وینزویلا سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ نوجوان لڑکی نے ملکہ حسن کا ٹائٹل جیت لیا     No IMG     حزب اللہ کی ايک اور سرنگ دريافت ,اسرائیلی فوج کا دعوی     No IMG     عوام اپنے مسائل کے حل کیلیے وزیر اعظم کمپلینٹ پورٹل کا استعمال کریں،وزیراعظم     No IMG     سابق صدر آصف زرداری نے پنجاب کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دے دی     No IMG     رشوت کا سب سے بڑا ناسور پٹواری ہیں, چیف جسٹس     No IMG     فرانسیسی پولیس نے پیلے رنگ جیکٹس والے مظاہرین پر شدید تشدد     No IMG     اسلام آباد تھانہ سہالہ میں شدید فائرنگ, بدنام زمانہ شیرپنجاب جاں بحق     No IMG     اگر گرفتار ہوا تو کیا ہوگا کیونکہ جیل تو میرا دوسرا گھر ہے, آصف علی زرداری     No IMG     امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا نیا وزیر داخلہ مقرر کرنے کا اعلان     No IMG     اٹلی میں ہزاروں مظاہرین نے مہاجر مخالف قوانین کے خلاف مظاہرہ     No IMG     پاکستانیوں کے دل پر آرمی پبلک سکول (اے پی ایس ) پشاور میں لگنے والے زخم کو چار سال مکمل ہوگئے     No IMG     رائے ونڈ, چینی انجنئیر، جیا جینیفر پر دل ہار بیٹھا     No IMG     سپین میں یہ بیٹا ایک سال تک ماں کی لاش کے ساتھ کیوں رہا ؟     No IMG     سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے صحافی جمال خاشقجی کے قاتل سعود القحطانی کو معاف کردیا     No IMG     سری لنکن صدر نے برطرف وزیر اعظم کو دوبارہ وزیر اعظم منتخب کرلیا     No IMG    

آئینی ترامیم کوئی واپس نہیں لے سکتا وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان
تاریخ :   28-06-2018

مظفرآباد:(ورڈ فاسٹ نیوز فار یو) وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ایکٹ 74میں ترامیم سے متعلق کچھ خاص عناصر ابہام پیدا کرنا چاہتے ہیں اور بلا جواز پراپیگنڈا کررہے ہیں تیرویں آئینی ترامیم کے تحت کونسل کے مالیاتی ،انتظامی ،قانون سازی کے

اختیارات مکمل طورپر ختم کر دیے گئے ہیں ، تیرہویں آئینی ترامیم کی منظوری میں تمام سٹیک ہولڈرز بشمول وفاقی کابینہ ، نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی رضا مندی شامل ہے ان ترامیم کو کوئی واپس نہیں لے سکتا ، آئینی ترامیم کی متعلق ابہام کونسل کے چند ملازمین اور اس سے مستفید کنندگان پیدا کر رہے ہیں جن کے ذاتی مفادات ختم ہو گئے ہیں تیرویں ترمیم کو کوئی واپس کرنے کا نہ سوچے نہ ایسا ہونے دینگے اور نہ ایسا کرنے کی کسی میں جرات ہے ۔کشمیر کونسل کا دس سال کا فرانزک آڈٹ کروائیں گے ۔آئینی ترامیم کے ذریعے اسلام آباد اور مظفرآباد کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ مزید مظبوط ہو گا اور اب اسے آئینی شکل دی گئی ہے ۔آئین میں دو تہائی اکثریت سے اب ترمیم ہو سکے گی اب تمام ٹیکسز وصول کرنے کا اختیار حکومت آزادکشمیر کے پاس ہے تیرویں آئینی ترمیم کو رکوانے کے لیے آخری وقت تک سازشیں جاری رہیں لیکن اللہ کی حمایت و نصرت سے یہ بڑا کام کرنے میں کامیاب رہے ترمیم حتمی نہیں ان میں اگر کوئی گنجائش رہ گئی ہے تو اسے مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے پاکستان میں اٹھارویں ترمیم کے بعد سے لیکر اب تک کتنی ترامیم آچکی ہیں ۔ترمیم کے تحت اب آزادکشمیر میں ایکٹ نہیں آئین ہے آزادکشمیر کے عوام کو بااختیار بنایا جارہا ہے راجہ محمد فاروق حیدر خان وزیراعظم سیکرٹریٹ میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل فرحت علی میر ،سیکرٹری قانون ارشاد قریشی ،ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ اظہر اقبال بھی موجود تھے ۔پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ کشمیر کونسل کا خاتمہ وزیراعظم پاکستان کا فیصلہ تھا اگرچے خواہش ہماری بھی تھی مگر ہم نے اپنی تجاویز میں اس کا ذکر نہیں کیا تھا وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ کونسل کا کام کیا ہے یہ کرتی کیا ہے ؟آئینی ترامیم میں خصوصی تعاون کرنے پر محمد نوازشریف اور بالخصوص شاہد خاقان عباسی کے شکرگزار ہیں ۔جب اختیارات کی تقسیم یا منتقلی ہوتی ہے تو کچھ پیچیدگیاں بھی ہوتی ہیں ہماری کوشش ہے کہ آئینی ترامیم کے بعد کے معاملات خوش اسلوبی سے طے ہوں آئینی ترمیم ے بعد ایک خاص گروہ جان بوجھ کر پیچیدگیاں پیدا کررہا ہے اور غلط پروپیگنڈے میں مصروف ہے کشمیر کونسل کی طرف سے سابق وفاقی حکومت کے آخری دنوں میں ایسی قانون سازی کی کوشش کی گئی جس کی مثال نہیں ملتی کونسل ملازمین یہ چاہتے تھے کہ ایسا قانون پاس کروایا جاے کہ وہ احتساب بیورو کے سامنے جوابدہ نہ ہوں اور جو غیر قانونی تقرریاں ہوں انہیں تحفظ دیا جاے ۔سٹیٹ سبجیکٹ ہولڈرز کو ایک وقت میں کونسل ملازمت پر پابندی لگائی گئی ۔قانون سازی کی کوشش کو وزیراعظم پاکستان نے مسترد کر دیا آزادکشمیر اسمبلی کے ووٹوں سے منتخب ممبران اسمبلی نے ایک خط لکھا جو مختلف جگہوں پر پہنچایااس کی جتنی مذمت کی جاے کم ہے ۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ مخالفین کی طرف سے عجب تماشہ شروع کیا گیا ہے کہ ایک طرف کہتے ہیں کہ ریاست کو خود مختار بنا دیا گیا ہے اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ سب کچھ دیکر آگے ہیں انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم ے معاملے پر کونسل کے بعض لوگوں نے سازشیں کیں اور اخری دنوں میں کونسل کے دفتر میں جش فتح منانے کی تیاریاں کی گئیں تھیں لیکشن رب کریم کے خصوصی کرم نے انہونی کو ہونی میں بدلا اور شاہد خاقان عباسی نے بھرپور تعاون کیا پیسے کی طاقت سے آئینی ترامیم کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تمام سازشیں ناکام ہوئیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ نظریاتی تعلق ہے آزادکشمیر کے مالیاتی و انتظامی اختیارات میں اضافہ ہوا ہے یہ خود مختار ملک نہیں کچھ لوگ ذاتی عناد میں مخالفت کرتے ہوے قومی مفاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ کارپوریشن ٹیکس کے متعلق منفی اور جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا یہ ٹیکس دوسری مد میں تبدیل ہو چکا ہے آئین میں واضح طورپر لکھا ہے کہ ٹیکس وصولی کا اختیار کلی طورپر آزادکشمیر حکومت کا ہے ۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے آزادکشمیر کے اختیارات کم کیے ایکٹ چوہتر جس انداز سے اندھیرے میں پاس ہوا اس سے سب آگاہ ہیں اس وقت ممبران اسمبلی کو یہ ایکٹ پڑھنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر کو تبدیلی قلب کی ضرورت ہے کشمیر کونسل ایسا ادارہ ہے جو کشمیر کے لیے قائم ہوا اور اس ادارے نے قانون پاس کیا کہ کشمیر کا سٹیٹ سبجیکٹ رکھنے والا فرد اس ادارے میں ملازمت حاصل نہیں کر سکتا کونسل سیکرٹریٹ کے دو سو نوے ملازمین میں سے صرف پچیس آزادکشمیر سے ہیں جبکہ باقی محکمہ جات جن میں حسابات ،ان لینڈ ریونیو کے محکمہ جات اس کے علاوہ ہیں ۔ٹیکس کااختیار آزادکشمیر حکومت کو ملنے کے بعد ہم چھ سے اٹھ ارب روپے کے اضافی ٹیکس جمع کر سکتے ہیں بہت جلد آزادکشمیر کے ٹیکس دہندگان کو پاکستان کے برابر ٹیکس کی سہولیات ملیں گی ۔اس سلسلہ میں چیف سیکرٹری آزادکشمیر کی ایف بی آر سے میٹنگ ہو چکی ہے ۔آزادکشمیر کے مالیاتی اختیارات میں اضافہ ہوا ہے لیگی حکومت نے وفاقی محصولات میں آزادکشمیر کا حصہ دو عشاریہ چار فیصد سے بڑھا کر تین عشاریہ چھ فیصد تک کر دیا ہے ٹیکسز کی شرح میں اضافے سے اب ہمیں سالانہ 49 ارب روپے ملیں گے اب گرانٹ نہیں لیں گے اپنی چادر دیکھ کر پاوں پھیلائیں گے اب حکومت آزادکشمیر کو نائب قاصد سے لیکر گزیٹیڈ تک آسامیوں کی تخلیق کے لیے وفاقی وزارت خزانہ کے ڈپٹی سیکرٹری کی اجازت نہیں لینا پڑیگی آزادکشمیر کا ہر باشعور آدمی تیرویں آئینی ترمیم کے حق میں ہے تاہم کچھ لوگوں کو تکلیف بھی ہے وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ تیرویں آینی ترمیم کی منظوری کے وقت صورتحال آئیڈیل نہیں تھی اس حوالے سے کچھ راز میرے سینے میں ہیں اور دفن ہی رہینگے ۔کونسل کے ملازمین اور اب آزادحکومت کے ملازمین ہیں اور میں نے ان ملازمین کوتیس جو ن تک تنخواہوں کی ادائیگی کی منظوری دی ہے ۔ ٹیکس آن کارپوریشن پہلے اکانٹ نمبر 105میں جمع ہوتا تھا ۔اب آزادکشمیر حکومت کے سرکاری اکانٹ نمبر 101میں جمع ہو گا، ترامیم پر تنقید کرنے والوں سے چوہدری ریاض اور رضوان قریشی کی چاپلوسی کے سوا کچھ نہیں ہو سکا ، ہم کسی کے بلاتنخواہ سپاہی نہیں ہیں ، تنحواہیں بھی لیں گے، تنخواہ میں اضافہ اور پینشن بھی لیں گے۔ کونسل کے حامی بتائیں کہ وہ آزادکشمیر کے شہریوں کے لیے دہر ا ٹیکس کیوں ختم نہ کرا سکے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم راجہ محمدفاروق حیدر خان نے آزادکشمیر میں آئینی ارتقا پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور ایکٹ1968،ایکٹ 1970اور عبوری آئین 1974ایکٹ کے تحت آزادکشمیر کو حاصل مالیاتی ، انتظامی اختیارات بیان کیے ا ۔ انہوں نے کہا کہ ایکٹ 1970کو تبدیل کرانے اورکرنے میں پیپلز پارٹی شامل ہے جس کے نتیجہ میں تمام مالیاتی و انتظامی اختیارات کشمیر کونسل کو مل گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 1970میں پہلی بار جنرل یحی خان نے آزادکشمیر کی عوام کو ایکٹ کے ذریعے وون میں ون ووٹ کے ذریعہ حق حکمرانی دیا ۔1970میں ہی ایک اتحاد ثلاثہ بنا جس میں مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان ، غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان ، خورشید حسن خورشید شامل تھے۔ون مین ون ووٹ کے فارمولا کے تحت انتخابات ہوئے اور جنرل رحمن صدر منتخب ہوئے ۔ آزادکشمیر کے سرکاری ملازمین کو پاکستان میں سرکاری ملازمین کے برابر مراعات دی گئیں ۔ سول سٹرکچر کو حکومت پاکستان کیبرابر کیا گیا اور آج ہم آزادکشمیر کو اس سطح پر لے آئے ہیں کہ ہم گریڈ 22بھی دے سکتے ہیں۔ عبوری ایکٹ 74میں کشمیر کونسل کی شکل میں ایک مصیبت نازل کی گئی جس کی ذمہ دار پیپلزپارٹی تھی مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ نے ایکٹ 74 کو مسترد کر دیا تھا بعد ازاں دبا کے نتیجہ میں براہ راست پاس ہوا۔منظوری سے قبل یہ کسی سلیکٹ کمیٹی کے پاس نہیں گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج بہت ۔۔۔۔قسم کے لوگ سیاست میں آ گئے ہیں ۔ہمارے سیاستدانوں نے کمزوری دکھائی ،آزادکشمیر کے اختیارات کم کرانے میں ہمارے اپنے لوگوں کا بھی کردار تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو بحیثیت وزیراعظم پاکستان کشمیر کونسل کے چیئرمین بنے اور کونسل نے بہت ہی نتوڑ کرنا شروع کر دیے جس سے آزادکشمیر حکومت بے دست و پا ہونا شروع ہو گئی۔ موجودہ تیرہویں آئینی ترامیم کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دسمبر 2016میں سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف آزادکشمیر تشریف لائے تو مین نے انہیں کونسل کے متعلق بریفنگ وزیر اعظم نے میری گفتگو سنی تو انہوں نے کہا کہ میں 120%آپ کی بات سے اتفاق کر تا ہوں ان کو جب میں نے پانی ،بجلی اور ٹیرف وغیرہ کے متعلق بتایا کہ کے پی کے میں واٹر رویو چارجز ایک روپیہ دس پیسہ ہیں جبکہ ہمیں صرف دس پیسہ یونٹ دیے جار ہے ہیں انہوں نے کہا کہ آپ نے مجھ سے اسلام آباد میں بات کرنی ہے بعد ازاں یہ اجلاس نہ ہو سکا۔ مگر جاتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ آپس سے پہلے تو یہاں بڑے بڑے لیڈر آئے انہوں نے یہ باتیں کیوں نہ کیں ؟راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے ساتھ ان موضوعات پر بات چیت کے بعد ہی آئینی اصلاحات پر عملی طور پر کام شروع ہوااور 18سال بعد 7جون کو پاورپرچیز ایگر یمنٹ پرپیش رفت ہوئی ہے یہاں بڑے بڑے سیاسی لیڈر گزرے ہیں مگر ان کو ان قومی ایشوز پر بات کرنے کی توفیق حاصل نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ

Print Friendly, PDF & Email
قصور میں عدلیہ مخالف ریلی نکالنے والے اپنے انجام کو پہنچ گئے عدالت نے ن لیگی رہنماؤں کو بڑی سزا سنا دی
فواد چوہدری کو این اے 67 جہلم سے الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
Translate News »