گجرانوالہ میں یوم پاکستان کی تقریب میں سکول کی دیوار گرنے سے 6 افراد جاں بحق     No IMG     79 واں یوم پاکستان: وفاقی دارالحکومت میں مسلح افواج کی شاندار پریڈ     No IMG     پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG    

استنبول :مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں
تاریخ :   13-12-2017

ترکی  (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارلحکومت تسلیم کرتے ہوئے دنیا کے دیگر ممالک پر بھی ایسا ہی کرنے کے لیے زور دیا ہے ۔ اس تنظیم نے یروشلم کے حوالے سے امریکی فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے

ترکی کے شہر استنبول میں منعقدہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے ایک غیرمعمولی ہنگامی اجلاس کے اختتام پر ایک 23 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ ستاون مسلمان ممالک کی اس تنظیم کے اجلاس میں میزبان ترکی کے علاوہ پچاس ممالک کے مندوب شریک ہوئے۔ بائیس ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ مشترکہ اعلامیہ کی اکثر شقوں میں فلسطینیوں کی ہر فورم پر مکمل حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’’اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یروشلم کے معاملے کے حل کے لیے کوئی قدم نہ اٹھایا تو رکن ممالک اس معاملے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں لے کر جائیں گے

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اس اجلاس کے دوران میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔ اپنے خطاب میں صدر ایردوآن نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک ’دہشت گرد ریاست‘ ہے جو نہتے فلسطینیوں اور خصوصاﹰ بچوں پر ظلم کرتی ہے۔ ترک صدر نے نقشے کی مدد سے اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 1947ء سے قبل اسرائیل کا وجود مشرق وسطی کے نقشے پر ایک نقطے کی مانند تھا لیکن اب یہ بہت پھیل چکا ہے اور اسرائیلی قبضے کے سبب فلسطین اب نقشے پر ایک نقطے کی مانند رہ گیا ہے۔ انہوں نے اپنے اس موقف کا بھی اعادہ کیا کہ یروشلم مسلمانوں کے لیے ایک ’’ریڈ لائن‘‘ یا سرخ لکیر ہے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے ترکی اور دیگر اسلامی ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسرائیل کی سخت مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے آج تک کسی بھی قرار داد کو نہیں مانا۔ محمود عباس کا کہنا تھا کہ یروشلم فلسطین کا تھا، ہے اور رہے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا امن بات چیت میں کسی قسم کا کردار ادا کرنے کے لیے نا اہل ہو گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’’امن بات چیت میں اب امریکا کے مزید کسی کردار کو تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ اس نے اپنے تعصب کو ثابت کر دیا ہے۔‘‘

اجلا س کی خاص بات اس میں لاطینی امریکا کے ملک وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کی شرکت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکی فیصلے کے خلا ف فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ترک صدر ایردوآن

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عام طور پر او آئی سی اسلامی دنیا کو پیش آنے والے مسا ئل پر زیادہ فعال نظر نہیں آتی تاہم اس مرتبہ کم از کم ایک اہم معاملے پر رکن ممالک میں سے اکثر نے کھل کر اظہار خیال اور اس مسئلے کے حل پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم یروشلم کے معاملے پر اس تنظیم کا اصل امتحان یہ ہو گا کہ وہ یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اپنے فیصلے پر دنیا کے مزید کتنے ممالک کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اسلامی دنیا کے اہم ترین ملک سعودی عرب اور فلسطین کے پڑوسی اسلامی ملک مصر کے سربراہان نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ ان کی عدم حاضری کے سبب اس تنظیم میں شامل ممالک کے آپس میں تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اجلا س میں شریک ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی مدد کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کیا جانا چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email
پاکستان کی سعودی عرب کو دفاعی تعاون کی پیشکش
وزیراعظم اوروزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف او آئی سی اجلاس میں شرکت کیلئے ترکی پہنچ گئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »