امریکی صدر شیر کی دم کے ساتھ کھیلنا ترک کردے ۔ مزاحمت یا تسلیم کے علاوہ کوئي اور راستہ نہیں۔     No IMG     افریقی ملک مراکش کی عدالت نے ایک بچی کی اجتماعی عصمت ریزی کے گھناؤنے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع     No IMG     دوست کو چاقو کے وارسے قتل کرنے والی حسینا کو سزائے موت     No IMG     بہاولپور جلسے میں کم تعداد پر عمران خان برہم لیکن پارٹی عہدیداران نے ایسی بات بتادی کہ کپتان کیساتھ جہانگیر ترین بھی حیران پریشان     No IMG     اکرام گنڈا پور کے قافلے پر خود کش حملہ، ڈرائیور شہید، تحریک انصاف کے امیدوار اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد زخمی     No IMG     پاکستان اچھا کھیلاہم بہت براکھیلے،زمبابوین کھلاڑی کا اعتراف     No IMG     پاکستان سمیت دنیا بھر میں28 جولائی کو مکمل چاند گرہن ہوگا     No IMG     حنیف عباسی کا فیصلہ انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں , شہباز شریف     No IMG     سعودی عرب غیر ملکی ٹرک ڈرائیوروں پر پابندی سے ماہانہ 200ملین ریال کا نقصان ہوگا     No IMG     امریکہ میں کال سینٹر اسکینڈل میں ملوث 21 بھارتی شہریوں کو20 سال تک کی سزا     No IMG     اسرائیی حکومت نے القدس میں سرنگ کی مزید کھدائی کی منظوری دے دی     No IMG     ویتنام کے شمالی علاقوں میں سمندری طوفان سے 20 افراد ہلاک اور14 زخمی ہوگئے     No IMG     شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا ملنے سے اب این اے 60 راولپنڈی کا الیکشن یکطرفہ ہو جائے گا     No IMG     حنیف عباسی نے انسداد منشیات عدالت کی جانب سے دی گئی عمرقید کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان     No IMG     اسرائیل کے مجرمانہ حملوں میں 4 فلسطینی شہری شہید     No IMG    

آزاد کشمیر

  • تیرہویں آئینی ترمیم کی منظوری پر صرف سردارعتیق اور مودی کو بہت تکلیف ہوئی ، پتہ نہیں دونوں کو کیا معاملہ ہے

    باغ (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ ایکٹ74 کی منظوری کے وقت بقول سردار عبدالقیوم خان اُن سے اندھیرے میں دستخط کروائے گئے ۔ تیرہویں آئینی ترمیم کی منظوری پر صرف سردارعتیق اور مودی کو بہت تکلیف ہوئی ، پتہ نہیں دونوں کو کیا معاملہ ہے ،تیرہویں آئینی ترمیم سے کچھ لوگوں کی اے ٹی ایم مشینیں بند ہو گئی ہیں ۔

    وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ ایک طرف جا کر کہتے ہیں کہ وزیر اعظم پاکستان کو کشمیر کونسل میں یرغمال بنا دیا گیا ہے تو دوسری طرف کہتے ہیں کہ سارے اختیارات حکومت پاکستان کو دے دیئے ۔اگر مجھ پر ایک روپے کی کرپشن ، لوٹ مار یا بددیانتی ثابت ہوجائے تو چاہے مجھے کوئی سڑکوں پر گھسیٹے مجھے منظور ہوگا۔ دلائل اور حقائق سے بات کریں ، الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہیے ، تنقید کرنے والے اہم ریاستی معاملے پر مجرمانہ کردار ادا کررہے ہیں ،

    اب یہ ایکٹ نہیں عبوری آئین ہے ،اس کا آرٹیکل19اور32پڑھ لیں پھر بات کریں ۔ قومی سلامتی کمیٹی کے تمام اراکین اورمسلم لیگ ن کی حکومت کے شکرگزار ہیں کہ جنہوں نے ہمیں بااختیار بنایا۔ اب یہ ہمیں ثابت کرنا ہے کہ ان کے اعتماد پر پورا اتریں ۔

    آزادکشمیر میں بینک کارپوریشن نہیں بلکہ کمپنیز ایکٹ کے تحت قائم ہیں اور ان کی انکم پر ٹیکس کی وصولی کا اختیار آزاد حکومت کا ہے ۔ موجودہ عبوری آئین میں آزادکشمیر کے شہریوں مکمل کو بنیادی حقوق دینے کے ساتھ ساتھ خاندان کو تحفظ پالیسی کے لیے اصول وضع کرنے ، فیئر ٹرائل کیلئے اقدامات اٹھانے سمیت بیشتر ایسے اہم معاملات کا احاطہ کیا گیا ہے جو اس سے پہلے نہیں تھے۔

    انہوں نے کہا کہ سردار عیتق کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے والد سے ملنے والی ایک بندوق کی قیمت ان کی کل جائیداد سے زیادہ ہے۔ذاتیات پے بات نہ کریں اگر میں نے بات کی تو پھر ان کیلئے سر چھپانا مشکل ہو جائیگا۔ ایک بندہ اپنی اہلیت اور صلاحیت پر دھیر کوٹ سے جج لگ گیا تو موصوف کو برداشت نہیں ہوتا ہے ، تکبر اللہ رب العزت کی ذات کو پسند نہیں ، اقتدار اس کی ذات نے دینا ہے ، میں نے جس اسمبلی کا الیکشن ہارا تھا رب کی کرم نوازی سے اسی سے وزیر اعظم بنا، خالد ابراہیم اچھے اور شریف آدمی ہیں ، کچھ لوگ انہیں منصوبہ بندی کے تحت اپنے ٹریک پر لانا چاہتے ہیں ۔

    ان خیالات کااظہارا نہوں نے اپنے دورہ باغ کے دوران مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعظم آزادکشمیر کا باغ پہنچنے پر لیگی کارکنان نے پرتپاک استقبال کیا ، اس موقع پر وزیر حکومت چوہدری محمد عزیزاور نجیب نقی بھی ان کے ہمراہ تھے جبکہ مقامی وزراء راجہ مشتاق احمد منہاس، سردار میر اکبر خان نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔

    وزیر اعظم آزادکشمیر نے ویمن یونیورسٹی باغ خواتین کو لیپ ٹاپ دینے کی تقریب ، سجاد شہید پریس کلب باغ اور محکمہ صحت کے زیر انتظام تقریب سے بھی خطاب کیا۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہاکہ آزادکشمیر میں کوئی ایف بی آر نہیں آئیگا،ہم خود ٹیکس وصول کرینگے اور مالیاتی خودمختاری ملنے کے بعد ریاستی وسائل میں اضافے کیلئے بھرپور اقدامات اٹھارہے ہیں کیونکہ اب ہم نے اپنے وسائل کے اندر رہ کر اخراجات کرنے ہیں ۔

    انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ ہمارا ترقیاتی بجٹ دوگنا ہوا ، وفاقی محصولات میں سے آزادکشمیر کاحصہ بڑھایا گیا پر بات کریں یا ایک لفظ ستائش کا کہہ دیں ،آئینی ترامیم سے آزادحکومت کے اختیار میں اضافہ ہوا ، دفاع ، خارجہ ،کرنسی مردم شماری، ایٹمی پروگرام ، پیمائش کے اوزان وغیرہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری میں دینا کیا جرم ہے ؟یا اسے یہ غداری سے گردانتے ہیں ۔

    انہوں نے کہاکہ آزادکشمیر کو صوبوں سے زیادہ اختیارات دیے گئے ۔ اب احتساب بیورو کے ملازمین کی تقرریاں بذریعہ پبلک سروس کمیشن ہونگی ، آزادکشمیر کی تاریخ میں پہلی بار پاک فوج کے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے ریٹائرڈ اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل شخص کو چیئرمین پبلک سروس کمیشن لگایا گیا جبکہ اس سے پہلے بریگیڈئیر اور میجر جنرل کے عہدوں سے ریٹائرڈ لوگ یہاں صدر کے عہدے تک فائز رہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد سات محکمہ جات کا اضافی بوجھ آزادکشمیر کے اوپر ڈال دیا گیا جبکہ اس کے حصے میں مزید کمی کر دی گئی۔

  • خالدابراہیم کیس کی سماعت کے دوران عدلیہ کےحق میں مظاہرہ

    مظفرآباد(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو):سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر کےاحاطہ میں سینئر وکیل اورسردارخالدابراہیم کےخلاف توہین عدالت کیس میں فریق راجہ امجد اور پیپلزپارٹی کے رہنما سابق مشیرحکومت مبشر اعجاز کی قیادت میں وکلاء سمیت سول سوسائٹی نےعدلیہ بچاؤ تحریک کے طورپرسپریم کورٹ کےحق میں مظاہرہ کیا۔

    آج جب ایک جانب عدالت عظمیٰ میں ممبرقانون سازاسمبلی اور جے کےپی پی کے صدرسردارخالد ابراہیم کےخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہورہی تھی تو دوسری جانب عدالت کے باہرمحدود تعداد میں موجود مظاہرین نےعدلیہ کےحق میں کتبے اٹھارکھےتھے جن پرتحریرتھاکہ ہم سپریم کورٹ کیساتھ ہیں اوروہ نعرہ بازی کر رہے تھے جبکہ مظاہرے کی قیادت نے عدلیہ کےحق میں اور سردار خالد ابراہیم کے خلاف خطاب بھی کیا تاہم سردارخالد ابراہیم یا انکا کوئی ساتھی عدالت کےاندریاباہرموجودنہ تھا۔

    یادرہےکہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آزادکشمیر جسٹس ابراہیم ضیاء کےہائی کورٹ میں نومنتخب ججزکی تعیناتی میں کردار کو جےکےپی پی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی سردار خالد ابراہیم نے اسمبلی سیشن کے دوران قابل اعتراض گردانا جس پر سپریم کورٹ نے ان سے وضاحت طلب کرنے کیلئے نوٹس بھیجا جس پرسردارخالد ابراہیم نے موقف اختیارکیا کہ اسمبلی میں کی گئی گفتگو پرعدالت طلب نہیں کر سکتی۔

    سردارخالدابراہیم اورججزکے درمیان تنازعہ اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب عدالت کیطرف سے نوٹسز آنے لگے اورخالدابراہیم پریس کانفرنسز کے ذریعے ان نوٹسز کاجواب دینے لگے۔

    اس سلسلے میں آج 3 جولائی کو سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کیلئے تاریخ دےرکھی جبکہ سردار خالد ابراہیم نےراولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران ایک مرتبہ پھر بذات خود یا وکیل کےذریعے عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیاتھا۔

    عدالت کےروبروپیش نہ ہونےکے حوالےسےسردار خالد ابراہیم کا موقف یہ سامنےآیاکہ میں ان ججز کےسامنےکیسےپیش ہوسکتاہوں جوبذات خودپارٹی ہیں اورمتنازع ہیں۔

    اس سلسلے میں گذشتہ سماعت کے موقع پر سردارخالدابراہیم کاخیال تھاکہ عدالت انہیں گرفتارکرنےکا فیصلہ کرسکتی ہےتو انہوں نے اس ضمن میں کہا تھاکہ وہ پندرہ ہزار تنخواہ لینے والےسپاہی کے ہاتھوں گرفتارہوناپسند کرینگے لیکن متنازعہ ججزکےسامنےپیش نہیں ہونگے۔

    عدالت میں پیش نہ ہونے پرگرفتاری کےحکم کیصورت موقع پر موجود رہنے کیلئے سردارخالدابراہیم عدالت کےسامنےپہنچے توانکے ساتھ سابق وزیراعظم سردارعتیق احمد خان اورجےکےپی پی کے کارکنان اور وکلاء بھی بڑی تعداد میں پہنچ گئے۔سماعت کے دوران بارکونسل کی ممبراورپیپلزپارٹی کی رہنمانبیلہ ایوب ایڈووکیٹ ازخود عدالت میں پیش ہوئیں اور سردارخالدابراہیم خان کیجانب سےوکالت نامہ جمع کرانےکیلئےوقت طلب کیا جس پر عدالت نےسماعت کیلئے3 جولائی مقررکی۔جب یہ بات سامنےآئی تو سپریم کورٹ کے سامنےموجود ہجوم جلسے کی شکل اختیارکرگیا جس سے سردار خالد ابراہیم اور سردارعتیق احمد نے خطاب کیا اورکہاکہ یہ ججز اس قابل نہیں کہ انکے سامنےپیش ہوا جائے۔

    ان حالات میں سابق مشیرحکومت راجہ مبشراعجازنےسردارخالد ابراہیم اورانکے ساتھیوں کے اقدامات کوعدلیہ پرحملہ قرار دیا اور عدلیہ کےحق میں عدلیہ بچاؤ تحریک کااعلان کرتےہوئے سول سوسائٹی۔وکلاء اورسیاسی کارکنوں سے استدعا کی کہ وہ آج سماعت کے موقع پرسپریم کورٹ کے باہرآئیں۔انکی استدعا پرسول سوسائٹی اوروکلاء احاطہ عدالت میں جمع ہوئےتومنظرنامہ یہ تھاکہ عدالت کےاندرسردارخالدابراہیم کے خلاف کیس کی سماعت ہورہی تھی اورعدالت کےباہرمظاہرین عدالت کے حق میں کتبے لیکر کھڑے تھے اور مظاہرےکی قیادت
    عدالت کے حق میں خطاب کررہی تھی۔

    اس حوالے سے جےکےپی پی کی مرکزی سینئرنائب صدرنبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ اورخواجہ سجاد ایڈووکیٹ نےتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سردارخالدابراہیم کا ججزکی تعیناتی پرقانون سازادارے میں اظہارخیال اور پھرعدالت کی جانب سےتوہین عدالت قراردیکرعدالت طلب کرنےپریہ موقف اختیارکرنا کہ متنازعہ ججز کےسامنےپیش نہیں ہوسکتا درست ہے جبکہ اسکے مقابلے میں عدلیہ بچاؤ تحریک میں مخصوص وکلاء اورسول سوسائٹی کےکچھ لوگ شامل ہوئے جسکے باعث ججز مزید متنازعہ ہوئےہیں۔ریاستی عوام اوروکلاء نے عدلیہ بچاؤ تحریک کا حصہ نہ بنکر عدلیہ کے خلاف اور سردار خالدابراہیم کے موقف کے حق میں فیصلہ دیدیاہے۔

  • آئینی ترامیم کوئی واپس نہیں لے سکتا وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان

    مظفرآباد:(ورڈ فاسٹ نیوز فار یو) وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ایکٹ 74میں ترامیم سے متعلق کچھ خاص عناصر ابہام پیدا کرنا چاہتے ہیں اور بلا جواز پراپیگنڈا کررہے ہیں تیرویں آئینی ترامیم کے تحت کونسل کے مالیاتی ،انتظامی ،قانون سازی کے

    اختیارات مکمل طورپر ختم کر دیے گئے ہیں ، تیرہویں آئینی ترامیم کی منظوری میں تمام سٹیک ہولڈرز بشمول وفاقی کابینہ ، نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی رضا مندی شامل ہے ان ترامیم کو کوئی واپس نہیں لے سکتا ، آئینی ترامیم کی متعلق ابہام کونسل کے چند ملازمین اور اس سے مستفید کنندگان پیدا کر رہے ہیں جن کے ذاتی مفادات ختم ہو گئے ہیں تیرویں ترمیم کو کوئی واپس کرنے کا نہ سوچے نہ ایسا ہونے دینگے اور نہ ایسا کرنے کی کسی میں جرات ہے ۔کشمیر کونسل کا دس سال کا فرانزک آڈٹ کروائیں گے ۔آئینی ترامیم کے ذریعے اسلام آباد اور مظفرآباد کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ مزید مظبوط ہو گا اور اب اسے آئینی شکل دی گئی ہے ۔آئین میں دو تہائی اکثریت سے اب ترمیم ہو سکے گی اب تمام ٹیکسز وصول کرنے کا اختیار حکومت آزادکشمیر کے پاس ہے تیرویں آئینی ترمیم کو رکوانے کے لیے آخری وقت تک سازشیں جاری رہیں لیکن اللہ کی حمایت و نصرت سے یہ بڑا کام کرنے میں کامیاب رہے ترمیم حتمی نہیں ان میں اگر کوئی گنجائش رہ گئی ہے تو اسے مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے پاکستان میں اٹھارویں ترمیم کے بعد سے لیکر اب تک کتنی ترامیم آچکی ہیں ۔ترمیم کے تحت اب آزادکشمیر میں ایکٹ نہیں آئین ہے آزادکشمیر کے عوام کو بااختیار بنایا جارہا ہے راجہ محمد فاروق حیدر خان وزیراعظم سیکرٹریٹ میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل فرحت علی میر ،سیکرٹری قانون ارشاد قریشی ،ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ اظہر اقبال بھی موجود تھے ۔پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ کشمیر کونسل کا خاتمہ وزیراعظم پاکستان کا فیصلہ تھا اگرچے خواہش ہماری بھی تھی مگر ہم نے اپنی تجاویز میں اس کا ذکر نہیں کیا تھا وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ کونسل کا کام کیا ہے یہ کرتی کیا ہے ؟آئینی ترامیم میں خصوصی تعاون کرنے پر محمد نوازشریف اور بالخصوص شاہد خاقان عباسی کے شکرگزار ہیں ۔جب اختیارات کی تقسیم یا منتقلی ہوتی ہے تو کچھ پیچیدگیاں بھی ہوتی ہیں ہماری کوشش ہے کہ آئینی ترامیم کے بعد کے معاملات خوش اسلوبی سے طے ہوں آئینی ترمیم ے بعد ایک خاص گروہ جان بوجھ کر پیچیدگیاں پیدا کررہا ہے اور غلط پروپیگنڈے میں مصروف ہے کشمیر کونسل کی طرف سے سابق وفاقی حکومت کے آخری دنوں میں ایسی قانون سازی کی کوشش کی گئی جس کی مثال نہیں ملتی کونسل ملازمین یہ چاہتے تھے کہ ایسا قانون پاس کروایا جاے کہ وہ احتساب بیورو کے سامنے جوابدہ نہ ہوں اور جو غیر قانونی تقرریاں ہوں انہیں تحفظ دیا جاے ۔سٹیٹ سبجیکٹ ہولڈرز کو ایک وقت میں کونسل ملازمت پر پابندی لگائی گئی ۔قانون سازی کی کوشش کو وزیراعظم پاکستان نے مسترد کر دیا آزادکشمیر اسمبلی کے ووٹوں سے منتخب ممبران اسمبلی نے ایک خط لکھا جو مختلف جگہوں پر پہنچایااس کی جتنی مذمت کی جاے کم ہے ۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ مخالفین کی طرف سے عجب تماشہ شروع کیا گیا ہے کہ ایک طرف کہتے ہیں کہ ریاست کو خود مختار بنا دیا گیا ہے اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ سب کچھ دیکر آگے ہیں انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم ے معاملے پر کونسل کے بعض لوگوں نے سازشیں کیں اور اخری دنوں میں کونسل کے دفتر میں جش فتح منانے کی تیاریاں کی گئیں تھیں لیکشن رب کریم کے خصوصی کرم نے انہونی کو ہونی میں بدلا اور شاہد خاقان عباسی نے بھرپور تعاون کیا پیسے کی طاقت سے آئینی ترامیم کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تمام سازشیں ناکام ہوئیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ نظریاتی تعلق ہے آزادکشمیر کے مالیاتی و انتظامی اختیارات میں اضافہ ہوا ہے یہ خود مختار ملک نہیں کچھ لوگ ذاتی عناد میں مخالفت کرتے ہوے قومی مفاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ کارپوریشن ٹیکس کے متعلق منفی اور جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا یہ ٹیکس دوسری مد میں تبدیل ہو چکا ہے آئین میں واضح طورپر لکھا ہے کہ ٹیکس وصولی کا اختیار کلی طورپر آزادکشمیر حکومت کا ہے ۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے آزادکشمیر کے اختیارات کم کیے ایکٹ چوہتر جس انداز سے اندھیرے میں پاس ہوا اس سے سب آگاہ ہیں اس وقت ممبران اسمبلی کو یہ ایکٹ پڑھنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر کو تبدیلی قلب کی ضرورت ہے کشمیر کونسل ایسا ادارہ ہے جو کشمیر کے لیے قائم ہوا اور اس ادارے نے قانون پاس کیا کہ کشمیر کا سٹیٹ سبجیکٹ رکھنے والا فرد اس ادارے میں ملازمت حاصل نہیں کر سکتا کونسل سیکرٹریٹ کے دو سو نوے ملازمین میں سے صرف پچیس آزادکشمیر سے ہیں جبکہ باقی محکمہ جات جن میں حسابات ،ان لینڈ ریونیو کے محکمہ جات اس کے علاوہ ہیں ۔ٹیکس کااختیار آزادکشمیر حکومت کو ملنے کے بعد ہم چھ سے اٹھ ارب روپے کے اضافی ٹیکس جمع کر سکتے ہیں بہت جلد آزادکشمیر کے ٹیکس دہندگان کو پاکستان کے برابر ٹیکس کی سہولیات ملیں گی ۔اس سلسلہ میں چیف سیکرٹری آزادکشمیر کی ایف بی آر سے میٹنگ ہو چکی ہے ۔آزادکشمیر کے مالیاتی اختیارات میں اضافہ ہوا ہے لیگی حکومت نے وفاقی محصولات میں آزادکشمیر کا حصہ دو عشاریہ چار فیصد سے بڑھا کر تین عشاریہ چھ فیصد تک کر دیا ہے ٹیکسز کی شرح میں اضافے سے اب ہمیں سالانہ 49 ارب روپے ملیں گے اب گرانٹ نہیں لیں گے اپنی چادر دیکھ کر پاوں پھیلائیں گے اب حکومت آزادکشمیر کو نائب قاصد سے لیکر گزیٹیڈ تک آسامیوں کی تخلیق کے لیے وفاقی وزارت خزانہ کے ڈپٹی سیکرٹری کی اجازت نہیں لینا پڑیگی آزادکشمیر کا ہر باشعور آدمی تیرویں آئینی ترمیم کے حق میں ہے تاہم کچھ لوگوں کو تکلیف بھی ہے وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ تیرویں آینی ترمیم کی منظوری کے وقت صورتحال آئیڈیل نہیں تھی اس حوالے سے کچھ راز میرے سینے میں ہیں اور دفن ہی رہینگے ۔کونسل کے ملازمین اور اب آزادحکومت کے ملازمین ہیں اور میں نے ان ملازمین کوتیس جو ن تک تنخواہوں کی ادائیگی کی منظوری دی ہے ۔ ٹیکس آن کارپوریشن پہلے اکانٹ نمبر 105میں جمع ہوتا تھا ۔اب آزادکشمیر حکومت کے سرکاری اکانٹ نمبر 101میں جمع ہو گا، ترامیم پر تنقید کرنے والوں سے چوہدری ریاض اور رضوان قریشی کی چاپلوسی کے سوا کچھ نہیں ہو سکا ، ہم کسی کے بلاتنخواہ سپاہی نہیں ہیں ، تنحواہیں بھی لیں گے، تنخواہ میں اضافہ اور پینشن بھی لیں گے۔ کونسل کے حامی بتائیں کہ وہ آزادکشمیر کے شہریوں کے لیے دہر ا ٹیکس کیوں ختم نہ کرا سکے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم راجہ محمدفاروق حیدر خان نے آزادکشمیر میں آئینی ارتقا پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور ایکٹ1968،ایکٹ 1970اور عبوری آئین 1974ایکٹ کے تحت آزادکشمیر کو حاصل مالیاتی ، انتظامی اختیارات بیان کیے ا ۔ انہوں نے کہا کہ ایکٹ 1970کو تبدیل کرانے اورکرنے میں پیپلز پارٹی شامل ہے جس کے نتیجہ میں تمام مالیاتی و انتظامی اختیارات کشمیر کونسل کو مل گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 1970میں پہلی بار جنرل یحی خان نے آزادکشمیر کی عوام کو ایکٹ کے ذریعے وون میں ون ووٹ کے ذریعہ حق حکمرانی دیا ۔1970میں ہی ایک اتحاد ثلاثہ بنا جس میں مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان ، غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان ، خورشید حسن خورشید شامل تھے۔ون مین ون ووٹ کے فارمولا کے تحت انتخابات ہوئے اور جنرل رحمن صدر منتخب ہوئے ۔ آزادکشمیر کے سرکاری ملازمین کو پاکستان میں سرکاری ملازمین کے برابر مراعات دی گئیں ۔ سول سٹرکچر کو حکومت پاکستان کیبرابر کیا گیا اور آج ہم آزادکشمیر کو اس سطح پر لے آئے ہیں کہ ہم گریڈ 22بھی دے سکتے ہیں۔ عبوری ایکٹ 74میں کشمیر کونسل کی شکل میں ایک مصیبت نازل کی گئی جس کی ذمہ دار پیپلزپارٹی تھی مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ نے ایکٹ 74 کو مسترد کر دیا تھا بعد ازاں دبا کے نتیجہ میں براہ راست پاس ہوا۔منظوری سے قبل یہ کسی سلیکٹ کمیٹی کے پاس نہیں گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج بہت ۔۔۔۔قسم کے لوگ سیاست میں آ گئے ہیں ۔ہمارے سیاستدانوں نے کمزوری دکھائی ،آزادکشمیر کے اختیارات کم کرانے میں ہمارے اپنے لوگوں کا بھی کردار تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو بحیثیت وزیراعظم پاکستان کشمیر کونسل کے چیئرمین بنے اور کونسل نے بہت ہی نتوڑ کرنا شروع کر دیے جس سے آزادکشمیر حکومت بے دست و پا ہونا شروع ہو گئی۔ موجودہ تیرہویں آئینی ترامیم کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دسمبر 2016میں سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف آزادکشمیر تشریف لائے تو مین نے انہیں کونسل کے متعلق بریفنگ وزیر اعظم نے میری گفتگو سنی تو انہوں نے کہا کہ میں 120%آپ کی بات سے اتفاق کر تا ہوں ان کو جب میں نے پانی ،بجلی اور ٹیرف وغیرہ کے متعلق بتایا کہ کے پی کے میں واٹر رویو چارجز ایک روپیہ دس پیسہ ہیں جبکہ ہمیں صرف دس پیسہ یونٹ دیے جار ہے ہیں انہوں نے کہا کہ آپ نے مجھ سے اسلام آباد میں بات کرنی ہے بعد ازاں یہ اجلاس نہ ہو سکا۔ مگر جاتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ آپس سے پہلے تو یہاں بڑے بڑے لیڈر آئے انہوں نے یہ باتیں کیوں نہ کیں ؟راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے ساتھ ان موضوعات پر بات چیت کے بعد ہی آئینی اصلاحات پر عملی طور پر کام شروع ہوااور 18سال بعد 7جون کو پاورپرچیز ایگر یمنٹ پرپیش رفت ہوئی ہے یہاں بڑے بڑے سیاسی لیڈر گزرے ہیں مگر ان کو ان قومی ایشوز پر بات کرنے کی توفیق حاصل نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ

  • مظفرآباد میں بدھ منگل کے روز مردہ جانوروں کے گوشت فروخت کا انکشاف

    مظفرآباد(ورڈ فاسٹ نیوز فار یو)  دارالحکومت مظفرآباد میں بدھ منگل کے روز مردہ جانوروں کے گوشت فروخت کا انکشاف ! قصاب ضلعی انتظامیہ سے شادی بیاہ اور ختم کے نام پر اجازت نامہ لے کر آنکھوں میں دھول جھونکنے لگے ، شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا ، چیک ان بیلنس کا کوئی نظام نہیں ۔۔پنجاب میں ٹیسٹ سمپل بھیجنے کے دفتروں میں چھوڑ دیے جاتے ہیں ۔اہلیان ِ مظفرآباد کا مطالبہ میونسپل کارپوریشن سمیت دیگر ادارے نوٹس لیں ، منگل اور بدھ کو گوشت فروخت کرنے پر پابندی عائد کریں ۔تفصیلات کے مطابق آزادکشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد کے مختلف علاقوں میں قائم دکانوں میں چند قصاب ضلعی انتظامیہ سے اجازت لے لیتے ہیں جس میں فلاح جگہ شادی کے تقریب یا پھر کسی قرآن خوانی کیلئے ، ضلعی انتظامیہ بھی بغیر دیکھے اجازت دے دیتے ہیں حالانکہ شادی بیاہ کی تقریب زیادہ تر ہفتہ ، اتوار یا جمعہ المبارک کو ہوتی ہے ، قرآن خوانی یا دیگر دعا ئیں بھی جمعہ اور جمعارت کو ہوتی ہیں مگر مردہ جانوروں کو فروخت کرنے والے قصاب ضلعی انتظامیہ کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت سے اجازت کے مردہ جانوروں کے گوشت فروخت کیا جاتا ہے جس سے مختلف بیماریوں کے باعث سینکڑوں افراد شہر اور دیہاتوں کے ہسپتال میں علاج کروارہے ہیں ،کوئی پراسہاں حل نہیں ، میونسپل کارپوریشن نے کوئی چیک کرنے والی ٹیم بھی نہیں بھیجی جس پر عوام نے ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہر کے مختلف علاقوں میں مردہ جانوروں کے گوشت پر پابندی عائد کریں ۔

  • بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی وزیر اعلی نے عہدے سے استعفی دید

    بھارت (ورڈ فاسٹ نیوز فار یو) کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اتحادی حکومت سے علیحدگی کے اعلان کے بعد کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنا استعفیٰ گورنر کو بھجوادیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کشمیر میں حکمراں

    جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ( پی ڈی پی) سے اختلافات کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہونے کا اعلان کردیا جس کے بعد ایوان میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنا استعفیٰ گورنر کو بھجوا دیا ہے۔ جس کے بعد کشمیر اسمبلی کے تحلیل ہونے اور وادی میں گورنر راج کے نافذ ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ محبوبہ مفتی کے مستعفی ہونے سے قبل بی جے پی کا اجلاس ہوا جس میں مرکزی پارٹی رہنماؤں کے علاوہ کشمیر کی اتحادی حکومت میں شامل بی جے پی کے وزراء اور سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پارٹی نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے اتحاد کو ختم کرنے اور اتحادی حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ کشمیر میں اتحادی حکومت میں شامل جماعتوں کے درمیان دوری رمضان میں کی گئی فائر بندی کے خاتمے پر پیدا ہوئیں۔ کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی نے جنگ بندی جاری رکھنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن بی جے پی نے ہندوستانی فوج کو علیحدگی پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا تھا۔

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی ایک اور کشمیری نوجوان کوشہید کردیا

    سرینگر (ورڈ فاسٹ نیوز فار یو) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران گزشتہ روز( منگل) کو ضلع پلوامہ میں ایک اورکشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق نوجوان کو ضلع میں ترال کے علاقے نازنین پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیاگیا۔اس سے پہلے اسی علاقے میں ایک حملے میں ایک سی آر ایف آفیسر اور ایک بھارتی فوجی زخمی ہوگیاتھا۔آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں فوجی آپریشن جاری تھا۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ فوجیوں نے نوجوانوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور ان کو شدید زدکوب کیا۔ علاقے میں ایک مکان کو بھی فوجیوں نے بارود سے تباہ کیا ہے۔ دریں اثنا نوجوان کی ہلاکت پر لوگوں اور فورسزکے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

  • جنگ بندی میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی ،ْراج ناتھ سنگھ کی مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوجیوں کو کارروائیوں کی ہدایت

    نئی دہلی(ورڈ فاسٹ نیوز فار یو) بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کردیا۔۔بھارتی حکومت نے رمضان المبارک اور عید کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ذریعے بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مقبوضہ وادی میں رمضان المبارک میں نام نہاد جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا۔راج ناتھ سنگھ نے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوجیوں کو کارروائیوں کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ جنگ بندی میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی۔

  • آزاد کشمیر ڈیزل و پڑولیم کی قیمتوں میں حالیہ بے تحاشا اضافے پر شدید ردعمل

    راولاکوٹ ,آزاد کشمیر (ورڈ فاسٹ نیوز فار یو) آ ل ٹرانسپورٹ ورکرز یونین متحدہ محاذ آزاد کشمیر نے ڈیزل و پڑولیم کی قیمتوں میں حالیہ بے تحاشا اضافے پر شدید ردعمل کا اظہا ر کرتے ہوئے پاکستان کی نگران حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کیا گیا اضافہ فوری طور پر واپس لے آل ٹرانسپورٹ ورکرز یونین کے مرکزی صدر سردار محمد سجاد خان ،سپریم ہیڈ سردار محمد ارشد خان، چیئرمین حاجی افتخار خان ،سر پرست اعلی حاجی طاہر صدیق، جنرل سیکرٹری راجہ صدیق خان، سنیئر نائب صدر چوہدری ایوب، نصیر مغل، سردار خورشید خان، راجہ جمیل خان، سردار امجد یاسین، سردار اظہر خان، سردار نسیم اقبال، خان ارشاد خان، سردار اویس ارشد،

    ،سردا رزبیر ایوب ،سردار لالہ نواز خان، سردار جمیل خان، محمد پرویز خان،، ملک بشیر خان نے ٹرانسپورٹ ورکروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی ڈیزل و پٹرول پر بے تحاشا ٹیکس وصول کر رہی ہے اور نگران حکومت نے آتے ہی ٹرانسپورٹروں اور عوام پر پٹرول بم گرا لیا ہے جو ٹرانسپورٹروں کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں ہے اگر نگران حکومت نے کیا گیا حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس نہ لیا تو آزاد کشمیر کے ٹرانسپورٹرز اس اضافے کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گئے اور کسی بھی راست اقدام سے گریز نہیں کریں گئے حالات کی سنگینی کی ذمہ داری ٹرانسپوٹروں پر نہیں ہو گی

  • بھارت نے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر جو ریاستی دہشتگردی شروع کررکھی ہے

    مظفرآباد( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو )  مسلم کانفرنس کے مرکزی رہنما وممبر جموںوکشمیر کونسل سردارمختیارعباسی نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر خطہ میں پائیدارامن کا قیام ممکن نہیں، بھارت نے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر جو ریاستی دہشتگردی شروع کررکھی ہے اس کی تاریخ انسانی میں مثال ملنا مشکل ہے، پوری وادی کو فوجی چھائونی میں بدل کر لاکھوں کشمیریوںک و یرغمال بنالیاگیاہے اور ان پر عرصہ حیات تنگ کرکے انسانیت سوزمظالم ڈھائے جارہے ہیں۔اقوام عالم کو بھارت کے سفاکانہ اقدامات کا نوٹس لینا ہوگا،اپنے ایک بیان میںسردارمختیارعباسی نے کہاکہ بھارت ایک طرف جمہوریت کا راگ الاپتاہے تو دوسری جانب کشمیرمیں سوادوکروڑ عوام کو ان کا پیدائیشی حق ‘حق ِخودارادیت دینے سے انکاری ہے۔انہوںنے کہاکہ پوری دنیامیں بھارت کے کشمیرمیں مظالم کی مثال نہیں ملتی، انہوںنے کہاکہ اقوام متحدہ سمیت مہذب دنیا کو بھارتی جبر کا نوتس لینا چاہئے اور کشمیری عوام کو ان کا حق آزادی دلانے کیلئے اپنا ذمہ دارانہ کرداراداکرنا چاہئے اور دوہرا معیار ترک کرنا چاہئے۔

  • بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں 3 نوجوانوں کو شہید کر دیا

    سرینگر ۔( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران بدھ کو ضلع کپواڑہ میں تین نوجوانوں کو شہید کردیا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے

    ان نوجوانوں کو ضلع کے علاقے مژھل میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔ آخری اطلاعات تک علاقے میں آپریشن جاری تھا۔

  • کشمیر کونسل سے اختیارات کی آزاد حکومت کو منتقلی بلاشبہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کا عظیم کارنامہ ہے

    ہاڑی گہل( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) کشمیر کونسل سے اختیارات کی آزاد حکومت کو منتقلی بلاشبہ قائد کشمیر وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کا عظیم کارنامہ ہے، انہوں نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے جو وعدے کئے تھے وہ ان پر پورا اتر رہے ہیں، قائد پاکستان میاں محمد نواز شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے کشمیر کونسل کے اختیارات کی منتقلی میں راجہ فاروق حیدر خان کا ساتھ دیا ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کے سینئر راہنما راجہ محمد طیب ایڈووکیٹ نے یہاں صحافیوں سے

    گفتگو کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر حکومت کی خود مختاری کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں انہوں نے کہا راجہ فاروق حیدر خان نے اپنے وعدے کے مطابق کشمیر کونسل سے اختیارات آزادکشمیر حکومت کو منتقل کرکے عظیم قائد ہونے کا ثبوت دیا ہے انہوں نے کہا کہ آزاد حکومت اب خود مختار ہو گئی ہے اور محصولات کی مد میں ایک کثیر آمدنی حکومت کو ملے گی اور لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوگا

  • آزاد کشمیر ڈڈیال انڈسٹری ایریا کو تمام بنیادی سہولیا ت فراہم کرینگے،راجہ محمد اعجاز

    ڈڈیال( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) مسلم لیگ ن آزاد کشمیرکے راہنماء و نائب صدر آزاد کشمیر چیمبر آف کامرس راجہ محمد اعجاز دلاور خان نے کہا ہے کہ ڈڈیال انڈسٹری ایریا کو تمام بنیادی سہولیا ت فراہم کرینگے،ملکی معیشت کی مضبوطی اور ترقی کے لیے تارکین وطن سرمایہ کاری کریں، ڈڈیال کے عوام کو کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گئے،ڈڈیال کے عوام ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں ،عوام علاقہ نے ہمیشہ پاکستان کے دفاع و استحکام کے لیے قربانی دی ہے، ڈڈیال کی تعمیر و ترقی میں تارکین وطن کا کردار قابل تحسین ہے ، بریگیڈ ئر( ر) راجہ دلاور مرحوم کے مشن کو جاری رکھیں گئے

    ،ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے گذشتہ روز ڈڈیال کے دورہ کے دوران ایک وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا ،راجہ اعجاز دلاور خان نے کہا کہ ڈڈیال سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد برطانیہ میں مقیم ہے،تارکین وطن ڈڈیال میں بھی سرمایہ کاری کریں اُنکو انڈسٹری ایریا میں تمام بنیادی سہولیات فراہم کرینگے ،راجہ اعجاز دلاور خان نے کہا کہ ڈڈیال بریگیڈئر(ر) راجہ دلاور خان کا علاقہ ہے اس کی تعمیر و ترقی اور بنیادی سہولیات کے لیے کوئی فروگزاشت نہیں کرینگے۔