وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے پاک برطانیہ اور پاکستان سکاٹ لینڈ بزنس کونسل کے وفد کی ملاقات     No IMG     حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا آئی ایم ایف نے بیل آوٹ پیکج کیلئے اپنی شرائط سخت کردیں     No IMG     آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا آرمی سروس کور سینٹر نوشہرہ کا دورہ     No IMG     جاپانی وزیراعظم شینزو آبے آسٹریلیا پہنچ گئے     No IMG     کیلیفورنیا ,کی جنگلاتی آگ ، ہلاکتوں کی تعداد 63 ہو گئی     No IMG     برطانوی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اگلے ہفتے پیش ہو سکتی ہے     No IMG     ملائیشین ہائی کمشنر اکرام بن محمد ابراہیم کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات     No IMG     امریکی بلیک میلنگ کا مقصد حماس کی قیادت کو نشانہ بنانا ہے     No IMG     زمبابوے بس میں گیس سیلنڈر پھٹنے سے 42 افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے     No IMG     زلفی بخاری کیس: ’دوستی پر معاملات نہیں چلیں گے‘ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار     No IMG     غزہ پرحملے, اسرائیل کو 40 گھنٹوں میں 33 ملین ڈالر کا نقصان     No IMG     تنخواہیں واپس لے لیں سپریم کورٹ کاحکم آتے ہی افسران سیدھے ہو گئے     No IMG     پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ابوظہبی ٹیسٹ کا پہلا دن باؤلرز کے نام     No IMG     چودھری پرویز الٰہی اپنے ہی جال میں پھنس گئے     No IMG     ق لیگ نے پاکستان تحریک انصاف کیخلاف بغاوت کردی     No IMG    

اسرائیل کو تین آبدوزوں کی فروخت، جرمن
تاریخ :   23-10-2017

برلن حکومت (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)  نے اسرائیل کو تین جرمن آبدوزوں کی فروخت کے طویل عرصے سے تعطل کے شکار منصوبے کی بالآخر منظوری دی دے ہے۔ اس دفاعی معاہدے کی مالیت ڈیڑھ ارب یورو بنتی ہے اور اس پر دستخط آج پیر تئیس اکتوبر کے روز کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق جرمن حکومت کے ترجمان اشٹیفن رائبرٹ نے پیر تئیس اکتوبر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ اسرائیل کو یہ آبدوزیں بہت بڑے جرمن صنعتی ادارے ’تِھسّن کرُپ میرین سسٹمز‘ (TKMS) کی طرف سے مہیا کی جائیں گی۔

اشٹیفن زائبرٹ نے کہا کہ اسرائیل اور جرمنی کے مابین یہ دفاعی تجارتی منصوبہ طویل عرصے سے تعطل کا شکار تھا، جس کی اب نہ صرف برلن میں وفاقی حکومت نے منظوری دے دی ہے بلکہ اسی منصوبے سے متعلق دونوں ممالک کی حکومتوں کے مابین ایک باقاعدہ معاہدے کی دستاویز پر آج تئیس اکتوبر کے روز دستخط بھی کیے جا رہے ہیں۔

میرکل حکومت کے ترجمان کے مطابق آبدوزوں کی فروخت کے حوالے سے جرمن اور اسرائیلی حکومتوں کے مابین معاہدہ اس بارے میں ہو گا کہ برلن حکومت اس ڈیل کے لیے اسرائیل کو مالی امداد کی صورت میں کتنے وسائل مہیا کرے گی۔

اشٹیفن زائبرٹ نے بتایا کہ جرمنی ان آبدوزوں کی خریداری کے لیے اسرائیل کو کتنی رقوم دے گا، یہ بات خفیہ ہی رکھی جائے گی لیکن برلن کی طرف سے اس امداد کی فراہمی کی وجہ یہ ہے کہ جرمنی یہ محسوس کرتا ہے کہ اسرائیل کی ریاستی سلامتی کے حوالے سے اس پر ایک خاص ذمے داری عائد ہوتی ہے۔یہ آبدوزیں جرمن صنعتی ادارے ٹی کے ایم ایس کی طرف سے شمالی جرمنی کے بندرگاہی شہر کِیل میں تیار کی جائیں گی۔ اب تک برلن میں وفاقی چانسلر کے دفتر نے اس فروخت کی منظوری اس لیے نہیں دی تھی کہ اسے شبہ تھا کہ شاید اس معاہدے میں رشوت کے طور پر کچھ ادائیگیاں کی گئی تھیں۔ تاہم حکومتی چھان بین کے بعد یہ ثابت ہو گیا تھا کہ یہ معاہدہ شفاف تھا اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی غیر شفاف مالی ادائیگیاں نہیں کی گئی تھیں۔

اشٹیفن زائبرٹ نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ تعطل کے شکار اسی معاہدے کے سلسلے میں اسرائیل میں بھی چھان بین کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں کوئی بےقاعدگی سامنے نہیں آئی تھی۔

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ اسی معاہدے کے سلسلے میں اسرائیل میں حکام نے نہ صرف جرمن ادارے TKMS کے ایک سابق کاروباری پارٹنر کو گرفتار کر لیا تھا بلکہ اسی پس منظر میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر کے ایک سابق سربراہ اور ایک سابق اسرائیلی وزیر کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔

اسی اسکینڈل کی وجہ سے خود اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو بھی کافی زیادہ دباؤ کا شکار رہے تھے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اس معاہدے سے متعلق ملکی فوج اور وزارت دفاع کی خواہشات کے برعکس اپنی مرضی منوانے کی کوشش کی تھی۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ اسرائیل کو مستقبل میں مہیا کی جانے والی یہ تین نئی جرمن ساختہ آبدوزیں 2027ء سے ملکی بحریہ کے استعمال میں آ جائیں گی۔ ان تین آبدوزوں سے قبل اسرائیل گزشتہ دو عشروں کے دوران جرمنی سے مجموعی طور پر چھ دیگر آبدوزیں پہلے ہی خرید چکا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
نیب نے نگران جج کو اسحاق ڈار اور شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز کی پیشرفت رپورٹ جمع کروا دی
ٹلرسن اچانک دورے پر افغانستان میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »