محکمہ موسمیات کی پیش گوئی 19سے 26فروری تک ملک بھر میں بارشوں کی نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے     No IMG     وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بڑا مطالبہ     No IMG     حکمرانوں کے تمام حلقے کشمیر کے معاملے پر خاموش ہیں, مولانا فضل الرحمان     No IMG     پاکستان, میں 20ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا: سعودی ولی عہد     No IMG     لاہور قلندرز 78 رنز پر ڈھیر     No IMG     ابو ظہبی میں ہتھیاروں کے بین الاقوامی میلے کا آغاز     No IMG     برطانوی ہوائی کمپنی (Flybmi) دیوالیہ، سینکڑوں مسافروں کو پریشانی     No IMG     یورپ میں قانونی طریقے سے داخل ہونے والے افراد کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواستیں دیے جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے     No IMG     ٹرین کے ٹائلٹ میں پستول، سینکڑوں مسافر اتار لیے گئے     No IMG     یورپی یونین ,کے پاسپورٹوں کا کاروبار ’ایک خطرناک پیش رفت     No IMG     بھارت نے کشمیری حریت رہنماؤں کو دی گئی سیکیورٹی اورتمام سرکاری سہولتیں واپس لے لی     No IMG     پی ایس ایل کے چھٹے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 7وکٹوں سے شکست دےدی     No IMG     وزیرخارجہ کا ایرانی ہم منصب کو ٹیلیفون     No IMG     سعودی ولی عہد کا پاکستان میں تاریخی اور پُرتپاک استقبال     No IMG     پاکستان ,کو زاہدان کے دہشتگردانہ حملے کا جواب دینا ہوگا، ایران     No IMG    

احتساب عدالت میں العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت,خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر سردارمظفر عباسی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ
تاریخ :   19-09-2018

اسلام آباد( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو )احتساب عدالت میں العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جبکہ عدالت نے 31 مئی 2017 کے ایم ایل اے کو بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا

حصہ بنا دیا۔ بدھ کو احتساب عدالت نمبر 2 کے جج ارشد ملک نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران نواز شریف کو سخت سیکیورٹی میں اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت لایا گیا۔۔سماعت کے آغاز پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کے روبرو کہا کہ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء سے جرح مکمل کرنے کیلئے کہا گیا تھا، لیکن یہ اٴْس صورت میں ممکن ہوگا اگر پورا دن مل گیا۔
خواجہ حارث نے کہا کہ نیب نے گزشتہ روز بھی ہائیکورٹ میں دلائل مکمل نہیں کیے اور آج تک مزید مہلت مانگ لی اور پھر ہائیکورٹ جانا ہے، اس لیے جرح کے بجائے ایم ایل اے سے متعلق درخواست پر دلائل سن لیں۔

جس پر احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ آپ جرح شروع کریں ،ْجتنی جرح ہوگئی ٹھیک، باقی ہائیکورٹ سے واپسی پر کر لیں۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے اعتراض کیا کہ خواجہ حارث ڈھائی تین ماہ سے ایک ہی گواہ پر جرح کر رہے ہیں۔جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ پتہ نہیں یہ مذاق کر رہے ہیں یا سنجیدہ ہیں خواجہ حارث کا مزید کہنا تھا کہ ‘یہ خود جرح میں تاخیر کا سبب بن رہے ہیں، کبھی بلاوجہ اعتراضات کرتے ہیں اور کبھی سپریم کورٹ بھاگ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیب میرا جرح کا حق ختم کرنے کی درخواست دائر کر دے ،ْاگر عدالت سمجھتی ہے کہ جرح غیر ضروری ہے تو ان کی زبانی درخواست پر یہ حق ختم کر دے۔نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ خواجہ صاحب غصہ کر رہے ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میں غصہ نہیں کر رہا بلکہ نیب کی بات ماننے کا کہہ رہا ہوں۔انہوں نے نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دو ہفتے بعد اچانک یہاں آگئے ہیں اور ان کو ہدایات دے کر بھیجا گیا ہے ،ْاس موقع پر احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ میں چلا جاتا ہوں ،ْآپ یہاں لڑائی کر لیں۔
جج ارشد ملک نے کہا کہ ‘اب میڈیا میں بھی یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ جرح کو اتنے دن ہو گئے ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ اگر آپ نے میڈیا سے متاثر ہونا ہے تو پھر یہ کیس چھوڑ دیں۔نیب پراسیکیوٹر نے اس موقع پر کہا کہ ہائیکورٹ میں خواجہ صاحب کے دلائل تو مکمل ہو چکے ،ْ اب نیب کے دلائل باقی ہیں جس پر خواجہ حارث نے پوچھا کہ اب یہ مجھے بتائیں کہ میں وہاں جاؤں یا نہیں جوابی دلائل یا عدالتی سوال پر جواب دینا پڑ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اس صورتحال کے بعد اس پوزیشن میں نہیں کہ آج کیس چلا سکوں۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر واثق ملک نے کہا کہ یہ تو پھر بلیک میلنگ ہوگئی کہ کیس آپ کی مرضی سے چلے گا۔جس پر احتساب عدالت کے جج نے خواجہ حارث سے کہا کہ آپ دس منٹ کی بریک لے کر آ جائیں ،ْہم سماعت میں وقفہ کر دیتے ہیں۔10 منٹ کے بعد جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عدالت نے 31 مئی 2017 کے ایم ایل اے کو بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔
اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ ایم ایل اے کی مصدقہ نقل ریکارڈ پر لاکر اصل دستاویز گواہ کو واپس کردی جائے اور ایم ایل اے کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کے باوجود پبلک نہ کیا جائے اور نہ اس کی کاپی کسی کو جاری کی جائے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالتی ریکارڈ پر آنے کے بعد کاپی فراہم نہ کرنے کی درخواست کیسے کی جا سکتی ہی ان کا کہنا تھا کہ ملزم کو کاپی فراہم نہ کرنا ملزم کے بنیادی حقوق اور فیئر ٹرائل کی نفی ہوگا۔۔سماعت کے بعد احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت 24 ستمبر تک کیلئے ملتوی کردی۔

Print Friendly, PDF & Email
ایرانی سفارتخانہ پر حملے میں ملوث دہشت گرد گرفتار
لک کے مختلف شہروں میں موبائل فون سروس معطل ،موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی بھی لگادی
Translate News »