وینزویلا سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ نوجوان لڑکی نے ملکہ حسن کا ٹائٹل جیت لیا     No IMG     حزب اللہ کی ايک اور سرنگ دريافت ,اسرائیلی فوج کا دعوی     No IMG     عوام اپنے مسائل کے حل کیلیے وزیر اعظم کمپلینٹ پورٹل کا استعمال کریں،وزیراعظم     No IMG     سابق صدر آصف زرداری نے پنجاب کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دے دی     No IMG     رشوت کا سب سے بڑا ناسور پٹواری ہیں, چیف جسٹس     No IMG     فرانسیسی پولیس نے پیلے رنگ جیکٹس والے مظاہرین پر شدید تشدد     No IMG     اسلام آباد تھانہ سہالہ میں شدید فائرنگ, بدنام زمانہ شیرپنجاب جاں بحق     No IMG     اگر گرفتار ہوا تو کیا ہوگا کیونکہ جیل تو میرا دوسرا گھر ہے, آصف علی زرداری     No IMG     امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا نیا وزیر داخلہ مقرر کرنے کا اعلان     No IMG     اٹلی میں ہزاروں مظاہرین نے مہاجر مخالف قوانین کے خلاف مظاہرہ     No IMG     پاکستانیوں کے دل پر آرمی پبلک سکول (اے پی ایس ) پشاور میں لگنے والے زخم کو چار سال مکمل ہوگئے     No IMG     رائے ونڈ, چینی انجنئیر، جیا جینیفر پر دل ہار بیٹھا     No IMG     سپین میں یہ بیٹا ایک سال تک ماں کی لاش کے ساتھ کیوں رہا ؟     No IMG     سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے صحافی جمال خاشقجی کے قاتل سعود القحطانی کو معاف کردیا     No IMG     سری لنکن صدر نے برطرف وزیر اعظم کو دوبارہ وزیر اعظم منتخب کرلیا     No IMG    

احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت 10 ستمبر تک ملتوی
تاریخ :   07-09-2018

اسلام آباد ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت ہوئی جہاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء پر جرح جاری رکھی۔ احتساب عدالت نمبر 2 کے جج

ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت میں پیشی کے لیے لایا گیا۔ واضح رہے کہ نواز شریف کے تینوں ریفرنسز کو آج ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے 8 ستمبر 2017 کو احتساب عدالت میں نواز شریف کے خلاف ریفرنسز دائر کیے تھے۔ ضرور پڑھیں:یو م دفاع تقریب میں نسوار کھاتے ہوئے شاہد آفریدی کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کردیا گزشتہ روز مذکورہ درخواست پر سماعت کے دوران واجد ضیاء سے جرح کے دوران عدالت میں بولنے پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی نیب پراسیکیوٹر سے کچھ گرما گرمی ہو گئی تھی تاہم جج ارشد ملک کے دلچسپ تبصرے کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔ خواجہ حارث کی جانب سے نیب پراسیکیوٹر واثق ملک کو بات کرنے سے ٹوکنے پر احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دیئے کہ ‘کارروائی کے دوران سُستی چھا جاتی ہے، تھوڑی دیر بعد ایسی گرما گرمی کے جھٹکے بھی ضروری ہیں’۔ ضرور پڑھیں:وزیراعظم سے چیئرمین جوائنٹس چیفس کی ملاقات، پیشہ ورانہ امور پر تبادلہ خیال آج بھی سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی واجد ضیاء پر جرح جاری رہی۔ دوران سماعت واجد ضیاء نے عدالتی اجازت کے بعد سپریم کورٹ سے حاصل کیے گئے سربمہر والیم ٹین سے ایم ایل ایز پڑھ کر جواب دیئے۔ واجد ضیاء نے بتایا کہ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کا مکمل نام ہل ماڈرن انڈسٹری فارمیٹل اسٹیبلشمنٹ ہے۔ تاہم 31 مئی 2017 کو سعودی عرب کو ایم ایل اے بھجواتے وقت انہیں کمپنی کا مکمل نام معلوم نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایم ایل اے ‘ایچ ایم ای’ سے متعلق لکھا، ہل ماڈرن انڈسٹری فار میٹل اسٹیبلشمنٹ سے متعلق نہیں۔ واجد ضیاء نے بتایا کہ دستاویزات کے مطابق یہ کمپنی اسٹیل بزنس سے متعلق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کو بھجوائے گئے ایم ایل اے میں ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کا کوئی بزنس ایڈریس نہیں لکھا گیا اور ایڈریس کے طور پر صرف جدہ لکھا گیا۔ ضرور پڑھیں:کوئی پیشکش نہیں کی، فاروق ستار دن میں خواب دیکھ رہے ہیں: فیصل واوڈا سربراہ پاناما جے آئی ٹی نے بتایا کہ 3 جون کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے جنہیں شامل تفتیش کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے حسین نواز کی طرف سے فراہم کی گئی اضافی معلومات کی تصدیق کے لیے سعودی حکومت کو خط نہیں لکھا اور نہ ہی ان کی طرف سے دیئے گئے کمپنی کے رجسٹریشن نمبر کی تصدیق کرائی گئی۔ ضرور پڑھیں:ٹوئٹر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو وارننگ جاری کر دی واجد ضیاء کے مطابق حسین نواز کی طرف سے پیش کردہ بعض دستاویزات عربی زبان میں بھی تھیں۔ خواجہ حارث نے واجد ضیاء سے سوال کیا کہ آپ عربی سمجھ لیتے ہیں؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ‘میں نے وہاں کچھ وقت گزارا ہے اس لیے تھوڑی بہت سمجھ لیتا ہوں’۔ واجد ضیاء نے مزید بتایا کہ تحقیقات میں یہ بات اہم تھی کہ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ فرد واحد کی ملکیت ہے یا پارٹنر شپ پر چلنے والی کمپنی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے میں اس مخصوص سوال کا جواب نہیں مانگا گیا۔ خواجہ حارث نے سوال کیا کہ آپ نے ایم ایل اے میں سعودی حکام سے کمپنی سے متعلق کیا معلومات مانگیں؟۔ ضرور پڑھیں:سابق ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی شہلار ضا کی گاڑی کو حادثہ،چہرہ زخمی اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایم ایل اے کا جواب نہیں آیا اور ایم ایل اے بھی سربمہر فولڈر میں ہے یہ سوال نہیں پوچھا جا سکتا۔ واجد ضیاء نے مزید کہا کہ دستاویزات کے مطابق یہ کمپنی اسٹیل کے کاروبار سے منسلک ہے۔ ضرور پڑھیں:میرے نئے مہمان کی شہریت کسی تیسرے ملک کی ہوگی ، شعیب ملک واجد ضیاء نے مزید بتایا کہ حسین نواز کی طرف سے دی گئی قرض کی دستاویزات بھی تصدیق کے لیے سعودی عرب نہیں بھجوائیں اور نہ ہی جے آئی ٹی نے حسین نواز سے تفتیش میں پوچھا کہ کمپنی ان کی ذاتی ملکیت ہے یا کسی کے ساتھ پارٹنرشپ پر۔ خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا جے آئی ٹی نے حسین نواز کے ریکارڈ کیے گئے بیان کا درست ریکارڈ عدالت میں پیش کیا؟۔ جس پر واجد ضیاء نے جواب دیا کہ حسین نواز کی تمام 5 پیشیوں کا مکمل درست ریکارڈ پیش کیا گیا ہے۔ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ حد ہے کہ واجد ضیاء ہر بات پر رضاکارانہ بیان دینا شروع کر دیتے ہیں خود ہی سوال بناتے اور خود ہی جواب دیتے ہیں
سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے معاون وکیل محمد زبیر خالد کے بار بار گھڑی دیکھنے پر جج احتساب عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ‘اب زبیر صاحب نے کلاک کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے’۔ جس پر محمد زبیر خالد ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ اب تو دوسری سائیڈ بھی گھڑی کی طرف دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ آج جمعے کی وجہ سے سماعت جلد ختم کی جائے۔ جس پر جج احتساب عدالت نے ریمارکس دیئے کہ میں تو سوچ رہا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد شام پانچ بجے تک سماعت کی جائے۔ بعدازاں احتساب عدالت نے کیس کی سماعت پیر (10 ستمبر) تک کے لیے ملتوی کر دی۔

Print Friendly, PDF & Email
روس کے صدر ولادیمیر پوتین سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے تہران پہنچ گئے
امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس اعلیٰ فوجی افسران کے ہمراہ غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان پہنچ گئے
Translate News »