گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG     قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں گے،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ     No IMG     اپوزیشن ,جماعتوں نے منی بجٹ مسترد کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کو سونے کی کلاشنکوف کا تحفہ مل گیا     No IMG     سعودی لڑکی رھف کا فرار ہونے کے بعد پہلا انٹرویو     No IMG     بنگلہ دیش,گارمنٹس ملازمین کا تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر مظاہرہ     No IMG     بھارتی فوج مغربی سرحد کیساتھ دہشتگردانہ کارروائیوں کیخلاف سخت ایکشن لینے سے نہیں ہچکچائے گی۔     No IMG     حکومت نے ایک ہفتے میں ہم سے 113 ارب روپے قرض لیاہے، پاکستانی اسٹیٹ بینک     No IMG     وزیراعظم کی اپوزیشن پر شدید تنقید     No IMG     چین کی عدالت نے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں کینیڈا کے شہری کی 15 سال قید کی سزا کو پھانسی میں تبدیل کردیا     No IMG    

آسٹریامیں بچیوں کے ہیڈ اسکارف پر پابندی کا حکومتی منصوبہ
تاریخ :   04-04-2018

آسٹریا ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) کی دائیں بازو کی حکومت کا منصوبہ ہے کہ ایلیمنڑی اسکول اور ڈے کیئر سینٹرز میں لڑکیوں کے ہیڈ اسکارف پہننے پر پابندی عائد کر دی جائے۔ اس تناظر میں ایک قانونی مسودے کی تیاری کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

آج بدھ چار اپریل کو آسٹریا کی حکومت کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایلمنڑی اسکولوں اور ڈے کیئر سینٹرز میں لڑکیوں کے ہیڈ اسکارف پہننے پر پابندی عائد کرنے کی خاطر ایک مسودہ قانون تیار کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

قدامت پسند وزیر اعظم سباستیان کرس نے ویانا میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’’یقینی طور پر ہمارے ملک میں چھوٹی بچیوں کے اس طرح پردہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہونا چاہیے

سباستیان کرس نے مزید کہا کہ اس مجوزہ قانون سازی سے آسٹریا میں لڑکیوں کے خلاف صنفی امتیاز کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا اور ساتھ ہی ایسے ‘متبادل گروہوں‘ کی حوصلہ شکنی ہو گی، جن کے تحت مخصوص طبقات کو پسماندہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انتہائی دائیں بازو کی فریڈم پارٹی سے تعلق رکھنے والے نائب چانسلر ہائنز کرسٹیان شٹراخے نے اس تناظر میں کہا ہے، ’’یہ ضروری ہے کہ پولیٹکل اسلام کے خلاف مؤقف اختیار کیا جائے۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ اس ملک میں بچے آزاد طور پر بغیر کسی اثرورسوخ کے بڑے ہوں۔‘‘ واضح رہے کہ یورپی ملک آسٹریا میں چھوٹی بچیوں کا ہیڈ اسکارف لینا شاذ ونادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔

جب ایک صحافی نے وزیر اعظم کرس سے دریافت کیا کہ وہ بتائیں کہ آسٹریا میں کتنی بچیاں ہیڈ اسکارف لیتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی حکومت نے یہ نئی پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو وہ اس بارے میں کوئی ٹھوس جواب نہ دے سکے۔ تاہم انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ’یہ مسئلہ بڑا ہوتا جا رہا ہے‘۔

چھ ماہ قبل ہی آسٹریا میں مکمل چہرے کے نقاب پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس حکومتی قدم سے بھی بہت کم خواتین ہی متاثر ہوئیں۔ پولیس کے مطابق اس قانون کی خلاف ورزی پر ابھی تک صرف پچاس خواتین کو ہی جرمانہ کیا گیا ہے۔

آسٹریا کی موجودہ مخلوط حکومت کے پاس قانون سازی کے لیے پارلیمان میں قطعی اکثریت نہیں ہے، اس لیے بچیوں کے ہیڈ اسکارف پر پابندی کے اس مجوزہ قانون کی منظوری کے لیے اسے پارلیمان میں کسی ایک اپوزیشن پارٹی کی حمایت درکار ہو گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق آسٹریا کے سوشل ڈیموکریٹس اور لبرلز نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس مجوزہ قانون سازی پر غور کر سکتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کو ایسی پابندیوں جیسے علامتی اقدام کے بجائے انضمام کی بھرپور اور جامع پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔

 

Print Friendly, PDF & Email
متحدہ عرب امارات نے قطر کو سبق سکھانے کی ٹھان لی
شام کے مستقل کا فیصلہ شامی عوام کے ہاتھ میں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »