وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے پاک برطانیہ اور پاکستان سکاٹ لینڈ بزنس کونسل کے وفد کی ملاقات     No IMG     حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا آئی ایم ایف نے بیل آوٹ پیکج کیلئے اپنی شرائط سخت کردیں     No IMG     آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا آرمی سروس کور سینٹر نوشہرہ کا دورہ     No IMG     جاپانی وزیراعظم شینزو آبے آسٹریلیا پہنچ گئے     No IMG     کیلیفورنیا ,کی جنگلاتی آگ ، ہلاکتوں کی تعداد 63 ہو گئی     No IMG     برطانوی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اگلے ہفتے پیش ہو سکتی ہے     No IMG     ملائیشین ہائی کمشنر اکرام بن محمد ابراہیم کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات     No IMG     امریکی بلیک میلنگ کا مقصد حماس کی قیادت کو نشانہ بنانا ہے     No IMG     زمبابوے بس میں گیس سیلنڈر پھٹنے سے 42 افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے     No IMG     زلفی بخاری کیس: ’دوستی پر معاملات نہیں چلیں گے‘ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار     No IMG     غزہ پرحملے, اسرائیل کو 40 گھنٹوں میں 33 ملین ڈالر کا نقصان     No IMG     تنخواہیں واپس لے لیں سپریم کورٹ کاحکم آتے ہی افسران سیدھے ہو گئے     No IMG     پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ابوظہبی ٹیسٹ کا پہلا دن باؤلرز کے نام     No IMG     چودھری پرویز الٰہی اپنے ہی جال میں پھنس گئے     No IMG     ق لیگ نے پاکستان تحریک انصاف کیخلاف بغاوت کردی     No IMG    

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو بالی وڈ سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟
تاریخ :   19-01-2018

اسرائیلی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بالی وڈ کے ستاروں کی جم کر تعریف کی اور کہا کہ ان سے بڑا اور کون ہوسکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیل کو بھارتی فلم انڈسٹری سے اس قدر پیار اور دلچسپی کیوں ہے اور وہ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو بھارت کے ساتھ سفارتی روابط کے پچیس برس مکمل ہونے پر ایک تقریب میں شرکت کے لیے دلی آئے تھے تاکہ وہ اسے یادگار بنا سکیں۔ روایت کے برعکس خود وزیراعظم نریندر مودی نے ایئرپورٹ پہنچ کر ان کا خیرمقدم کیا۔ ان کے ساتھ ایک سو تیس افراد پر مشتمل اسرائيلی تاجروں کا ایک وفد بھی بھارت میں تھا۔ اس چھ روزہ دورے کے دوران انہوں نے دلی سمیت احمدآباد، آگرہ اور ممبئی جیسے شہروں کا دورہ کیا جس کے تعلق سے میڈیا میں بہت سی ملاقاتوں اور معاہدوں کا ذکر رہا۔

لیکن اس میں سب سے اہم دورہ ممبئی کا تھا جہاں انہوں نے ہوٹل تاج محل میں ‘شلوم بالی وڈ’  کے نام سے ایک خاص پروگرام کا اہتمام کیا۔ اس پروگرام میں اداکار امیتابھ بچن، ان کے صاحبزادے ابھیشیک بچن، بہو ایشوریا رائے، ہدایت کار سبھاش گھئی، کرن جوہر اور امیتیاز علی جیسی کئی معروف فلمی شخصیات موجود تھیں۔

نیتن یاہو نے اس موقع پر اپنے افتتاحی خطاب میں بالی وڈ کے ستاروں کی جم کر تعریف کی اور کہا کہ ان سے بڑا اور کون ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا، ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا بالی وڈ کو پسند کرتی ہے اور اسرائیل کو بھی بالی وڈ سے پیار ہے۔ میں خود بالی وڈ سے پیار کرتا ہوں۔‘‘ امیتابھ بچن سمیت دیگر بالی وڈ کی شخصیات نے بھی اس تقریب سے خطاب کیا۔ تاہم بینجمن نیتن یاہو ابتدا سے آخر تک بھارت اور اسرائیل کی دوستی اور تعلقات کی ہی قسمیں کھاتے رہے۔ انہوں نے پروگرام کے اختتام پر کہا، ’’میں ان تعلقات کے حوالے سے اتنا جذباتی ہوں کہ میں چاہتا ہوں کہ ہر بھارتی اور اسرائیلی شہری دونوں ملکوں کے درمیان غیر معمولی دوستی سے واقف ہو۔ اس کے لیے میرے ذہن میں ایک خیال ہے، سب سے زیادہ وائرل ہونے والی تصاویر میں سے آسکر ایوارڈ کی تقریب میں لی گئی وہ تصویر بھی ہے جس میں بریڈ پٹ سمیت کئی اہم شخصیات ایک ساتھ ہیں، تو اسی طرز پر ہم چاہتے ہیں کہ بالی وڈ کے تمام سیلیبریٹیز اور پروڈیوسرز ایک سیلفی کے لیے سٹیج پر ایک ساتھ جمع ہوں، تاکہ دنیا بھر کے کروڑوں لوگ اس دوستی کو دیکھ سکیں۔‘‘ انھوں نے آسکر طرز کی ہی ایک سیلفی لی جو بھارتی میڈیا کی سرخی بنی۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب اسرائیل نے بھارت کی معروف فلم انڈسٹری کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کی ہو۔ ان کے اس دورے سے پہلے بھی اسرائیل بالی وڈ کو ا پنی طرف راغب کرنے کی کئی کوششیں کر چکا ہے اور اسرائیل میں بالی وڈ کی فلموں کی شوٹنگ کے لیے اشتہار بھی شائع ہوئے ہیں۔ گزشتہ دسمبر میں ہی بالی وڈ کے فلمسازوں پر مشتمل ایک وفد نے تل ابیب کا دورہ کیا تھا جس میں معروف فلم ڈائریکٹر امتیاز علی بھی شامل تھے۔ اس کی دعوت اسرائیلی حکومت نے دی تھی اور اہتمام اس کی وزارت خارجہ کے محکمہ ثقافت نے کیا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ بالی وڈ اپنی فلمیں ان کے ملک میں بھی شوٹ کرے اور اس کے لیے انہوں نے بطور خصوصی رقم کا بھی اہتمام کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ خصوصی ثقافتی رشتے قائم کرنے کی جو کوششیں ہیں اس میں بالی وڈ بہت اہم ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا، ’’میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ آئيں اور آپ کو مزيد مالی امداد درکار ہو تو وہ بھی ہم مہیا کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بالی وڈ اسرائیل میں ہو۔‘‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ جو اداکار اور فلمساز نتن یاہو کے پروگرام میں شرکت کے لیے پہنچے تھے، انہیں سکیورٹی چیک پر ایک عام بالی وڈ فلم کے دورانیے سے بھی زیادہ وقت تک کے لیے قطار میں کھڑا ہونا پڑا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیل کو بھارتی فلم انڈسٹری سے اس قدر پیار اور دلچسپی کیوں ہے اور وہ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہی سوال ڈی ڈبلیو نے پروفیسر مونیش الگ سے پوچھا، جو معاشیات کے ماہر ہیں لیکن بالی وڈ کی سیاست پر ان کی گہری نظر رہتی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں انہوں نے کہا، ’’حالیہ دنوں میں اسرائیل کے تعلق سے عالمی سطح پر جو واقعات پیش آئے اس سے یہ واضح ہے کہ معاشی اور دفاعی نکتہ نظر سے مضبوط ہونے کے باوجود اسرائیل اپنی بیجا پالیسیوں کے سبب مقبول نہیں ہے بلکہ معتوب ہے اس لیے تہذیبی اور ثقافتی سطح پر اپنی مقبولیت کے وہ تمام راستوں کی تلاش میں ہے۔ اسرائیل کو معلوم ہے کہ بالی وڈ کی فلمیں سینٹرل اور جنوبی ایشیا سے لیکر مشرقی وسطی تک مقبول ہیں اور وہ اس کی مدد سے ثقافتی طور پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا۔‘‘

پروفیسر مونیش کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا،’’بھارت میں اس وقت ہندو قوم پرست دائیں بازو کی جماعت کی حکمرانی ہے اور نتن یاہو تو اس سے بھی آگے ہیں، تو دونوں میں نظریاتی اتحاد کمال کا ہے۔ یہ سیاست میں موقع پرستی کی بہترین مثال ہے کہ ہر صورتحال کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا جائے۔ بھارتی فلمی صنعت بھی مالی مفاد کے لیے ماضی میں موقع پرستی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ تو خاموشی سے اور بتدریج تہذیب و ثقافت میں سرائیت کرنے کی یہ ایک کوشش ہے۔ آخر فلمیں شبیہہ کو بگاڑنے اور درست کرنے میں بھی اہم رول ادا کرتی ہیں۔ تجارتی نکتہ نظر سے بھی اہم ہے اور اسرائیل اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے تو یہ ایک تیر سے تین شکار والی بات ہے۔‘‘

ممبئی کے تاج محل ہوٹل میں اسرائیل کی جانب سے ایک ویڈیو بھی پیش کی گئی جس میں حیفہ، ایلات، مسادا، یروشلم اور تل ابیب کے کئی ایسے مقامات بھی پیش کیے گے جہاں فلموں کی شوٹنگ ممکن ہے۔ اسرائیل فلموں میں ان مقات کی تشہیر سے اپنی سیاحت کو بھی فروغ دینے کا ادارہ رکھتا ہے۔ اس موقع پر بینجمن نیتن یاہو نے معروف فلم ساز کرن جوہر اور اپوروا مہتا کو اسرائیل میں پہلی بار فلم شوٹ کرنے کے لیے ایک یادگار پیش کی۔ واضح رہے کہ کرن جوہر کی آنے والی فلم ’ڈرائیو‘ کا ایک نغمہ چند ماہ قبل تل ابیب میں شوٹ کیا گيا تھا۔ یہ فلم ترون منسکھانی نے ڈائریکٹ کی ہے جس میں سشانت سنگھ راجپوت اور جیکلین فرناڈیز جیسے اداکاروں نے کام کیا ہے۔ اب دیکھنا ہے یہ کہ بالی وڈ کا کون سا ہدایت کار پہلی بار اپنی فلم کا بیشتر حصہ اسرائیل میں شوٹ کرتا ہے اور وہ اسے کس انداز میں پیش کرتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
امریکا اور نیٹو اتحادی الزام تراشی کے بجائے افغانستان میں درپیش چیلنجوں پرتوجہ دیں‘
تحر یک انصاف ‘پیپلزپارٹی اورعوامی تحر یک نے لاہور جلسے کی ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسر ے پر ڈالنا شروع کر دی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »