بھارت اور چین کے مابین پیر کے روز بیجنگ میں باہمی فیصلہ کن مذاکرات کا آغاز     No IMG     بھارتی وزیر اعظم,ہمارا پائلٹ واپس نہ کیا جاتا تو اگلی رات خون خرابے کی ہوتی     No IMG     ملکی سیاسی پارٹیاں ووٹ تو غریبوں ،محنت کشوں کے نام پر لیتی ہیں مگر تحفظ جاگیرداروں اور مافیاز کو دیتی ہیں ,جواد احمد     No IMG     افغان سپریم کورٹ نے صدر کے انتخاب تک صدر اشرف غنی کی مدت صدارت میں توسیع کردی     No IMG     آزاد کشمیر میں منڈا بانڈی کے مقام پر ایک جیپ کھائی میں گرنے سے 5 افراد ہلاک     No IMG     مصرمیں صدرکےاختیارات میں اضافے کےلیے ہونےوالے تین روزہ ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنےکا سلسلہ جاری ہے     No IMG     لاہور میں 3 منزلہ خستہ حال گھر زمین بوس ہونے کے نتیجے میں خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان ایران کے پہلے سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے     No IMG     سری لنکا میں کل ہونے والے آٹھ بم دھماکوں کے نتیجے میں 300 افراد ہلاک اور 500 زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے واقعے پر رپورٹ طلب کر لی     No IMG     افغانستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا افتتاح کردیا     No IMG     ایران کے وزیر خارجہ کی ترک صدر اردوغان کے ساتھ ملاقات     No IMG     عمان کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں شام کی عرب لیگ میں واپسی پر تاکیدکی     No IMG     سعودی عرب کی ایک کمپنی نے ترکی میں 100 ملین ڈالر کا سرمایہ لگانے کا اعلان     No IMG    

آسٹریا کی وزیر خارجہ کی شادی، روسی صدر کا رقص
تاریخ :   19-08-2018

ویانا ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) یورپ کیا کہیں بھی ایسا بہت ہی کم دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی خاتون نے وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز ہوتے ہوئے شادی کی ہو۔ ایسی کسی شادی میں روسی صدر بھی شامل ہوں اور وہ رقص بھی کریں، یہ تو اور بھی غیر معمولی بات ہے۔

روس میں ماسکو اور آسٹریا میں ویانا سے اتوار 19 اگست کو ملنے والی مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق کل ہفتہ اٹھارہ اگست کو آسٹریا کی خاتون وزیر خارجہ کارِن کنائسل کی شادی کی جو تقریب منعقد ہوئی، اس میں دلہن نے ذاتی طور پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو بھی مدعو کیا ہوا تھا۔

روسی صدر اس دعوت پر خوش تھے اور انہیں ہفتہ 18 اگست ہی کو جرمن دارالحکومت سے کچھ دور وفاقی چانسلر انگیلا میرکل سے ملاقات بھی کرنا تھی۔ انہوں نے اپنا سفر کا پروگرام اس طرح ترتیب دیا کہ پہلے دن کے وقت انہوں نے آسٹریا میں وزیر خارجہ کنائسل کی شادی کی تقریب میں شرکت کی، پھر شام کے وقت جرمنی پہنچے، جہاں انہوں نے برلن سے قریب 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع میزے برگ محل میں چانسلر میرکل سے ملاقات کی۔

روسی صدر کی جرمن چانسلر سے ملاقات تو اچھی اور کامیاب ہی رہی، اور اس سے قبل آسٹریا میں کارِن کنائسل کی شادی کی تقریب میں بھی معاملہ صدر پوٹن کی حد تک تو بہت ٹھیک اور خوشگوار ہی تھا۔ شادی کی اس تقریب میں شرکت کے دوران روسی صدر نے آسٹرین وزیر خارجہ کو مبارکباد بھی دی اور پھر دلہن کے ساتھ رقص بھی کیا۔ اس پر بھی دلہن بہت خوش تھی۔

لیکن سیاسی طور پر آسٹرین وزیر خارجہ کی طرف سے روسی صدر پوٹن کو اپنی شادی کی تقریب میں شرکت کی دعوت دیے جانے پر کنائسل کے مخالف کئی سیاسی حلقے ناخوش تھے اور انہوں نے اس پر تنقید بھی کی۔
سیاسی ناقدین نے کہا کہ یوکرائن کے تنازعے میں روس کے کردار، یوکرائن کے علاقے کریمیا کو روس میں شامل کرنے کے پوٹن کے چند برس پہلے کے انتہائی متنازعہ فیصلے اور یورپی یونین کی طرف سے روس پر لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے کارِن کنائسل کو ولادیمیر پوٹن کو مدعو نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وہ بھی ایک ایسے وقت پر جب رواں برس کی دوسری ششماہی میں یورپی یونین کی صدارت آسٹریا ہی کے پاس ہے۔

ان ناقدین کا کہنا ہے کہ آسٹرین وزیر خارجہ نے دلہن کے طور پر روسی صدر کو شادی میں شرکت کی دعوت دے کر اس سیاسی طرز عمل کی نفی کی، جو یورپی یونین کے روس کے ساتھ موجودہ سیاسی تعلقات کے باعث ویانا حکومت اور ملکی وزیر خارجہ کے پیش نظر رہنا چاہیے تھا، خاص کر آسٹریا کی یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک کی حیثیت سے۔

جہاں تک روسی صدر کا تعلق ہے تو پوٹن نہ صرف خوشی سے اس شادی میں آئے بلکہ اپنے ساتھ کوساک مردوں پر مشتمل روسی موسیقاروں کا ایک ایسا چھوٹا سا طائفہ بھی لائے جس کے ارکان نے تقریب کے تقریباﹰ 100 مہمانوں کی تفریح کے لیے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
یورپی یونین اور روس کے درمیان کئی معاملات میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان میں یوکرائن کا تنازعہ بھی شامل ہے، شامی خانہ جنگی میں ماسکو کی طرف سے صدر اسد کی مکمل سیاسی اور فوجی حمایت بھی اور برطانیہ میں ایک سابق روسی جاسوس اور اس کی بیٹی پر اعصابی زہر سے اسی سال کیا جانے والا وہ حملہ بھی جس کا الزام لندن کی طرف سے روس پر لگایا جاتا ہے۔

اس پس منظر میں آسٹریا میں اپوزیشن کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ژورگ لائشت فرِیڈ نے کہا، ’’وزیر خارجہ کنائسل کو صدر پوٹن کو مدعو نہیں کرنا چاہیے تھا، کیونکہ یہ دعوت دلہن کی طرف سے، جو وزیر خارجہ بھی ہیں، یورپی یونین کے ماسکو کے ساتھ تنازعے میں یونین کے موقف کو نظر انداز کرنے کے مترادف تھی۔‘‘

کنائسل کے بارے میں یہ بات اہم ہے کہ وہ خود آسٹریا کی کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتیں اور انہیں ملکی وزیر خارجہ حکمران عوامیت پسند جماعت فریڈم پارٹی نے بنایا تھا۔ ایک سیاسی جماعت کے طور پر آسٹرین فریڈم پارٹی نے روسی صدر کی جماعت ’متحدہ روس‘ کے ساتھ تعاون کا ایک معاہدہ بھی کر رکھا ہے۔

ناقدین کے بقول یہی بالواسطہ سیاسی قربت اس بات کی وجہ رہی ہو گی کہ دلہن کنائسل نے روسی صدر پوٹن کو بھی اپنی شادی کا ایک مہمان بنانے کا فیصلہ کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
بھارت میں صدی کا بدترین سیلاب سینکڑوں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر
حکومت پاکستان توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا فوری نوٹس لے, امیر جماعت اسلامی سراج الحق
Translate News »