دی تھی کہ کچھ کیسز کے سلسلے میں وہاں آئیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس نہیں عدالت ہدایات دیتی ہے، ہم بھی تو عدالت ہیں اور یہ تاریخ بھی اٹارنی جنرل کی خواہش پر دی تھی،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان بند ہو گیا، اس سے اہم کیس کیا ہو سکتا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے استفسار کیا، یہ مذاق نہیں ہے، اٹارنی جنرل کو تنخواہ کون دیتا ہے؟، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اٹارنی جنرل کو عوام کے ٹیکس سے تنخواہ ملتی ہے،جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ٹیکس سے تنخواہ ملتی ہے تو وہ جوابدہ ہیں،انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس کیس کو نہیں چلانا چاہتی تو عدالت کو بتا دے، اسے دفن کر دیںگے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید ریمارکس دیئے کہ بتایا جائے پاکستان کو فعال ریاست بنانا ہے، اسے قانون کے ذریعے چلانا ہے یا اسٹریٹ پاور سے؟،ساتھ ہی انہوں نے استفسار کیا کہ اُس وقت دھرنا دینے والے لوگوں نے قوم سے معافی مانگی؟ یہاں سپریم کورٹ کے باہر بھی دھرنا ہوا، ججز عدالت نہیں آسکتے تھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اُس وقت جولوگ حکومت میں تھے وہ بھی بعد میں پارٹی بدل گئے، پارٹی بدل لو تو نفرتیں ختم ہوجاتی ہیں،جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ایسے پاکستان نہیں چلے گا، اس عدالت کا مینڈیٹ آئین اور پاکستان ہے۔سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کی رجسٹریشن سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی،عدالت نے خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کا پروفائل پڑھا اور ریمارکس دیئے کہ کہا گیا ہے کہ کرپٹ ہیں، یہ نہیں بتایا کہ کس قسم کے کرپٹ ہیں،جسٹس فائز عیسیٰ نے مزید ریمارکس دیئے کہ ‘بتایا گیا ہے کہ ہم ان کے ذرائع آمدن کے بارے میں نہیں جانتے، ان کے انکم ٹیکس کے بارے میں بھی نہیں جانتے، اگر آپ نہیں بتاسکتے تو ہم آئی بی اور پولیس سے پوچھ لیں گے’۔انہوں نے استفسار کیا کہ کل کوئی اور پورا پاکستان بند کرنا چاہے تو کرسکتا ہے؟’جس پر ڈائریکٹر لیگل وزارت دفاع برگیڈیئر فلک ناز نے جواب دیا کہ ‘نہیں کرسکتا،تاہم عدالت نے الیکشن کمیشن اور دیگر کی رپورٹس مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ عدالت میں نئی رپورٹس جمع کرائیں۔سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل اور سیکریٹری اطلاعات کو بھی پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کی سماعت آئندہ جمعرات تک ملتوی کردی۔اس سے قبل رواں سال پچیس اپریل کو بھی فیض آباد ھرنے کیس کی سماعت ہوئی تھی، جس میں عدالت نے پیمرا کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہارکیا تھا۔دھرنا کیس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے ہتھے کہ سرکاری ملازم ملک کے حکمران نہیں خادم ہیں،تاریخ پڑھیں کہ پاکستان کس طرح بنایا گیا ، قائداعظمؒ کے اردگردایسی لیڈرشپ تھی جو پاکستان بناناچاہتی تھی۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے استفسار کیا کہ سیکیورٹی اداروں کی طرف سے دھرنے سے متعلق مزید رپورٹس آئی ہیں مگر رپورٹ کے لئے عدالتی ہدایات نہیں تھیں ، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا دوبارہ رپورٹ نہیں آنی چاہیے تھی ۔ آپ کس طرح ملک چلا رہے ہیں ، پاکستان کیا خوف میں رہنے کیلئے بنایا گیا ہے۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ کیا کچھ لوگ قانون سے بالاتر ہیں کیا ہم ایک آزاد ملک نہیں چاہتے کسی شہری کی املاک پر آنچ نہیں آنی چاہئے ، فاضل جج نے کہا کہ معزز چیف جسٹس کو گالیاں دی جاتی ہیں مگر کسی کو پرواہ نہیں ،کیا جج کو ٹارگٹ کرنا پاکستان میں جائز ہے، جو گاڑیاں جلائیں، عوام پر تشدد کریں ، راستے بند کریں ان پر کوئی ہاتھ نہیں اٹھاتا۔معززجج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز حکمران نہیں خادم ہیں ، آپ تاریخ پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ پاکستان کس طرح بنایاگیا،قائد اعظم کے اردگرد ایسی لیڈر شپ تھی جو پاکستان بنانا چاہتے تھے۔دوران سماعت معزز جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عشق والوں نے غلیظ زبان استعمال کی ، یہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں، یہ اسلام کی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں کہ لوگ اسلام سے نفرت کریں ۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ رپورٹ میں سیکیورٹی اداروں کو ان کے پس منظر اور ذرائع آمدن کا پتہ نہیں ، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ میں فنڈز کے بارے میں معلومات موجود ہیں،ان لوگوں نے چندہ اکٹھا کیا، پینتیس ہزار لوگوں نے دھرنا قائدین کو چندہ دیا، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ کیوں فرض نہ کریں ہمارے دشمنوں نے یہ پیسہ دیا ۔ کیا دھرنے کے لیڈر کے فنڈز کاآڈٹ کرایا گیا؟

کیافنڈز کو ثابت کرنے کی دستاویزآپ کے جود ہیں۔معزز جج نے استفسار کیا کہ دھرنے کے لیڈر خطیب ہیں، انہیں تنخواہ کون اداکرتاہے ، مجھے تو لگتا ہے کہ غیبی قوتیں انہیں معاوضہ اداکرتی ہیں، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ ہوسکتاہے یہ لوگ ملک کےدشمن ہوں ۔ طاقتورکو نہیں مظلوم کوانصاف کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مجھے کرسی پرانصاف کے تقاضوں کے لئے بٹھایاہے ۔ انصاف نہیں کر سکتا کیونکہ آپ کاتعاون نہیں ہے ۔دھرنے والوں نے ملک کاکروڑوں کانقصان کیا ، ایسے لوگ ہمارے چہیتے ہیں ، جن کولوگوں نے پاکستان میں تباہی برپاکی ان کی کوریج اب بھی جاری ہے ، پیمرا نے محض ٹی وی چینلز کو ایڈوائزری جاری کیں ،پیمرا کے ٹی وی چینلز کے خلاف اقدامات مایوس کن ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
لاکھوں ملازمین کی ہڑتال سے سرکاری سیکٹر مفلوج
دبئی میں پراپرٹی ،وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کو سزا مل گئی
Translate News »