پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

آزادکشمیر عدم اعتماد آئے گی یا وزیر اعظم اسمبلی توڑیں گے۔
تاریخ :   08-04-2018

 آزادکشمیر( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) میں وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کےخلاف تحریک عدم اعتماد یا وزیراعظم کی جانب سے اسمبلی توڑنےکےخدشےکے باعث غیریقینی سیاسی صورتحال پیدا ہوگئی.

آزادکشمیر میں اس وقت حکومتی صورتحال ایسی ہے کہ ایک طرف ایوان میں بیٹھے بعض حکومتی جماعت کے ممبران اسمبلی اور اپوزیشن اراکین دیگر قوتوں کے ساتھ ملکر وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان سے اقتدار چھیننا چاہتے ہیں تو دوسری طرف کابینہ میں بیٹھے چند کاریگر وزراء بھی اس انتظار میں ہیں کہ گرین سگنل ملے تووہ کایا پلٹ دیں۔

اس سلسلے میں جہاں اراکین اسمبلی کی چھپ چھپا کر ملاقاتیں جاری ہیں وہاں وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے بھی گذشتہ دنوں ان سازشی عناصر کو پیغام دیاکہ وہ جانتے ہیں کہ پارٹی کے 9 ممبران اسمبلی ان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور اگر ایسی کوئی چال چلنے کی کوشش کی گئی تو وہ اسمبلی بھی توڑ سکتے ہیں۔

بتایاجاتاہےکہ وزیراعظم کا اشارہ وزیرحکومت چوہدری عزیزاورانکے ساتھ گجرخاندان کے ممبران اسمبلی کے گروپ کی جانب تھا جنکے بارے میں مختلف ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ راجہ فاروق حیدرکو وزارت عظمیٰ سے ہٹاکرخود وزیر اعظم بننےکےخواہشمند ہیں۔

اس صورتحال میں تحریک عدم اعتماد کی سرگرمیوں سے آگاہ رہنے کیلئے راجہ فاروق حیدر نے اپنا سیاسی انٹیلیجنس نیٹ ورک بھی متحرک کر رکھا ہے جو انہیں مخالف گروپ کی ملاقاتوں کی اطلاع لمحہ بہ لمحہ دیتا ہے۔

آزادکشمیر کے اندر اور باہر جہاں بھی کشمیری موجود ہیں اس وقت اس موضوع پربحث کررہےہیں کہ عدم اعتماد آئے گی یا وزیر اعظم اسمبلی توڑیں گے۔

تحریک عدم اعتماد سے مراد وہ ووٹ یا وہ بیان ہوتا ہے جو کسی سرکاری یا تنظیمی عہدیدار کے خلاف اس کے ممبران کی طرف سے دیا جاتا ہے کہ یہ عہدیدار مزید اس عہدے کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہے۔ عدم اعتماد کا استعمال اکثر اس وقت ہوتا ہے جب کوئی سرکاری یا تنظیمی عہدیدار کوئی ایسا قدم اٹھائے جو آئین و قانون اور ضابطہ اخلاق کے خلاف ہو۔

سرکاری طور پر تحریک عدم اعتماد یا عدم اعتماد بل اس وقت پارلیمان میں لایا جاتا ہے جب حکومتی عہدیدار کوئی ایسا قدم اٹھائے جو آئین و قانون کیخلاف ہو یا ایسا اقدام جس سے ملک یا ریاست کی بدنامی اور نقصان ہو۔ پارلیمان میں اکثرعدم اعتماد کا بل زیادہ تر حزب اختلاف کی جانب سے پیش کیا جاتا ہے یا کبھی کبھار حکومت کے ممبران بھی یہ بل پیش کر دیتے ہیں۔

تحریک عدم اعتماد پرسپیکر کی طرف سے بلائے گئے اجلاس میں ممبران اسمبلی اپنا ووٹ دیتے ہیں۔ اگروزیر اعظم، سینٹ چیئرمین، وزیر اعلیٰ ، سپیکر اسمبلی کو برطرف کرنا ہو تو ان قانون ساز ایوانوں میں بل پیش کیا جاتا ہے۔

آزادکشمیر میں بھی دیگر خود مختار ریاستوں سے مشابہت رکھتا نظام حکومت قائم ہے جس کے بااختیار انتظامی سربراہ وزیر اعظم کہلاتے ہیں جبکہ صدر ریاست آئینی سربراہ ہوتے ہیں۔

آزاد کشمیر میں 49 کے ایوان میں ممبران اسمبلی اکثریتی ووٹوں کے ذریعے وزیر اعظم کو منتخب کرتے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کے امیدواروں میں سے جو امیدوار 25 ووٹ حاصل کر لے وہ منتخب ہو جاتا ہے اسی طرح جب عدم اعتماد کی تحریک لانی ہو توایوان میں موجود ممبران سپیکرسیکرٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کراتے ہیں۔

تحریک عدم اعتماد کے اس بل پر ایوان میں موجود اکثریتی ممبران کے دستخط موجود ہونا بھی ضروری ہوتے ہیں جبکہ اس بل پر یہ نئے وزیر اعظم کو بھی نامزد کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ بل وصول کرنے اور اس کی صحت پر اطمینان کے بعد سپیکر پابند ہوجاتا ہے کہ وہ اگلے سات ایام کے اندر اسمبلی کا اجلاس بلائے اور وزیر اعظم کو کہے کہ وہ اکثریتی ممبران سے اعتماد کا ووٹ لیں۔

ان ایام میں اگر فریق اول تحریک عدم اعتماد واپس لینا چاہے تو اسے یہ بھی حق حاصل ہوتا ہے۔ اگر وزیراعظم اسمبلی اجلاس میں اکثریتی ووٹ حاصل کر لیتے ہیں تو ان کا اقتدار بچ جاتا ہے وگرنہ اسمبلی ٹوٹ جاتی ہے اور اسپیکر نئے قائد ایوان کیلئے بل پیش کر دیتے ہیں اور تحریک عدم اعتماد میں نامزد امیدوار کے نام پر ارکان سے ووٹ کیلئے کہا جاتا ہے۔ اگر اکثریتی ووٹ اس امیدوار کو حاصل ہو جاتے ہیں تو وہ نامزد امیدوار نیا قائد ایوان یعنی وزیر اعظم بن جاتا ہے۔

وزیر اعظم کسی اہم وجہ یا خدشے کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر اسمبلی توڑنا چاہے تو اسے یہ بھی حق حاصل ہوتا ہے۔ اس صورت میں وزیر اعظم اسمبلی توڑنے کیلئے صدر ریاست کو سمری ارسال کرتا ہے کہ آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی توڑ دی جائے۔سمری وصول کرنے کے بعد صدر ریاست پابند ہوتا ہے کہ وہ اسمبلی ٹوٹنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دے۔ اگر صدر ریاست اگلے 48 گھنٹے کے اندر اسمبلی توڑنے کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرے توقانون کے تحت یہ اسمبلی خود بخود تحلیل ہو جاتی ہے۔

اگرایوان کے ممبران وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد سپیکر سیکرٹریٹ میں جمع کرا دیں تو اس کے بعد وزیر اعظم اسمبلی توڑنے کی تحریک کرنے کا اہل نہیں رہتاجبکہ اسمبلی توڑنے کی سمری صدرکےوصول کرنےکےبعد تحریک عدم اعتماد جمع نہیں ہوسکتی۔یہ دونوں عمل سرانجام دینےسےقبل انتہائی خفیہ رکھے جاتے ہیں کیونکہ اگروزیراعظم کوتحریک عدم اعتماد فائل ہونے سے قبل اطلاع مل جائےتو وہ اسمبلی توڑسکتےہیں جبکہ وزیراعظم کے اسمبلی توڑنے کی کنفرم خبرپاکر ممبران وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاسکتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں ذرائع کہتے ہیں کہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدرکو ہٹانےکےخواہشمندممبران قدم پھونک پھونک کررکھ رہےہیں اوروزیراعظم بھی ذہنی طورپرتیار معلوم ہوتےہیں کہ وہ عدم اعتماد کی صورت میں اسمبلی توڑدیں۔

وزیراعظم نے اعلان کررکھاتھاکہ وہ کسی بھی صورت میں کابینہ میں اضافہ نہیں کرینگے۔مختصرکابینہ کےنقطہ نظرکےتحت گیارہ وزراء اورایک مشیرکیساتھ راجہ فاروق حیدرنےتقریباً پونےدو سال گذار دیئےہیں اوراب ان پردباؤ ہےکہ وہ کابینہ میں اضافہ کریں۔مسلم لیگی ممبران اسمبلی کی وزیربننے کی خواہش پوری نہ ہونےسمیت تین اور تین سےزائدمحکموں کےپورٹ فولیوز رکھنےکےباوجود تین سے چاروزراء کے علاوہ خود کو بے اختیارتصور کرتے ہیں۔اس صورتحال میں بااختیاروزیر یا وزیراعظم بننے کی خواہش اور اپوزیشن اراکین اسمبلی کی حکومت گرانےکی تمناان سب کو وزیراعظم کے خلاف ایک نقطے پرجمع کرنےکی موجب ہے۔

ذرائع کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر مقتدرحلقوں میں سے بااثرلوگوں کے فیورٹ نہیں ہیں تاہم وہ مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کےقریب ہیں۔بتایایہ بھی جارہا ہے کہ وہ مسلم لیگ کے مرکز میں طاقتور گروپ کے بھی فیورٹ نہیں ہیں جبکہ مقتدرحلقوں میں کچھ افراد انکی حمایت بھی کرتے ہیں جسکی وجہ سے یہ حالات پر منحصر ہےکہ مقتدرحلقوں اورمسلم لیگ میں فاروق حیدرکےخلاف گروپ کوممبران اسمبلی کے ذریعے پذیرائی ملتی ہے یاپھر مقتدر حلقوں اورمسلم لیگ کاوہ گروپ بھاری پڑتا رہیگا جو فی الحال راجہ فاروق حیدرکی حمایت میں کھڑا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
پشاور میں پشتون تحفظ مومنٹ کے زیراہتمام جلسہ کا انعقاد
تحریک انصاف نے ق لیگ کی ایک اور وکٹ گرا دی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »