آرمی چیف سے بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر کی ملاقات     No IMG     اسرائیل کی جیل میں آگ بھڑک اٹھی، کئی کمرے جھلس گئے     No IMG     اسرائیلی فوج کی گھر گھر تلاشی15 فلسطینی شہری گرفتار     No IMG     وزیر ریلوے شیخ رشید کی نا اہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر     No IMG     فضائی حدود کی بندش، ائیرانڈیا کو کروڑوں کا نقصان     No IMG     دہشت گردی کا کوئی دین اور نسل نہیں ہوتی ,سعودی وزیر خارجہ     No IMG     ایران، عراق اور شامی افواج کے خون نے تینوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنایا, بشار الاسد     No IMG     آصف زرداری اور فریال تالپور کی 10 دن کے لیے حفاظتی ضمانت منظور     No IMG     سابق وزیراعلی شہباز شریف کے خلاف ایک اور انکوائری شروع     No IMG     کینیڈین وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو نے نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت     No IMG     روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ وہ روس میں کرائسٹ چرچ جیسا دہشت گرد حملہ نہیں ہونے دیں گے     No IMG     برطانوی حکام نے نیوزی لینڈ کی مسجدوں میں ہوئی دہشت گردی کی طرز پر برطانیہ میں بھی واقعات پیش آنے کا خدشہ     No IMG     نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا     No IMG     نیوزی لینڈ مساجد پر دہشت گرد حملے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیان پر میڈیا کی تنقید سے برہم     No IMG     نیوزی لینڈ کی قومی فٹسل ٹیم کے گول کیپر عطا الیان بھی کرائسٹ چرچ واقعے میں شہید     No IMG    

آسٹریامیں بچیوں کے ہیڈ اسکارف پر پابندی کا حکومتی منصوبہ
تاریخ :   04-04-2018

آسٹریا ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) کی دائیں بازو کی حکومت کا منصوبہ ہے کہ ایلیمنڑی اسکول اور ڈے کیئر سینٹرز میں لڑکیوں کے ہیڈ اسکارف پہننے پر پابندی عائد کر دی جائے۔ اس تناظر میں ایک قانونی مسودے کی تیاری کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

آج بدھ چار اپریل کو آسٹریا کی حکومت کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایلمنڑی اسکولوں اور ڈے کیئر سینٹرز میں لڑکیوں کے ہیڈ اسکارف پہننے پر پابندی عائد کرنے کی خاطر ایک مسودہ قانون تیار کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

قدامت پسند وزیر اعظم سباستیان کرس نے ویانا میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’’یقینی طور پر ہمارے ملک میں چھوٹی بچیوں کے اس طرح پردہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہونا چاہیے

سباستیان کرس نے مزید کہا کہ اس مجوزہ قانون سازی سے آسٹریا میں لڑکیوں کے خلاف صنفی امتیاز کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا اور ساتھ ہی ایسے ‘متبادل گروہوں‘ کی حوصلہ شکنی ہو گی، جن کے تحت مخصوص طبقات کو پسماندہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انتہائی دائیں بازو کی فریڈم پارٹی سے تعلق رکھنے والے نائب چانسلر ہائنز کرسٹیان شٹراخے نے اس تناظر میں کہا ہے، ’’یہ ضروری ہے کہ پولیٹکل اسلام کے خلاف مؤقف اختیار کیا جائے۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ اس ملک میں بچے آزاد طور پر بغیر کسی اثرورسوخ کے بڑے ہوں۔‘‘ واضح رہے کہ یورپی ملک آسٹریا میں چھوٹی بچیوں کا ہیڈ اسکارف لینا شاذ ونادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔

جب ایک صحافی نے وزیر اعظم کرس سے دریافت کیا کہ وہ بتائیں کہ آسٹریا میں کتنی بچیاں ہیڈ اسکارف لیتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی حکومت نے یہ نئی پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو وہ اس بارے میں کوئی ٹھوس جواب نہ دے سکے۔ تاہم انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ’یہ مسئلہ بڑا ہوتا جا رہا ہے‘۔

چھ ماہ قبل ہی آسٹریا میں مکمل چہرے کے نقاب پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس حکومتی قدم سے بھی بہت کم خواتین ہی متاثر ہوئیں۔ پولیس کے مطابق اس قانون کی خلاف ورزی پر ابھی تک صرف پچاس خواتین کو ہی جرمانہ کیا گیا ہے۔

آسٹریا کی موجودہ مخلوط حکومت کے پاس قانون سازی کے لیے پارلیمان میں قطعی اکثریت نہیں ہے، اس لیے بچیوں کے ہیڈ اسکارف پر پابندی کے اس مجوزہ قانون کی منظوری کے لیے اسے پارلیمان میں کسی ایک اپوزیشن پارٹی کی حمایت درکار ہو گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق آسٹریا کے سوشل ڈیموکریٹس اور لبرلز نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس مجوزہ قانون سازی پر غور کر سکتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کو ایسی پابندیوں جیسے علامتی اقدام کے بجائے انضمام کی بھرپور اور جامع پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔

 

Print Friendly, PDF & Email
متحدہ عرب امارات نے قطر کو سبق سکھانے کی ٹھان لی
شام کے مستقل کا فیصلہ شامی عوام کے ہاتھ میں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »