وزیراعظم نے آئی جی پنجاب کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار     No IMG     وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سانحہ ساہیوال پر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی کو مزید وقت دینے سے انکار کر دیا ہ     No IMG     ای سی جی رپورٹ میں نواز شریف کے دل کا سائز بڑھا ہوا نظر آیا۔ طبی معائنے کے بعد اسپتال داخل کرنے کا فیصلہ     No IMG     انڈونیشیا میں ایک بار پھر 6.6 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا     No IMG     حب کے قریب بیلہ کراس پر مسافر کوچ اور ٹرک کے درمیان تصادم کے بعد آگ لگنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہوگئی     No IMG     پنجاب اور سندھ کے متعدد شہروں میں دھند کا راج برقرار     No IMG     سانحہ ساہیوال کی فائل دبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ، حادثے کی جگہ کے تمام شواہد ضائع کر دیئے     No IMG     مسلم لیگ ق نے کا تحریک انصاف کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو تحفظات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ     No IMG     تحریک انصاف نے سابق صدرآصف علی زرداری کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال پر بغیر تحقیقات کے بیانات دینے پر وزرا اور پنجاب پولیس پر سخت اظہار برہمی     No IMG     وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی جسٹس ثاقب نثارپرتنقید، موجود چیف جسٹس کی تعریف     No IMG     برطانیہ میں بھی برف باری سے شدید سردی     No IMG     برطانیہ کے سابق وزیراعظم کے جان میجر نے موجودہ وزیرِاعظم تھریسا مے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورپ سے علیحدگی (بریگزٹ) پر ریڈ لائن سے پیچھے ہٹ جائیں     No IMG     میکسیکو میں پیٹرول کی پائپ لائن میں دھماکے اور آگ لگنے کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 73 ہوگئی     No IMG     امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات     No IMG    

آئی ایم ایف کی ”کڑوی گولی“سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو ملک شدید بحرانوں کا شکار ہوجائے گا‘رپورٹ
تاریخ :   30-10-2018

اسلام آباد ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) موجودہ حکومت کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارے یا انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کرنے کے فیصلے سے پہلے اور بعد میں ملک میں اس موضوع پر جتنی بحث ہوئی شاید ہی اس سے پہلے کبھی ہوئی ہو. اسی شور شرابے میں وزیرِ اعظم، عمران خان کو خود

یہ کہنا پڑا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے کوئی قیامت نہیں آ جائے گی‘ پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے سے قبل اور بعد میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا تھا کہ ملک اس وقت شدید معاشی بحران میں مبتلا ہے اور وہ اسے مشکلات سے نکالنا چاہتی ہے،سابقہ حکومت کا دعوی ہے کہ اس نے ملک کی معیشت بہتر کر دی تھی لیکن موجودہ حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے حالات بگڑ گئے.
تاہم گزشتہ حکومت کا یہ بھی ماننا تھا کہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرنا ناگزیر ہے‘ موجودہ حکومت ماضی میں اس فیصلے کی شدید ناقد رہی کہ نہ صرف عوام کی اکثریت اس فیصلے سے ناخوش ہے، بلکہ بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی اسے ملک گروی رکھنے کے مترادف سمجھتے ہیں. یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئی ایم ایف سے رجوع کرنا واقعی کوئی ناقابل معافی جرم یاملک دشمنی ہے؟ آئی ایم ایف یا انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ایک بین الاقوامی ادارہ ہے، جسے عالمی مالیاتی معاملات میں توازن برقرار رکھنے کے لیے قائم کیا گیاتھا‘ آئی ایم ایف کی بنیادی ذمے داریوں میں مالی معاملات میں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا، مالی استحکام کے لیے معاونت کرنا، بین الاقوامی تجارت کے لیے سہولتیں فراہم کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور پائے دار ترقی اور غربت کا خاتمہ شامل ہے‘ اس وقت آئی ایم ایف کے رکن ممالک کی تعداد 189ہے اور اس کا مرکزی دفتر واشنگٹن میں واقع ہے.
آئی ایم ایف کا قیام 1945ءعمل میں آیا اور اس کا مقصد دوسری عالم گیر جنگ کے نتیجے میں تباہ حال ممالک کی بحالی تھا، جب کہ آج یہ ادارہ مختلف ممالک کو بین الاقوامی ادائیگیوں میں مدد فراہم کرتا ہے. 2007ءکے عالمی مالیاتی بحران پر قابو پانے میں آئی ایم ایف نے بنیادی کردار ادا کیا تھا، جس کی وجہ سے مالی ابتری کے شکار ممالک کی معیشت بحال ہوئی.
یہاں ایک سوال یہ بھی جنم لیتا ہے کہ آخر آئی ایم ایف کے پاس اس قدر سرمایہ کہاں سے آتا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ امیر ممالک کا ایک گروپ اسے سرمایہ فراہم کرتا ہے، جس میں امریکا، چین، جاپان، کینیڈا، جنوبی کوریا اور بھارت سمیت دولت مند یورپی ممالک شامل ہیں. ایک اندازے کے مطابق اس وقت آئی ایم ایف کے پاس تقریباً 645ارب ڈالرز موجود ہیں جن میں سے یہ ادائیگیوں کے عدم توازن سے دوچار ممالک کو فنڈز فراہم کرتا ہے.
لہذا یہ کہنا کسی طور پر د±رست نہیں کہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا بھیک مانگنے اور اس کی اطاعت قبول کرنے کے مترادف ہے‘ جب کوئی ملک مالی مدد کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرتا ہے، تو یہ ادارہ اس ±ملک کی اقتصادی صورتِ حال جانچنے کے لیے وہاں ماہرین کی ایک ٹیم بھیجتا ہے، جو ملک کے مالیاتی نظام کو راہِ راست پر لانے کے لیے تجاویز دیتی ہے. جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پاکستان میں آئی ایم ایف کو ملک دشمن ادارہ سمجھاجاتا ہے، تو اس کا سبب ہمارے سیاست دان ہیں، جنہوں نے اسے مستقلاً ہدفِ تنقید بنایا، جس کے نتیجے میں عوام میں آئی ایم ایف کا منفی تاثر پیدا ہوا.
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس وقت ہماری معیشت مشکلات سے دوچار ہے اور آئی ایم ایف کی مدد لینا ہی بہتر حل ہے‘ گو کہ معاشی ماہرین اس فیصلے کو ”کڑوی گولی“ قرار دے رہے ہیں، لیکن وہ اس سے اختلاف بھی نہیں کرتے. پاکستان کی آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے، تو پتا چلتا ہے کہ پہلی مرتبہ ذوالفقار علی بھٹّو کے دورِ حکومت میں عالمی مالیاتی ادارے سے قرضہ لیا گیا تھا اور اب تک 12مرتبہ اس عمل کودہرایا جا چکا ہے، جبکہ آخری پیکیج 2016ءمیں ختم ہوا‘ مالی سال میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو 5.2فی صد پر پہنچ گئی اور رواں مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے شرحِ نمو کا ہدف 5.8فی صد مقرّر کیا گیا، لیکن موجودہ معاشی صورتِ حال کے پیش نظر عالمی بینک کا اپنی تازہ رپورٹ میں کہنا ہے کہ جی ڈی پی کی شرحِ نمو 4فی صد کے لگ بھگ رہے گی اور آئندہ دو برسوں تک ملک کو شدید مالی و اقتصادی مشکلات کا سامنا رہے گا.
ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی اور انہیں سمجھے بغیر بیل آﺅٹ پیکیج سے بھرپور استفادہ ممکن نہیں‘ماہرین اس امر کی جانب بھی تو جہ دلاتے ہیں کہ آئی ایم ایف کا پیکیج کسی ملک کی بیمار معیشت کے لیے کڑوی گولی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی وجہ سے ترکی، جنوبی کوریا اور برازیل سمیت کئی ممالک کی بیمار معیشتیں شفایاب ہوئیں‘ خود پاکستان بھی اس سے کئی مرتبہ فائدہ اٹھا چکا ہے‘ لہٰذا، ہمیں زیادہ مایوس ہونے اور مایوسی پھیلانے کی ضرورت نہیں.
اگر ہم آئی ایم ایف کے پیکیج میں پوشیدہ مفادات حاصل کرنے میں کام یاب ہو گئے، تو معاشی بحران سے نکلنے کی راہ ہم وار ہو سکتی ہے‘ آئی ایم ایف قرضہ دیتے وقت بحران زدہ ملک کے سامنے چند شرائط رکھتا ہے‘ مثال کے طور پر سبسڈی یا زرتلافی ختم کرنے کا پرزور اِصرار کیا جاتا ہے‘ ہمارے ہاں حکومت عموماً پیٹرول سمیت دیگر اشیا ئے صَرف پر سبسڈی دیتی ہے.
آئی ایم ایف کی ایک اور کڑی شرط کرنسی کی قدر میں کمی لانا ہے‘ رواں مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیرِ خزانہ، مفتاح اسماعیل نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو 10فی صد کم کیا تھا اور موجودہ حکومت نے اس کی وقعت مزید گھٹادی. کرنسی کی قدر کم ہونے سے افراطِ زر بڑھ جاتا ہے اور عوام کو ہوش ربا مہنگائی کا سامنا کرناپڑتا ہے . آئی ایم ایف سے قرضہ یا بیل آﺅٹ پیکج لینا، تو آسان ہے، لیکن اگر حکومت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرے، تو اس کے چنگل میں پھنس جاتی ہے اور اگر فراست پر مبنی اقدامات کرے، تو یہ ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے.

Print Friendly, PDF & Email
دیرینہ دشمنی پر مخالفین نے ایک ہی خاندان کے چارافراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا
پی ٹی اے نے دوبارہ عوام کے سروں پر تلوار لٹکا دی15نومبر کے بعد غیررجسٹرڈ موبائل فون بندکرنے کا فیصلہ
Translate News »