محکمہ موسمیات کی پیش گوئی 19سے 26فروری تک ملک بھر میں بارشوں کی نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے     No IMG     وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بڑا مطالبہ     No IMG     حکمرانوں کے تمام حلقے کشمیر کے معاملے پر خاموش ہیں, مولانا فضل الرحمان     No IMG     پاکستان, میں 20ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا: سعودی ولی عہد     No IMG     لاہور قلندرز 78 رنز پر ڈھیر     No IMG     ابو ظہبی میں ہتھیاروں کے بین الاقوامی میلے کا آغاز     No IMG     برطانوی ہوائی کمپنی (Flybmi) دیوالیہ، سینکڑوں مسافروں کو پریشانی     No IMG     یورپ میں قانونی طریقے سے داخل ہونے والے افراد کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواستیں دیے جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے     No IMG     ٹرین کے ٹائلٹ میں پستول، سینکڑوں مسافر اتار لیے گئے     No IMG     یورپی یونین ,کے پاسپورٹوں کا کاروبار ’ایک خطرناک پیش رفت     No IMG     بھارت نے کشمیری حریت رہنماؤں کو دی گئی سیکیورٹی اورتمام سرکاری سہولتیں واپس لے لی     No IMG     پی ایس ایل کے چھٹے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 7وکٹوں سے شکست دےدی     No IMG     وزیرخارجہ کا ایرانی ہم منصب کو ٹیلیفون     No IMG     سعودی ولی عہد کا پاکستان میں تاریخی اور پُرتپاک استقبال     No IMG     پاکستان ,کو زاہدان کے دہشتگردانہ حملے کا جواب دینا ہوگا، ایران     No IMG    

آسٹریا کی وزیر خارجہ کی شادی، روسی صدر کا رقص
تاریخ :   19-08-2018

ویانا ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) یورپ کیا کہیں بھی ایسا بہت ہی کم دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی خاتون نے وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز ہوتے ہوئے شادی کی ہو۔ ایسی کسی شادی میں روسی صدر بھی شامل ہوں اور وہ رقص بھی کریں، یہ تو اور بھی غیر معمولی بات ہے۔

روس میں ماسکو اور آسٹریا میں ویانا سے اتوار 19 اگست کو ملنے والی مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق کل ہفتہ اٹھارہ اگست کو آسٹریا کی خاتون وزیر خارجہ کارِن کنائسل کی شادی کی جو تقریب منعقد ہوئی، اس میں دلہن نے ذاتی طور پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو بھی مدعو کیا ہوا تھا۔

روسی صدر اس دعوت پر خوش تھے اور انہیں ہفتہ 18 اگست ہی کو جرمن دارالحکومت سے کچھ دور وفاقی چانسلر انگیلا میرکل سے ملاقات بھی کرنا تھی۔ انہوں نے اپنا سفر کا پروگرام اس طرح ترتیب دیا کہ پہلے دن کے وقت انہوں نے آسٹریا میں وزیر خارجہ کنائسل کی شادی کی تقریب میں شرکت کی، پھر شام کے وقت جرمنی پہنچے، جہاں انہوں نے برلن سے قریب 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع میزے برگ محل میں چانسلر میرکل سے ملاقات کی۔

روسی صدر کی جرمن چانسلر سے ملاقات تو اچھی اور کامیاب ہی رہی، اور اس سے قبل آسٹریا میں کارِن کنائسل کی شادی کی تقریب میں بھی معاملہ صدر پوٹن کی حد تک تو بہت ٹھیک اور خوشگوار ہی تھا۔ شادی کی اس تقریب میں شرکت کے دوران روسی صدر نے آسٹرین وزیر خارجہ کو مبارکباد بھی دی اور پھر دلہن کے ساتھ رقص بھی کیا۔ اس پر بھی دلہن بہت خوش تھی۔

لیکن سیاسی طور پر آسٹرین وزیر خارجہ کی طرف سے روسی صدر پوٹن کو اپنی شادی کی تقریب میں شرکت کی دعوت دیے جانے پر کنائسل کے مخالف کئی سیاسی حلقے ناخوش تھے اور انہوں نے اس پر تنقید بھی کی۔
سیاسی ناقدین نے کہا کہ یوکرائن کے تنازعے میں روس کے کردار، یوکرائن کے علاقے کریمیا کو روس میں شامل کرنے کے پوٹن کے چند برس پہلے کے انتہائی متنازعہ فیصلے اور یورپی یونین کی طرف سے روس پر لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے کارِن کنائسل کو ولادیمیر پوٹن کو مدعو نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وہ بھی ایک ایسے وقت پر جب رواں برس کی دوسری ششماہی میں یورپی یونین کی صدارت آسٹریا ہی کے پاس ہے۔

ان ناقدین کا کہنا ہے کہ آسٹرین وزیر خارجہ نے دلہن کے طور پر روسی صدر کو شادی میں شرکت کی دعوت دے کر اس سیاسی طرز عمل کی نفی کی، جو یورپی یونین کے روس کے ساتھ موجودہ سیاسی تعلقات کے باعث ویانا حکومت اور ملکی وزیر خارجہ کے پیش نظر رہنا چاہیے تھا، خاص کر آسٹریا کی یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک کی حیثیت سے۔

جہاں تک روسی صدر کا تعلق ہے تو پوٹن نہ صرف خوشی سے اس شادی میں آئے بلکہ اپنے ساتھ کوساک مردوں پر مشتمل روسی موسیقاروں کا ایک ایسا چھوٹا سا طائفہ بھی لائے جس کے ارکان نے تقریب کے تقریباﹰ 100 مہمانوں کی تفریح کے لیے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
یورپی یونین اور روس کے درمیان کئی معاملات میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان میں یوکرائن کا تنازعہ بھی شامل ہے، شامی خانہ جنگی میں ماسکو کی طرف سے صدر اسد کی مکمل سیاسی اور فوجی حمایت بھی اور برطانیہ میں ایک سابق روسی جاسوس اور اس کی بیٹی پر اعصابی زہر سے اسی سال کیا جانے والا وہ حملہ بھی جس کا الزام لندن کی طرف سے روس پر لگایا جاتا ہے۔

اس پس منظر میں آسٹریا میں اپوزیشن کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ژورگ لائشت فرِیڈ نے کہا، ’’وزیر خارجہ کنائسل کو صدر پوٹن کو مدعو نہیں کرنا چاہیے تھا، کیونکہ یہ دعوت دلہن کی طرف سے، جو وزیر خارجہ بھی ہیں، یورپی یونین کے ماسکو کے ساتھ تنازعے میں یونین کے موقف کو نظر انداز کرنے کے مترادف تھی۔‘‘

کنائسل کے بارے میں یہ بات اہم ہے کہ وہ خود آسٹریا کی کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتیں اور انہیں ملکی وزیر خارجہ حکمران عوامیت پسند جماعت فریڈم پارٹی نے بنایا تھا۔ ایک سیاسی جماعت کے طور پر آسٹرین فریڈم پارٹی نے روسی صدر کی جماعت ’متحدہ روس‘ کے ساتھ تعاون کا ایک معاہدہ بھی کر رکھا ہے۔

ناقدین کے بقول یہی بالواسطہ سیاسی قربت اس بات کی وجہ رہی ہو گی کہ دلہن کنائسل نے روسی صدر پوٹن کو بھی اپنی شادی کا ایک مہمان بنانے کا فیصلہ کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
بھارت میں صدی کا بدترین سیلاب سینکڑوں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر
حکومت پاکستان توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا فوری نوٹس لے, امیر جماعت اسلامی سراج الحق
Translate News »