چودھری پرویزالٰہی سے فردوس عاشق اعوان کی ملاقات     No IMG     یوکرین کے مزاحیہ اداکار ملک کے صدر منتخب     No IMG     وزیروں کو نکالنے سے سلیکٹڈ وزیراعظم کی نااہلی نہیں چھپے گی, بلاول بھٹو زرداری     No IMG     ایران کے صدر حسن روحانی نے تہران میں سعد آباد محل میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا باقاعدہ اور سرکاری طور پر استقبال     No IMG     بھارت اور چین کے مابین پیر کے روز بیجنگ میں باہمی فیصلہ کن مذاکرات کا آغاز     No IMG     بھارتی وزیر اعظم,ہمارا پائلٹ واپس نہ کیا جاتا تو اگلی رات خون خرابے کی ہوتی     No IMG     ملکی سیاسی پارٹیاں ووٹ تو غریبوں ،محنت کشوں کے نام پر لیتی ہیں مگر تحفظ جاگیرداروں اور مافیاز کو دیتی ہیں ,جواد احمد     No IMG     افغان سپریم کورٹ نے صدر کے انتخاب تک صدر اشرف غنی کی مدت صدارت میں توسیع کردی     No IMG     آزاد کشمیر میں منڈا بانڈی کے مقام پر ایک جیپ کھائی میں گرنے سے 5 افراد ہلاک     No IMG     مصرمیں صدرکےاختیارات میں اضافے کےلیے ہونےوالے تین روزہ ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنےکا سلسلہ جاری ہے     No IMG     لاہور میں 3 منزلہ خستہ حال گھر زمین بوس ہونے کے نتیجے میں خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان ایران کے پہلے سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے     No IMG     سری لنکا میں کل ہونے والے آٹھ بم دھماکوں کے نتیجے میں 300 افراد ہلاک اور 500 زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے واقعے پر رپورٹ طلب کر لی     No IMG     افغانستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں     No IMG    

احتساب عدالت میں العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت,خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر سردارمظفر عباسی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ
تاریخ :   19-09-2018

اسلام آباد( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو )احتساب عدالت میں العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جبکہ عدالت نے 31 مئی 2017 کے ایم ایل اے کو بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا

حصہ بنا دیا۔ بدھ کو احتساب عدالت نمبر 2 کے جج ارشد ملک نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران نواز شریف کو سخت سیکیورٹی میں اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت لایا گیا۔۔سماعت کے آغاز پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کے روبرو کہا کہ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء سے جرح مکمل کرنے کیلئے کہا گیا تھا، لیکن یہ اٴْس صورت میں ممکن ہوگا اگر پورا دن مل گیا۔
خواجہ حارث نے کہا کہ نیب نے گزشتہ روز بھی ہائیکورٹ میں دلائل مکمل نہیں کیے اور آج تک مزید مہلت مانگ لی اور پھر ہائیکورٹ جانا ہے، اس لیے جرح کے بجائے ایم ایل اے سے متعلق درخواست پر دلائل سن لیں۔

جس پر احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ آپ جرح شروع کریں ،ْجتنی جرح ہوگئی ٹھیک، باقی ہائیکورٹ سے واپسی پر کر لیں۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے اعتراض کیا کہ خواجہ حارث ڈھائی تین ماہ سے ایک ہی گواہ پر جرح کر رہے ہیں۔جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ پتہ نہیں یہ مذاق کر رہے ہیں یا سنجیدہ ہیں خواجہ حارث کا مزید کہنا تھا کہ ‘یہ خود جرح میں تاخیر کا سبب بن رہے ہیں، کبھی بلاوجہ اعتراضات کرتے ہیں اور کبھی سپریم کورٹ بھاگ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیب میرا جرح کا حق ختم کرنے کی درخواست دائر کر دے ،ْاگر عدالت سمجھتی ہے کہ جرح غیر ضروری ہے تو ان کی زبانی درخواست پر یہ حق ختم کر دے۔نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ خواجہ صاحب غصہ کر رہے ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میں غصہ نہیں کر رہا بلکہ نیب کی بات ماننے کا کہہ رہا ہوں۔انہوں نے نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دو ہفتے بعد اچانک یہاں آگئے ہیں اور ان کو ہدایات دے کر بھیجا گیا ہے ،ْاس موقع پر احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ میں چلا جاتا ہوں ،ْآپ یہاں لڑائی کر لیں۔
جج ارشد ملک نے کہا کہ ‘اب میڈیا میں بھی یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ جرح کو اتنے دن ہو گئے ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ اگر آپ نے میڈیا سے متاثر ہونا ہے تو پھر یہ کیس چھوڑ دیں۔نیب پراسیکیوٹر نے اس موقع پر کہا کہ ہائیکورٹ میں خواجہ صاحب کے دلائل تو مکمل ہو چکے ،ْ اب نیب کے دلائل باقی ہیں جس پر خواجہ حارث نے پوچھا کہ اب یہ مجھے بتائیں کہ میں وہاں جاؤں یا نہیں جوابی دلائل یا عدالتی سوال پر جواب دینا پڑ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اس صورتحال کے بعد اس پوزیشن میں نہیں کہ آج کیس چلا سکوں۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر واثق ملک نے کہا کہ یہ تو پھر بلیک میلنگ ہوگئی کہ کیس آپ کی مرضی سے چلے گا۔جس پر احتساب عدالت کے جج نے خواجہ حارث سے کہا کہ آپ دس منٹ کی بریک لے کر آ جائیں ،ْہم سماعت میں وقفہ کر دیتے ہیں۔10 منٹ کے بعد جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عدالت نے 31 مئی 2017 کے ایم ایل اے کو بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔
اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ ایم ایل اے کی مصدقہ نقل ریکارڈ پر لاکر اصل دستاویز گواہ کو واپس کردی جائے اور ایم ایل اے کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کے باوجود پبلک نہ کیا جائے اور نہ اس کی کاپی کسی کو جاری کی جائے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالتی ریکارڈ پر آنے کے بعد کاپی فراہم نہ کرنے کی درخواست کیسے کی جا سکتی ہی ان کا کہنا تھا کہ ملزم کو کاپی فراہم نہ کرنا ملزم کے بنیادی حقوق اور فیئر ٹرائل کی نفی ہوگا۔۔سماعت کے بعد احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت 24 ستمبر تک کیلئے ملتوی کردی۔

Print Friendly, PDF & Email
ایرانی سفارتخانہ پر حملے میں ملوث دہشت گرد گرفتار
لک کے مختلف شہروں میں موبائل فون سروس معطل ،موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی بھی لگادی
Translate News »