چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

آزاد کشمیر کے آئین میں ترامیم ضروری ہے وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر
تاریخ :   29-04-2018

باغ (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر نے کہا ہے عدالت العالیہ اور عظمی کا مکمل احترام کرتے ہیں اور ان کے فیصلوں پر ہمیشہ عملدرآمد کیا ،نظام انصاف کے اخراجات ریاست برداشت کرتی ہے اور اسے بروقت انصاف کی فراہمی سے تقویت ملتی ہے ، ملک معاشروں کی قوت پر قائم رہتے ہیں اگر معاشرتی قوت کمزور ہو جاے تو پھران کے لیے مشکل ہو جاتا ہے ،میٹرک پاس اساتذہ جدید ترین نصاب نہیں پڑھا سکتے اس لیے انہیں ریٹائرڈ کیا اب اس حوالے سے جو قانونی پیچیدگیاں ہیں جن کے باعث حکم امتناعی آیا انہیں دور کرینگے،ماضی میں بڑے بڑے لوگ برسراقتدار رہے مگر ان میں سے کسی نے بھی اہم ترین ریاستی مسائل کے حل کی جانب پیش رفت نہیں کی میں نے اس لیے ان پر آواز اٹھائی کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس سے کشمیریوں اور پاکستان کے درمیان رشتہ مزید مظبوط اور حقیقی بنیادوں پر استوار ہوگا عام آدمی کی انصاف تک رسائی کے لیے حکومت تمام ترضروری اقدامات اور مزید وسائل فراہم کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریگی ،عدالتی اصلاحات چیف جسٹس نے کرنی ہیں ہم بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہیں ۔ہم نے ہائیکورٹ میں ججز کی آسامیوں میں اضافہ کیا،شریعہ اپیلٹ بینج ،ضلعی سطح پر فیملی کورٹس کا قیام عمل میں لایا، محمد نواز شریف سابق وزیراعظم کی خصوصی دلچسپی پر وزیراعظم پاکستان ،وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے شکر گزار ہیں جنہوں نے آئندہ مالی سال کے لیے آزادکشمیر کیلیے تاریخ سازساڑھے 25 ارب روپے ترقیاتی بجٹ مختص کیا ،وکلاء معاشرے کا اہم طبقہ اور نظام عدل میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں قانون سازی میں ان کے ساتھ مشاورت یقینی بنائی جائیگی ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن باغ کی نومنتخب باڈی کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ آزادکشمیر اسمبلی کو اختیارات کی واپسی سے محرومیوں کا خاتمہ ہوگا ،ہم ریاست کو خودکفالت کی منزل کی جانب لیجانا چاہتے ہیں اپنی آمدنی میں اضافہ کررہے ہیں ،سیاحت کے فروغ سے روزگار میں اضافہ ہو گا۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے آزادکشمیر کی تعمیرو ترقی کے لیے ریکارڈ ترقیاتی فنڈز فراہم کیے اس سال پورے پاکستان میں سے ترقیاتی اخراجات میں آزادکشمیر پہلے نمبر پر رہا جس پر ہمارے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کیا گیا ،شاندار کارکردگری پر وزراء ،بیورکریسی سرکاری ملازمین کو مبارکبادپیش کرتا ہوں آزادکشمیر کے لوگ پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستانی ہیں ہمیں موقع پر ملا تو ڈیڑھ کروڑ کے بجاے بائیس کروڑ پر حکمرانی کرینگے تر بنچ اور بار لازم و ملزوم ہیں ،وکلاء عوام کو جلد اور سستے انصاف کی فراہمی کے لیے کردار ادا کریں ، حکومت وکلاء کے مسائل حل کریگی ، آزاد کشمیر میں حکومت نے جو تین ترجیحات کا تعین کیا تھا ،ان پر پوری طرح عمل پیرہ ہے ،تحریک آزادی کشمیر تعمیر و ترقی اور گڈ گورننس کا قیام شامل تھا ، باغ،سدھنوتی،بھمبر میں سرکٹ بنچ کے قیام کے مطالبات پر مشورہ کرینگے مرکزیت کی بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ اس وقت ہندوستان پر پانچ فیصد برہمن سامراج کی حکومت ہے ایک عام ہندوستانی خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو سے ہمیں کوئی اختلاف نہیں نہ ہی اس سے ہمارا کوئی جھگڑا ہے ہم تصادم نہیں چاہتے مگر جب ہماری چھوٹی بچیوں کے ساتھ زیادتیاں کی جائین اور جینا اجیرن کیا جاے تو پھر اس کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے ۔مقبوضہ کشمیر کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے ان حالات میں تمام مکاتب فکرکی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کو دنیا بھر کے سامنے بے نقاب کریں ۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اور عدلیہ میں تصادم کسی صورت نہیں ہونا چاہیے یہ ادارے ریاست کے ادارے ہیں اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد ایگزیکٹو نے ہی کرنا ہوتا ہے ان دونوں کے درمیان آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق معاملات کو چلانا ہوتاہے تصادم یا پھر ملی بھگت دونوں ہی نقصان دہ ہیں راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ آزادکشمیر کے آئین میں ترامیم ضرور ہونگی ،معاملے پر دلچپسی لینے پر وزیراعظم پاکستان کے شکرگزار ہیں کچھ لوگوں کا کردار اس معاملے میں انتہائی بھیانک رہا ہے تاریخ یہ فیصلہ کریگی کہ کو ن کہا ں کھڑا تھا ہندوستان آزادکشمیر کے اندر نظریاتی تخریب کاری کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن وہ برے طریقے سے ناکام ہوگا اور ہوا ہے آزادکشمیر کے حکومت پاکستان سے متعلقہ معاملات پر پیش رفت اس لیے بھی ضروری ہے کہ مخالفین کو پروپیگنڈے کے لیے کوئی موقع نہ مل سکے وہ وقت گزر گیا چند ایک لوگ اپنے آپ کو ہر جگہ کیش کرواتے تھے ماضی میں بڑے بڑے لوگ برسراقتدار رہے مگر ان میں سے کسی نے بھی دیرینہ مسائل کے حل کی جانب پیش رفت نہیں کی میں نے اس لیے ان پر آواز اٹھائی کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس سے کشمیریوں اور پاکستان کے درمیان رشتہ مزید مظبوط اور حقیقی بنیادوں پر استوار ہوگادریں اثناء وزیر اعظم فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ختم نبوت کے لیے دس حکومتیں قربان کر سکتا ہوں ،یہ ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے ،ختم نبوت پر جسے یقین نہیں وہ مسلمان نہیں ، قرار داد ختم نبوت جب پیش ہوئی تو اس وقت بھی لوگوں نے اعتراضات اٹھائے تھے اور قرارداد پیش ہونے والے دن اسمبلی میں نہیں آئے ، اسی قرار داد کے بعد سردار عبد القیوم خان کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا اور سپیکر اور ایم ایل اے کو غائب کر دیا گیا ،مجھ پر قرار داد ختم نبوت کو قانونی شکل دینے میں دباؤ نہیں تھا بلکہ میرا یہ مذہبی فریضہ تھا جو میں نے پورا کیا ، اس وقت بھی جب ہم اسے قانونی شکل دے رہے تھے ،پاکستان کی مظبوطی اور استحکام کے لیے سیاسی مفادات کو بالاے طاق رکھنا ہوگا ،سی پی کی بدولت پاکستان خطے میں مرکزی اہمیت حاصل کر لے گا ،پاکستان نے ہر جگہ مظلوم کی حمایت میں بات کی ،پاکستان کشمیریوں کے دلوں میں بستا ہے اہل پاکستان ہوش کے ناخن لیں ،پاکستان مظبوط ہوگا تو ہندوستان کا مسلمان محفوظ ہوگا ،پاکستان کے خراب حالات کا فائدہ اٹھا کر ہندوستان کشمیر میں قتل عام کررہا ہے اس وقت بھی پاکستان کیخلاف سازشیں جاری ہیں ،علماء کرام یکجہتی ، اتحاد و اتفاق کیلئے متحدد ہو کر اپنا کردار ادا کریں ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،کانفرنس کی صدارت کرنل ریٹائرڈ عبد القیوم خان نے کیا جبکہ جلسہ سے وزیر جنگلات سردار میر اکبر خان ،وزیر تعمیرات چوہدری محمد عزیز ، ممبر قانون ساز اسمبلی عبد الرشید ترابی ، عبد الرشید چغتائی ، عبد الوحید قاسمی ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ پاکستان کے علاوہ ہماری آواز کو دنیا بھر میں کسی نے نہیں اٹھا یا آٹھ سال کی بچی کی عزت بھی مقبوضہ کشمیر میں محفوظ نہیں ،کشمیریوں کے اوپر جو مظالم کیے جارہے ہیں ان کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی علماء کرائم مذہبی رواداری قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ہم سب ایک ہیں اور ایک رہینگے ۔مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی قربانیاں نئی تاریخ رقم کررہی ہیں یہ ہم سے تقاضا کرتی ہیں کہ سیاسی تفریق کو مٹائیں اور ایک ہو کر ان کی آواز اٹھائیں

Print Friendly, PDF & Email
کوٹلی ڈسڑکٹ ہسپتال ایمرجنسی وارڈ کے مریض رولنے لگے سرکاری ڈاکٹر دن دیہاڑے پرائیویٹ کلینک چلارہے
سعودی عرب کے شہر جدہ کی تجارتی مارکیٹ میں آگ لگ گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »