چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

احتساب عدالت:سابق وزیراعظم نواز شریف کا العزیزیہ ریفرنس میں بیان مکمل
تاریخ :   22-11-2018

لاہور( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں بطور ملزم اپنا بیان مکمل کرلیا ، احتساب عدالت نے فریقین سے حتمی دلائل طلب کر تے ہوئے نوازشریف کی طرف سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی متفرق

درخواستوں کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا، نواز شریف نے بیان قلمبند کرا تے ہوئے اپنا دفاع پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہاہے کہ سیاسی مخالفین کے الزامات پر مجھ پر کیس بنایا گیا، استغاثہ میرے خلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، واجد ضیا اور تفتیشی افسر کے علاوہ کسی گواہ نے میرے خلاف بیان نہیں دیا، ان کا بیان قابل قبول شہادت نہیں،کیس منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور کرپشن کے الزامات پر شروع ہوا اور بے رحمانہ احتساب کے بعد بات آمدن سے زائد اثاثہ جات پر آگئی۔ جمعرات کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جج ارشد ملک نے قومی احتساب بیورو (نیب)کی جانب سے نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کی۔دوران سماعت نواز شریف کی جانب سے عدالت کو اپنے دفاع میں کسی گواہ کو پیش نہ کرنے سے متعلق آگاہ کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ نیب نے کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا جس سے ظاہر ہو کہ میں نے العزیزیہ یا ہل میٹل قائم کی ہو، اس کے علاوہ نیب یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا کہ حسن اورحسین نواز میرے زیر کفالت تھے۔ نواز شریف کی جانب سے کہا گیا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ میرا العزیزیہ یا ہل میٹل کے انتظامی معاملات میں کردار رہا، اسی طرح میرے خلاف فرد جرم ثاب کرنے میں بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔سابق وزیر اعظم نے عدالت میں بتایا کہ یہ کیس میرے مخالفین کی طرف سے لگائے گئے الزامات اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی یکطرفہ رپورٹ کی بنیاد پر بنائے گئے۔ نواز شریف نے بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں غلط طریقے سے مجھے العزیزیہ اور ہل میٹل کا مالک ظاہر کیا گیا جبکہ واجد ضیا اور تفتیشی افسر کے علاوہ کسی گواہ نے میرے خلاف بیان نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا معزز بینچ بھی جے آئی ٹی کی رپورٹ سے مکمل مطمئن نہیں تھا اور عدالت عظمی نے معاملہ ٹرائل کورٹ کو بھجوایا گیا تاکہ کوئی شک باقی نہ رہے۔ عدالت میں انہوں نے بتایا کہ واجد ضیا اور تفتیشی افسر کا بیان قابل قبول شہادت نہیں جبکہ ان دونوں نے اعتراف کیا کہ العزیزیہ اور ہل میٹل میری ملکیت میں ہونے کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں۔انہوں نے کہا کہ العزیزیہ اسٹیل مل 2001 میں میرے مرحوم والد نے قائم کی جبکہ اس وقت حسین نواز کی عمر 29 سال تھی۔سابق وزیر اعظم نے عدالت میں بیان دیا کہ میں پاکستان کا بیٹا ہوں، اس مٹی کا ذرہ ذرہ مجھے پیارا ہے، اس ملک کے حالات بدلنے کے لیے جو کچھ کیا اسے اللہ کا فضل سمجھتا ہوں۔ نواز شریف نے کہا کہ ملک میں موٹروے کا جال بچھا ہے، 5 سال میں جو کام کیے اس کی نظیر 70 سال میں نہیں ملتی، میں نے بوری بند لاشوں والے کراچی کو امن دیا، مردم شماری، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا جبکہ اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ 2013 کے مقابلے میں ہر حوالے سے کہیں زیادہ روشن پاکستان دیا لیکن شاید ہی پاکستانی تاریخ میں ایسا احتساب کسی کا ہوا ہو جو میرا ہوا۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں مطمئن ہوں کہ ساری نسلیں کھنگالنے کے بعد بھی میرے خلاف کوئی کرپشن کا ثبوت نہیں، سارا معاملہ مفروضوں پر مبنی تھا اور مفروضوں کے ثبوت نہیں ہوتے۔ نواز شریف نے احتساب عدالت کے جج سے کہا کہ آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام اس وقت لگایا جاتا ہے، جب کرپشن کا ثبوت نہ ملے۔اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میرے بچے معاشی طور پر خود کفیل ہیں، میرے بیٹے بیرون ملک ان ملکوں کے قوانین کے مطابق کاروبار کر رہے ہیں۔ نواز شریف نے بتایا کہ تفتیش کے دوران کسی کاروباری معاملے میں گڑ بڑ کے ثبوت نہیں ملے، حسین نواز نے 2010میں پیسے بھیجنے شروع کیے لیکن تب بھی میں عوامی عہدے پر نہیں تھا، مجھے پیسے بھجوانا ایک بیٹے کی باپ سے محبت کا ثبوت ہے، ہماری مذہبی اور معاشرتی روایت ہے کہ بچے والدین کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ واجد ضیا اور تفتیشی افسر نے حلفیہ اقرار کیا کہ میرے خلاف ثبوت نہیں ملے جبکہ میں نے اس احتساب کے عمل کے دوران ہر طرح کی قربانی دی ہے، اس سارے مرحلے میں مجھے ناقابل تلافی نقصان پہنچا مگر میں پیچھے نہیں ہٹا۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ 1988 میں فاروق لغاری نے بطور وزیر پانی و بجلی اتفاق

فانڈری کے خلاف تحقیقات کروائیں لیکن ہمارے خلاف کوئی چوری ثابت نہیں ہوئی بلکہ الٹا 6 کروڑ روپے ہمارے واپڈا کی طرف نکل آئے جبکہ اگر اس وقت نیب ہوتا تو ہمیں ہی اندر کردیتا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہمیں اگر دھکا نہ دیا جاتا تو بیٹے شاید بیرون ملک کاروبار نہ کر رہے ہوتے، اس ملک میں سیاست دان کا بیٹا کاروبار کرلے تو جرم بن جاتا ہے جبکہ بیرون ملک جا کر کام کریں تو بھی مسئلہ بنتا ہے، ایسی صورتحال میں میرے جیسا سیاستدان کیا کرے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے اللہ پر کامل یقین ہے اور عدالت سے انصاف کی توقع ہے۔دوران سماعت نواز شریف نے اتفاق فانڈری میں جنرل یحیی کے دورے کی کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی استدعا کی اور ایک تصویر پیش کی۔اس موقع پر انہوں نے جج ارشد ملک سے مکالمہ کیا کہ یہ جو آمدن کے ذرائع کی بات کرتے ہیں وہ یہ تصویر دیکھ لیں، اس تصویر میں خود بھی موجود ہوں۔اس پر جج ارشد ملک نے ریمارکس دیے کہ تصویر کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کے لیے اس اخبار کا نام اور تصویر شائع ہونے کی تاریخ بتانا ہوگی، جس پر نواز شریف نے چوہدری تنویر سے کہا کہ وہ اس تصویر کو شائع کرنے والے اخبار کا نام اور تاریخ کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کا بیان مکمل ہوگیا، جس کے بعد عدالت نے فریقین سے حتمی دلائل طلب کرلیے۔ساتھ ہی عدالت نے نوازشریف کی طرف سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی متفرق درخواستوں کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔

Print Friendly, PDF & Email
ایران, کے 5 سرحدی محافظ آزادی کے بعد وطن واپس پہنچ گئے
عمران خان صاحب! ہم آپ کی حکومت گرانا نہیں چاہتے،سابق وفاقی وزیر داخلہ
Translate News »